منافقین کے خطرات

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اهداف قیام حسینى
اس مقصد کا پیغامآٹھواں مقصد منافقین کے چہرہ کو آشکار کرنا

منافق کو پہچاننا آسان ہے ۔ منافق وہ ہے جس کے دو چہرے اور مختلف قسم کی دو شخصیت ہوں ،بقول شاعر :
ظاہری چو گور کافر پر حلل
باطنش قہر خدا عزوجل
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) کی حدیث میں بیان ہوا ہے : ”ثلاث من کن فیہ کان منافقا و ان صام و صلی و زعم انہ مسلم : من اذا ائتمن خان، ومن اذا حدث کذب ، و من اذا و عدا خلف“ ۔ جس میں بھی تین عادتیں پائی جائیں وہ منافق ہے ، چاہے وہ نمازی ہو، روزے رکھتا ہو اور خود کو مسلمان جانتا ہو، اگر اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے گا اور اگر کوئی بات کہے گا تو وہ جھوٹی ہوگی اور اگر کوئی وعدہ کرے گا تواس کو پورا نہیں کرے گا (1) ۔
اس بناء پر جس میں بھی دو طرح کی ظاہری اور باطنی حالتیں پائی جائیں اوراس کی رفتار و کردار ایک نہ ہوں وہ منافق ہے ۔ نفاق اس جگہ سے شروع ہوتا ہے جب دشمن شکست کھاجاتا ہے اور اس میں سامنے آنے کی جرائت نہیں ہوتی تو وہ اندر ہی اندر ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے جس سے سامنے والے کو نیست و نابود کردے ۔ بنی امیہ کا شمار منافقین میں ہوتا ہے ۔
منافقین سے خطرہ اس لئے زیادہ ہے کہ کھلا ہوا دشمن سامنے سے حملہ کرتا ہے اور اس کے مقابل میںمومنین کی ذمہ داری واضح اور روشن ہوتی ہے ، لیکن منافق بہت ہی بے رحمی کے ساتھ پشت میں خنجر مارتا ہے !
بنی امیہ نے اسلامی خلافت کے لباس میں تمام اسلامی مقدسات کو اپنے پیروں کے نیچے روند ڈالا اور ایک کے بعد دوسرے قوانین کو ختم کرتے جاتے تھے ، اگر امام حسین (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب ،قیام نہ کرتے اور ان کے چہرہ سے منافقت کا نقاب نہ اٹھاتے تو اسلام کی کوئی چیزبھی باقی نہ رہتی ۔
اسی طرح کوفہ کے تمام لوگ جو امام حسن (علیہ السلام) پر صلح کی وجہ سے اعتراض کررہے تھے اور امام حسین (علیہ السلام) سے قیام کا تقاضا کررہے تھے ، ان کو ضرور رسوا ہونا چاہئے تھا ۔
بہر حال امام حسین (علیہ السلام) کے خونی قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا ۔

 


1۔ میزان الحکمة ، باب ۳۹۳۱، ح ۲۰۵۷۷۔


اس مقصد کا پیغامآٹھواں مقصد منافقین کے چہرہ کو آشکار کرنا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma