مخالفین کے افکار کی تنقید کرنا

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 

مخالفین کے افکار کی تنقید کرنا

سوال: بہت سے اشخاص سربستہ نظریوں پر عمل کرتے اور فقط اپنے نظریے کے نشر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، لیکن کچھ دوسرے افراد معاشرے کے افکار کی ترقی کی خاطر غیروں کے نظریوں کوبیان کرتے اور ان کی تنقید کرتے، اور ایک طرح سے نظریوں کے درمیان مقائسہ کرتے ہیں (اگرچہ وہ دوسرے صاحبان نظر بے دین، یا اسلامی حکومت کے مخالف ہی کیوں نہ ہو) آئمہ معصومین علیہم السلام کی سنت کو مدّنظر رکھتے ہوئے (جیسے امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام محمد باقر علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا زندیقوں وغیرہ کے ساتھ گفتگو کا طریقہ تھا) ان میں سے کون سی روش اسلامی معاشرے کی مصلحت میں ہے؟
جواب دیدیا گیا: جب تک غیروں کے نظریوں کا بیان کرنا اور ان کی تنقید کرنا مسلمانوں کی فکری اور تہذیبی ترقی کا سبب ہوتا ہو، تو اس طریقہ کار کو اپنانا چاہیے اور کسی جگہ پر تخریبی صورت اختیار کرلے تو اس سے پرہیز ضروری ہے ۔
CommentList
Tags
*متن
*حفاظتی کوڈ غلط ہے. http://makarem.ir
قارئین کی تعداد : 2079