پہلا حصہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
پیام امام امیرالمؤمنین(ع) جلد 1
عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی ذات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں!خطبہ ایک نظر میں

۔ ومن خطبہ لہ علیہ السلام

یذکر فیہ ابتداء خلق السماء والارض و خلق آدم و فیھا ذکر الج و تحتوی علی حمداللہ و خلق العالم و خلق الملائکة واختیار النبیاء و مبعث النبی والقرآن والاحکام الشرعیہ:
الحمدللہ الذی لا یبلغ مدحتة القائلون ولا یحصی نعمائہ العادون ولایوٴدی حقہ المجتہدون۔ الذی لا یدرکہ بعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن، الذی لیس لصفتہ حد محدود، ولانعت موجود، ولا وقت معدود، ولا اجل ممدود، فطر الخلائق بقدرتہ، و نشر الریاح برحمتة ووتد بالصخور میدان ارضہ
.
ترجمہ
امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں ابتدائے آفرینش زمین و آسمان، پیدائش آدم،حج کاذکر، خداوند عالم کی حمد و ثنا، عالم اور ملائکہ کی پیدائش، انبیاء کا انتخاب، پیغمبر اکرم(ص)،قرآن اور احکام شرعیہ کے نازل ہونے کا ذکر کیا ہے۔
تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کرسکتے ہیں۔ وہ خداجس کی کنہ ذات کو پلند پرواز ہمتیں اور فکریں نہیں پا سکتیںہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں(علم و دانش کے سمندر)اس کے کمال کی تہ تک
پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمال ذات کی کوئی حدمعین نہیں۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ نہیں نہ اس (کی ابتدا)کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہوجائے۔اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمتوں سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں۔
 

عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی ذات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں!خطبہ ایک نظر میں
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma