ج : امتوں کے امور کی اصلاح

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اهداف قیام حسینى
د : پوری دنیا کی اصلاحب : خاندانوں کے امور کی اصلاح

ہم یہاں پر معاشرہ کی اصلاحات کی اہمیت کومدنظر رکھتے ہوئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے زمانہ کی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اورحضرت شعیب سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” قالَ یا قَوْمِ اٴَ رَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنْتُ عَلی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَ رَزَقَنی مِنْہُ رِزْقاً حَسَناً وَ ما اٴُریدُ اٴَنْ اٴُخالِفَکُمْ إِلی ما اٴَنْہاکُمْ عَنْہُ إِنْ اٴُریدُ إِلاَّ الْإِصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَ ما تَوْفیقی إِلاَّ بِاللَّہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ إِلَیْہِ اٴُنیب“ ۔ حضرت شعیب نے کہا کہ اے میری قوم والو! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں خدا کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں اور اس نے مجھے بہترین رزق عطا کردیا ہے (کیا میں اس کے حکم کے خلاف کام انجام دے سکتا ہوں؟!)اور میں یہ بھی نہیں چاہتا ہوں کہ جس چیز سے تم کو روکتا ہوں خود اسی کی خلاف ورزی کروں، میں تواستطاعت کے مطابق صرف اصلاح چاہتا ہوں ۔ میری توفیق (اس کام میں)صرف اللہ (کی مدد )سے وابستہ ہے اسی پر میرا اعتماد ہے اور اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے (1) ۔
انبیاء الہی میں سے ہر ایک نبی اپنے اپنے زمانہ میں خاص مشکلات سے دوچار رہا ہے جن مشکلات کی وہ اصلاح کرتے تھے ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے زمانہ میں معاشرہ مالی اور اقتصادی مشکلات سے دو چار تھا اور بازار اور مال کی کمی نے ان کو بیمار کررکھا تھا ۔ حرام معاملے،کم فروشی، خیانت، اموال میں ظلم وغیرہ بہت زیادہ تھا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو خدا کی طرف سے حکم ملا کہ ان برائیوں کا سد باب کریں، اور اپنی امت کی اصلاح کریں(2) ۔

 

 


 

1۔ سورہ ھود ،آیت ۸۸۔
2۔ ” ان ارید الا الاصلاح ما استطعت“ کا نعرہ صرف حضرت شعیب (علیہ السلام) کا نعرہ نہیں تھا بلکہ تمام انبیاء اور تمام سچے رہبروں کا نعرہ یہی تھا ، ان کی رفتار و گفتار اس مقصد پر شاہد ہے ۔ یہ نہ تو لوگوں کا دل بہلانے کے لئے آئے تھے اور نہ گناہوں کو معاف کرانے،نہ بہشت پیچنے کے لئے آئے تھے اور نہ آرزومندوں کی حمایت کرنے کیلئے ، بلکہ ان کا مقصد مطلق اصلاح تھا ، فکر و نظر میں اصلاح، اخلاق ، تہذیب و تمدن، اقتصاد، سیاست اور معاشرہ کے تمام امور کی اصلاح تھااور اس مقصد کو کامل کرنے کیلئے یہ لوگ خدا پر تکیہ کرتے تھے اور کسی بھی طرح کے فتنہ اور دھمکی سے ڈرتے نہیں تھے(تفسیر نمونہ، ج۹، ص ۲۶۷) ۔

 

د : پوری دنیا کی اصلاحب : خاندانوں کے امور کی اصلاح
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma