امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مراحل

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اهداف قیام حسینى
امام حسین (علیہ السلام) اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو حد سے زیادہ اہمیت دینا

جیسا کہ روایات(۱) اور فقہاء کی توضیح المسائل میں بیان ہوا ہے ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے تین مرحلے ہیں جن کی طرف توجہ کرنا بے حد ضروری ہے:
الف : قلبی مرحلہ : یعنی انسان قلبی طور پر معروف کا عاشق اور منکر کا دشمن ہو ، جس وقت وہ معروف کو دیکھتا ہے تو خوشحال ہوتا ہے اور منکرات سے روبرو ہونے کے بعد غمگین ہوتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اس کے اندر کی حالت ان دونوں سے روبرو ہونے کے بعد ایک جیسی نہیں ہونا چاہئے، یہ داخلی حالت ہی عمل کا سبب بنتی ہے ۔
ب : زبانی مرحلہ : معروف سے قلبی لگاؤ اور منکرات سے قلبی تنفر کے علاوہ اس کو زبان پر بھی جاری کرنا چاہئے اور منکرات کو انجام دینے والے اور معروف کو ترک کرنے والے کو بہت ہی ادب اور احترام کے ساتھ یاددہانی کرانا چاہئے ۔ اگر بغیر کسی لڑائی جھگڑے اوربحث و تکرارکے مد مقابل کو امر بالمعروف کیا جائے تو یقینا اس کا اثر ہوگا ۔
ج : عملی طریقہ کار: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تیسرا مرحلہ عملی اور فیزیکی برخورد ہے جو کہ حکومت کا کام ہے ۔ اگر کوئی شخص یا چند افراد علنی طور پر معاشرہ میں منکرات کے مرتکب ہوں اور معروف کوترک کردیں اور دوسروں کی باتوں پر توجہ نہ دیں تو اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ ان کو گرفتار کرکے سزا دے ، اور اگر ان کے آزاد رہنے سے اسلامی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہو تو ان کو قید خانہ میں ڈال دے ، یہ بات یاد رہے کہ یہ کام عام انسان انجام نہیں دے سکتا بلکہ یہ حکومت کا فریضہ ہے ۔

 


۱۔ وسائل الشیعہ، ج ۱۱، ابواب الامر والنہی ، باب ۳۔

 

امام حسین (علیہ السلام) اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکرامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو حد سے زیادہ اہمیت دینا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma