نواں مقصد تمام مسلمانوں کا بڑا امتحان

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اهداف قیام حسینى
اس مقصد کا پیغام

امام حسین (علیہ السلام) کا قیام اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک امتحان تھا ۔
بہت سے زیادہ دعوی کرنے والے شیعہ حضرات جو اپنے آپ کو امام حسین (علیہ السلام) کا فدائی جانتے ہیں ،ان کو اپنا امتحان لینا چاہئے، اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے باقیماندہ اصحاب،اور مددگار، جنہوں نے بارہا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے امام حسن (علیہ السلام) اور امام حسین (علیہ السلام) کے صفات کو سنا تھا اور جو لوگ آرزو کرتے تھے کہ جنگ بدر و احد میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اور شربت شہادت نوش کرتے اور وہ لوگ جو کف افسوس ملتے تھے کہ ائے کاش حضرت علی (علیہ السلام) کے ساتھ ”ناکثین“ ، قاسطین“، اور ”مارقین“ سے جنگ کرتے ، ان سب کا امتحان لینا ضروری تھا ،لیکن اس عظیم امتحان سے صرف ایک پاک و پاکیزہ گروہ کامیاب ہوا ، اور سونا چاندی جمع کرنے والا دوسرا گروہ جب اس امتحان میںداخل ہوا تو کامیاب نہ ہوسکا ۔
خوش بود گر محک تجربہ آید بہ میان
تا سیہ روی شود ہر کہ در و غش باشد
ایک شخص نے امام (علیہ السلام) کو کربلا جانے سے منع کیا تو آپ نے اس کے جواب میں فرمایا : ” اذا اقمت فی مکانی فبما یمتحن ھذا الخلق المتعوس ؟ و بماذا یختبرون ؟“۔ اگر میں اپنے گھر بیٹھ جاؤں تو یہ مخلوق جس کی قسمت پلٹ گئی ہے ان کا امتحان کس چیز سے ہوگا، اور کس طرح ان کو آزمایا جائے گا؟(۱) ۔
اس کے علاوہ کھوکھلے اور اپنے کو بڑا جتانے والے افراد بہت زیادہ ہیں جو خداوند عالم کو اپنا مقروض سمجھتے ہیں لہذا ان پر اتمام حجت ہونی چاہئے تاکہ وہ اپنی جگہ پر بیٹھ جائیں،کبھی کبھی مصلحت اس میں ہوتی ہے کہ راز سے پردہ اٹھا دیا جائے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حلقہ احباب کیا ہے؟!
قرآن مجید اعلان کررہا ہے : ” اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تُتْرَکُوا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذینَ جاہَدُوا مِنْکُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّہِ وَ لا رَسُولِہِ وَ لاَ الْمُؤْمِنینَ وَلیجَةً وَ اللَّہُ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ“ (۲) ۔
جی ہاں ! امام حسین (علیہ السلام) کا قیام ان لوگوں کا جواب تھا جو یہ دعوی کرتے تھے کہ ان کے بھائی امام حسن (علیہ السلام) نے معاویہ کے ساتھ کیوں صلح کی تھی، ہم اپنی زندگی کے خون کے آخری قطرہ تک خدا کی راہ میں جنگ کرنے کو تیار تھے ۔ لیکن جب کربلا کا واقعہ پیش آیا تو امام (علیہ السلام) نے آواز دی : ”من کان فینا باذلا مھجتہ ، موطنا نفسہ علی لقاء اللہ فلیرحل معنا“۔ جو بھی ہمارے مقصد کی راہ میں اپنا خون نثار کرنا چاہتا ہے اور خداوند عالم سے ملاقات کے لئے آمادہ ہے وہ ہمارے ساتھ (عراق اور کربلا کی طرف)چلے(۳) ۔ اس وقت وہ سب لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے اور کربلا کے واقعہ کو تماشائی بن کر دیکھتے رہے ۔

کوفہ کے سست لوگوں نے امام حسین (علیہ السلام) کو بہت ہی جوشیلے خط لکھے اور اس میں آپ کو کوفہ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی دعوت دی  ایک روایت کے مطابق ان خطوط کی تعداد بارہ ہزار تھی (۴) ۔
اگر امام (علیہ السلام) کربلا نہ آتے تو یہ بھی امام حسن (علیہ السلام) کے اصحاب کی طرح آپ پر اعتراض کرتے ،لیکن امام کے قیام نے ان سب سے اعتراض کرنے کا موقع چھین لیا اور سب امتحان گاہ میں آگئے ۔



۱۔ لہوف ، ص ۶۷۔ بحار الانوار، ج ۴۴، ص ۳۳۱۔
۲۔ سورہ توبہ ، آیت ۱۶۔ ترجمہ : کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ تم کو اسی طرح چھوڑ دیا جائے گا جب کہ اللہ نے ابھی یہ بھی نہیں دیکھا ہے کہ تم میں جہاد کرنے والے کون لوگ ہیں جنہوں نے خدا -رسول اور صاحبان ایمان کو چھوڑ کر کسی کو دوست نہیں بنایا ہے اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ۔
۳۔ بحار الانوار، ج ۴۴، ص ۱۶۷۔ ۴۔ قصہ کربلا، ص ۹۰ و ۹۱۔
اس مقصد کا پیغام
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma