عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی ذات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں!

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
پیام امام امیرالمؤمنین(ع) جلد 1
دوسرا حصہپہلا حصہ

اس خطبہ کے اس حصہ پر ایک مختصر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ امیر المومنین علی(ع) نے اوصاف الہی کی بارہ صفتوں کو منظم و منسجم طور سے بہترین سانچہ میں ڈھالہ ہے:
پہلے مرحلہ میں بتاتے ہیں کہ بندے، خداوند عالم کی مدح وثنا اور اس کا شکر کرنے کے عملی میدان میں کتنے ناتوان ہے(اس مرحلہ میں تین صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔
دوسرے مرحلہ میں اس حقیقت کوبیان کرتے ہیں کہ فکر و عقل کے لحاظ سے بھی کس طرح انسان اس کی عظمت اور اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے میںعاجز ہیں(اس مرحلہ میں دو صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔
تیسرے مرحلہ میں اس بات کی کی دلیل کو بیان کرتے ہیں کہ اس کی ذات پاک ہر طرح سے نامحدود اور اس کی نعمتیں بے شمار ہیں اور اس کی ذات کو درک کرنے یااس کا حق ادا کرنے میں اسی وجہ سے ہم مجبور ہیں(اس مرحلہ میں چار صفتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے)۔
آخر کار چوتھے مرحلہ میں اس جہان کی پیدائش اور مخلوقات کے متعلق اشارہ کرتے ہیں گویااس حقیقت کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی ذ۱ت کو صرف اسی طریقہ سے پہچانا جاسکتا ہے اور یہی ہماری حداکثر طاقت و قدرت ہے(اس حصہ میں اس کے صفات افعال میں سے تین صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے)۔
یہ سب چیزیں گواہی دیتی ہیں کہ اس بزرگ معلم نے اپنے اس خطبہ میں بہت بلند و بالا تعبیرات کا انتخاب کیا ہے جو سب کی سب بہت منظم اور مخصوص نظام کے ساتھ بیا ن کی گئی ہیں۔
اس اجمالی نگاہ کے ساتھ مندرجہ بالا بارہ اوصاف کی طرف پلٹتے ہیں:
امام (ع)اپنی بات کو حمد و ثنائے الہی سے شروع کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں(الحمدللہ الذی لا یبلغ مدحتة القائلون)۔(۱)۔
جب کہ قرآن اور نہج البلاغہ کے بعض مفسیرین جیسے زمخشری نے کشاف، ابن الحدید نے اپنی شرح میں حمد اور مدح کو برابر شمار کیا ہے اور ان دونوں کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح لگتی ہے۔
کیونکہ اس کے صفات ”کمال“ اور صفات ”جمال“ حد سے زیادہ ہیں۔ انسان اور فرشتہ جو کچھ بھی اس کی حمد وثنا کرتے ہیں وہ اپنی شناخت و معرفت کی حد تک کرتے ہیں ، اس کے کمالات کی مقدارتک نہیں۔
جب پیغمبر اکرم(ص)جو کہ خدا کے سب سے بڑے پیغمبر ہیں، ایک مشہور حدیث کے مطابق خداوند عالم کی معرفت سے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”ما عرفناک حق معرفتک“(2)تو دوسرے لوگ کس طرح اس کی معرفت کا دعوی کرسکتے ہیں؟ اور جب انسان اس کی معرفت سے عاجز ہو تو پھر کس طرح اس کی حمد و ثناء کا حق ادا کرسکتا ہے؟ اس بناء پر ہماری ”حمد“ کی سب سے زیادہ حد یہی ہے کہ مولا نے فرمایا ہے یعنی اس کی حمد وثنا کے مقابلہ میں عاجزی اور ناتوانی کا اظہار کرنا اور اس بات کااعتراف کرنا کہ کسی بھی بولنے ولے میں اس کی مدح تک رسائی نہیںہے۔
ایک حدیث میں امام صادق(ع)نے فرمایا ہے: خداوند عالم نے حضرت موسی(ع)پر وحی بھیجی: ائے موسی! میرے شکر کا حق ادا کرو۔ عرض کیا: پروردگارا! کس طرح تیرے شکر کا حق ادا کروںجبکہ جب بھی میں تیرا شکر کرتا ہوں تو یہ خود ایک نعمت ہے جو تو نے مجھے عطاء کی ہے(اور شکر کی توفیق دی اس طرح ایک اور نعمت مجھے عطاء کردی لہذا اس کا بھی شکر ادا کرنا لازم ہے)؟!
فرمایا : ” یا موسی الان شکرتنی حین علمت ان ذلک منی“ اے موسی ! اب تم نے میرا شکر ادا کیا جب تم نے یہ جان لیا کہ یہ بھی میں نے ہی تمہیں عطا کیا ہے(اور تم شکر ادا کرنے سے ناتوان ہو)(3)۔
البتہ ایک لحاظ سے جب انسان کہتا ہے : ”الحمدللہ“ (تمام حمد و ثناء خداوند عالم سے مخصوص ہے)تو حمد و الہی کی کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی ۔ اسی وجہ سے ایک حدیث میں ملتا ہے کہ امام صادق(ع)مسجد سے باہر آئے تو آپ کی سواری غایب تھی، آپ نے فرمایا: اگر خداوند عالم اس کو مجھے پلٹا دے تو اس کے شکر کا حق ادا کروںگا، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ آپ کی سواری واپس آگئی ،اس وقت آپ نے عرض کیا: الحمدللہ! ، کسی نے کہا: (آپ پر قربان ہوجاؤں)آپ نے تو فرمایا تھاکہ خدا کے شکر کا حق ادا کروںگا؟ امام نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے ”الحمدللہ“ کہا ہے (کیا اس سے بڑھ کر کوئی چیز ہے جس کو اس اس کی حمد و ثناء کے لئے مخصوص سمجھوں)(4)۔
دوسری صفت میں آپ فرماتے ہیں: جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے( ولا یحصی نعمائہ العادون )
کیونکہ اس کی مادی و معنوی، ظاہری و باطنی اور فردی و اجتماعی نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کیا جائے۔
انسان کا بدن بے حد و حساب سلول اور جراثیم سے تشکیل پایا ہے(متوسط طور سے ۱۰ ملیون ملیارد)جس میں سے ہر ایک اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ایک موجود زندہ ہے اور ان میں سے ہر ایک ایسی نعمت ہے جس کو دسیوں ہزار سال تک شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ جب انسان خدا کی ان نعمتوں کے چھوٹے سے حصہ کو شمار نہیں کرسکتا تو پھر کس طرح ان سب نعمتوں کو چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی،شمار کرسکتا ہے؟اصلا ہم اس کی تمام نعمتوں سے آگاہ نہیں ہیں تاکہ ان کو شمار کرسکیں،اس کی بہت سی نعمتوںنے ہمارے وجود کا احاطہ کرکھا ہے جو کبھی بھی ہم سے سلب نہیں ہوسکتیں، جس کی وجہ سے ہم ان کے وجود کو درک نہیں کر پاتے(کیونکہ کسی نعمت کا وجود اس کے گم ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے)اس کے علاوہ جس قدر بھی انسان کا علم و دانش وسیع ہوتا جائے گا اسی قدر وہ خدا وند عالم کی جدید نعمتوں کو حاصل کرتا جائے گا۔ ان تمام باتوں کے باوجود قبول کرلینا چاہئے(جیسا کہ مولائے متقیان نے فرمایا ہے)کہ حساب کرنے والے اس کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتے!
یہ جملہ پہلے جملہ کیلئے علت کے طور پر ہوسکتا ہے ، کیونکہ جب اس کی نعمتوں کا شمار نہیں ہوسکتا تو کس طرح اس کی حمد و ثناء اور مدح کو بجا لایا جاسکتا ہے؟
اگر چہ بہت سے بے خبراور ستمگر افراد نے اس کی بہت سی نعمتوں کا منحصر کردیا ہے یااسراف وغیرہ کے ذریعہ ان کوختم کردیا ہے اور بعض لوگوں نے خدا کی مخلوق کو زحمت میں ڈالدیا ہے، لیکن یہ کبھی بھی اس کی نعمتوں کی محدودیت پر دلیل نہیں بن سکتیں۔
تیسری صفت میں آپ فرماتے ہیں: تلاش و کوشش کرنے والے اس کا حق ادا نہیں کرسکتے(چاہے وہ اپنے آپ کو جس قدرپریشان کرلیں) ۔(ولایوٴدی حقہ المجتہدون
حقیقت میں یہ جملہ پہلے جملہ کا نتیجہ ہے ، کیونکہ جب اس کی نعمتوں کو شمارنہیں کرسکتے تو کس طرح اس کے حق کو ادا کرسکتے ہیں؟ اور دوسرے الفاظ میں یہ کہاجائے کہ اس کا حق اس کی ذات کی عظمت کے برابر ہے اور ہماری حمد و شکر ہماری بہت کم طاقت کے مطابق ہے جس کی وجہ سے ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکتے۔ نہ صرف مقام عمل میں اس کی مدح و ثنا کا حق ادا نہیں کرسکتے بلکہ عقل وفکر تک اس کی ذات کو درک نہیں کرسکتیں۔
اسی دلیل کی وجہ سے مزید آپ دو صفتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ خداجس کی کنہ ذات کو پلند پرواز ہمتیں اور فکریں نہیں پا سکتیںہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں(علم و دانش کے سمندر)اس کے کمال کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ ( الذی لا یدرکہ بعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن)(5)
بعد الھمم وغوص الفطن“ کی تعبیر سے گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر بلند فکریں صعودی قوس میںاور طاقت ور فکریں نزولی قوس میں حرکت کریں تو ان میں سے کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتی اور اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں۔
پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے امام (علیہ السلام)نے اس کی دلیل کو بیان کیا ہے کہ کیوں انسان اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں؟ آپ فرماتے ہیں: اس کے کمال ذات کی کوئی حدمعین نہیں۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ نہیں نہ اس (کی ابتدا)کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہوجائے۔( الذی لیس لصفتہ حد محدود، ولانعت(6) موجود، ولا وقت معدود، ولا اجل(7) ممدود
یعنی کس طرح ہم اس کی ذات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں جب کہ ہماری فکر بلکہ ہماری تمام ہستی محدود ہے اور سوائے محدود اشیاء کے کسی اور چیز کو درک نہیں کرتی اور خدا وند عالم کی ذات کی نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی درک کرنے والی صفت، نہ اس کا کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی انتہاء۔
نہ صرف اس کی ذات بلکہ اس کے صفات بھی نامحدود ہیں، اس کا علم نا محدودہے اور اس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں،کیونکہ یہ سب نامحدود اس کی عین ذات ہے۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ وہ مطلق ہے اور کوئی قید و شرط نہیں ہے اور اگر کوئی قید و شرط اور حد اس کی ذات میں داخل ہوجائے تو وہ مرکب ہوجائے گا، اور یہ بات معلوم ہے کہ ہر مرکب ممکن الوجود ہے نہ واجب الوجود۔ اس بناء پر واجب الوجود ایسی ذات ہے جوتمام جہات میں نا محدودہے اور اسی وجہ سے وہ اکیلااور بے نظیر ہے اس لئے کہ دو نامحدود وجود ہر جہت سے غیر ممکن ہیںکیونکہ دوگانگی ، دونوں کے محدودہونے کا سبب بنتی ہے ، یہ ایک ، دوسرے کے وجود سے فاقد ہے اور وہ دوسری بھی اس کے وجود سے (غور کریں)۔
گذشتہ جملوں میں خدا کے صفات جمال و جلال (صفات ثبوتیہ اور سلبیہ)کی طرف اشارہ کرنے کے بعد پروردگار کے صفات فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمتوں سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔(فطر(8) الخلائق بقدرتہ، و نشر الریاح برحمتة ووتد(9) بالصخور(10) میدان(11) ارضہ
مندرجہ بالا جملے ایک یا چند قرآنی آیتوں کو بیان کر رہے ہیں: فطر الخلائق بقدرتہ“یہ جملہ اس آیت ”فاطر السموات والارض“ کو بیان کررہا ہے یہ آیت قرآن کے چند سوروں میں ذکرہوئی ہے(12) اور ”نشر الریاح برحمتہ“ کا جملہ، اس آیت ”وھو الذی یرسل الریاح بشری بین یدی رحمتہ(وہ خدا وہ ہے جو ہواؤں کورحمت کی بشارت بنا کر بھیجتا ہے )(13)۔
تیسرا جملہ اس آیة شریفہ ” والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم“ (اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ تمہیں لے کر اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائے)کی طرف اشارہ کررہا ہے۔(14)۔
”فطر“کے معنی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے خلقت کو تاریک عدم کے پردہ کو پھاڑنے سے تشبیہ دی ہے ، ایسا پردہ جو منظم و منسجم اور ہر طرح کے شگاف سے خالی ہے ، لیکن خدا وند عالم کی بے انتہاء قدرت اس کو پھاڑتی ہے اور مخلوقات کو اس سے باہر بھیجتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جواس کی قدرت کے سوا انجام نہیں پاسکتی۔
آج کے دانشمند وں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہمارے لئے عدم سے کسی چیز کو وجودمیں لانا محال ہے یا موجود سے اس کو عدم کی طرف بھیجیں۔ ہماری قدرت میں فقط موجودات کی شکل کو تغیر دینا ہے اور بس!
رحمت کی تعبیر ہواؤوں کے چلنے کیلئے بہت ہی جذاب اور سازگار تعبیر ہے کہ جو نسیم کی لطافت، ہوا کا چلنا اور اس کے مختلف آثار جیسے بادلوں کا پیاسی زمینوں کی طرف حرکت کرنا، گھانس اور درختوں کی سیچائی اور زندہ کرنا، ہوا کو جابجاکرنا، کشتیوں کو چلانا، ہوا کی گرمائی اور سردی کو معتدل درجہ پر قائم رکھنااور دوسری بہت سی برکتیں۔
لیکن پہاڑ اور چٹانیں زمین کی لرزش کو کس طرح روکتی ہیں، علماء متقدمین کا نظریہ یہ تھا کہ زمین ، ساکن ہے جو آج قابل قبول نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ روشن اور واضح تفاسیر موجود ہیں جو علمی حقائق سے بھی سازگار ہیں اور قرآن و روایات سے بھی ہم آہنگ ہیں کیونکہ :
۱۔ زمین کی سطح پر پہاڑوں کا وجود سبب بنتا ہے کہ جزر و مد خشکی میں کم سے کم پہنچے جو کہ ماہ و خورشید کے جاذبہ کا نتیجہ ہے ۔ اگر زمین کی سطح پر ملایم و نرم مٹی ہوتی تو دریاؤں کی طرح اس میں بھی جزرومد آتا اور یہ سکون کے قابل نہ ہوتی۔
۲۔ پہاڑوں کی جڑیںمٹی کے نیچے ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اوراس نے زرہ کی طرح زمین کے اطراف کو پکڑ رکھا ہے اور اگر یہ نہ ہوتی تو داخلی فشار اور دباؤ جو اندر کی گیسوں اوردھات کو پگھلانے والے مادے ہمیشہ مختلف علاقوں کو ہلاتی رہتی اور آرام و سکون نہ ملتا۔ اب بھی کبھی کبھی جب دباؤ حد سے زیادہ ہوتا ہے تو ویران کرنے والے زلزلہ وجود میں آتے ہیں اور اگر پہاڑ نہ ہوتے تو یہ زلزلہ ہمیشہ آتے رہتے۔
۳۔ پہاڑوں نے ایک پہیے کے دانتوں کی طرح زمین کے اطراف کی ہوا میں اپنے پنجوں کو گاڑ رکھا ہے اور اس کو اپنے ساتھ حرکت دیتے ہیں۔ اگر زمین کی سطح صاف ہو تی تو زمین کی اندرونی ، تیز حرکت اپنے اطراف میںہوا کے چھال سے ملنے کا سبب قرار پاتی۔ ایک طرف ہمیشہ شدید طوفان تمام اطراف کو گھیرے ہوئے ہوتے اور دوسری طرف بہت زیادہ گرمی اس اتصال کی وجہ سے حاصل ہوتی جس کی وجہ سے انسان کو زندگی گزارنا مشکل ہوجاتی۔
اس طرح چٹانیں(پہاڑ)اور”مَیَدان“(نامنظم اور شدید حرکتیں)زمین کوکنٹرول کرتے ہیں اس کے علاوہ پہاڑ انسانوں کے لئے پانی کا بہترین ذخیر ہ ہیں تمام چشمہ اور نہریں زمین کے نیچے اور زمین کے اوپر پہاڑوں کے ذخایر سے وجود میں آتے ہیں۔
مندرجہ بالا ہواؤں اور انسان اور تمام موجودات کی زندگی سے متعلق پہاڑوں کے متعلق کردار کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے روشن اور واضح ہوجاتا ہے کہ امیر المومنین علی(علیہ السلام)نے خلقت اور آفرینش کے مسئلہ کے بعد اس کی طرف کیوںاشارہ کیا ہے اور خصوصاان دو موضوع کے اوپر کیوں تکیہ کیا ہے۔


۱۔ حمد،مدح اور شکر کے معنی کی وضاحت میں قرآن کریم اور نہج البلاغہ کے مفسرین میں بہت زیادہ اختلاف ہے لیکن ان کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اختیاری حالت میں ہر اچھے کام کی تعریف کرنے کو ”حمد“ کہتے ہیں، جب کہ مدح کا مفہوم اس سے بہت زیادہ وسیع ہے ، اختیاری اور غیر اختیاری کاموں کی تعریف کو شامل ہوتی ہے،لیکن شکر اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں کسی کودوسرے سے کوئی نعمت ملے اور وہ اس نعمت کی وجہ سے شکر کرے (اس متعلق زیادہ وضاحت کیلئے مجمع البحرین، لسان العرب، مفردات، شرح ابن میثم اور علامہ خوئی کی شرح میں مراجعہ کرسکتے ہیں)۔
2۔ مرحوم علامہ مجلسی نے اپنے ایک مفصل بیان کے ضمن میں بحار الانوار کی کچھ روایتوں کی توضیح دیتے ہوئے محقق طوسی کے کلام کے ذیل میں اس حدیث کو بغیر کسی سند کے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و الہ)سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”ما عبدناک حق عبادتک و ما عرفناک حق معرفتک“(بحار الانوار، ج ۶۸، ص ۲۳)۔
3۔ اصول کافی، جلد دوم ، ص ۹۸، حدیث ۲۷۔
4۔ وہی حوالہ، ص ۹۷، حدیث ۱۸۔
5۔مقاییس اللغة کے بقول ”ھمم“، ہمت کی جمع ہے اور اس کے معنی کسی دھات کے پگھلنے، جاری ہونے اور حرکت کرنے کے ہیں اور غم و اندوھ کو اس وجہ سے ”ھم“ کہتے ہیں کہ انسان کے جسم و جان کے پگھلنے کا سبب بنتا ہے ۔پھر ہر وہ کام جس کی کوئی اہمیت ہو یا انسان کی فکر اور ہوش و حواس کو مشغول کرلے اور حرکت کا سبب بن جائے اس کو ”ہم اور ہمت“ کہتے ہیں(مفردات میں بھی اسی کے جیسے معنی بیان کئے گئے ہیں)۔
”غوص“ کے معنی پانی کے اندر جانے کے ہیں، پھر ہر اہم کام میں داخل ہونے کیلئے استعمال ہونے لگا۔
لسان العرب کے بقول ”فطن“، ”فطنة“(فتنہ کے وزن پر)کی جمع ہے اوراس کے معنی ہوش و حواس اور ذکاوت کے ہیں۔
6.۔خلیل بن احمد کے بقول ”نعت“کے معنی کسی چیز کی نیک صفت کے ساتھ تعریف کرنا ہے(اس بناء پر خوب و بد کی صفت میں فرق پایا جاتا ہے)۔
7۔ ”اجل“ کے معنی کسی چیز کے مکمل ہونے اور اس کے وعدہ کے ختم ہونے کو کہتے ہیں، چاہے وہ انسان کی عمر کے بارے میں ہو یا دوسری چیزوں کے متعلق، یا عہدو پیمان یا قرض کے بارے میں ہو۔
8۔ مفردات میں راغب کے بقول”فطر“ کا مادہ ”فطر“(سطر کے وزن پر)ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ”طول“ میں پھاڑنے کے ہیںلہذا روزہ کھولنے کو افطار کہتے ہیں گویا روزہ کو اس کے ذریعہ پھاڑتے ہیں۔ یہ لفظ آفرینش، ایجاد اور کسی چیز کو گڑھنے کے معنی میں بھی آتا ہے گویا عدم کا پردہ پھٹ جاتا ہے اور عالم وجود میں قدم رکھتا ہے۔
9۔ ”وتد“ کا مادہ ”وتد“(وقت کے وزن پر)ہے او راس کے معنی کسی چیز کو ثابت کرنے کے ہیں،لہذا وہ کیل جو چیزوں کو ثابت کرتی ہے اور ان کو ثبات بخشتی ہے ”وتد“ کہتے ہیں۔
10۔ لسان العرب کے بقول ”صخور“ ، صخرہ کی جمع ہے اور اس کے معنی بڑے اور سخت پتھر کے ہیں۔
11۔ ”میدان“ کا مادہ ”مید“ (صید کے وزن پر)ہے اور اس کے معنی اضطراب و تحرک کے ہیں اور ”میدان“کے(ضربان کے وزن پر)بھی یہی معنی ہیں اور ”میدان“(حیران کے وزن پر’اس کے معنی وسیع فضا کے ہیں اور اس کی جمع میادین ہے۔
12۔ سورہ یوسف، ایت ۱۰۱۔ سورہ ابراہیم، آیت ۱۰۰۔ سورہ فاطر، آیت ۳۵ وغیرہ۔
13۔ سورہ اعراف، آیت ۵۷۔
14۔ سورہ نحل آیت، آیت ۱۵۔
 

 

 

دوسرا حصہپہلا حصہ
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma