دوسرا مقصد : امربالمعروف ونہی عن المنکر

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو حد سے زیادہ اہمیت دیناد : پوری دنیا کی اصلاح

یہ مقصد بھی امام حسین (علیہ السلام) کے کلمات میں بیان ہوا ہے، آپ کے اصحاب نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور آپ کے چاہنے والے اور پیروکار بھی آپ کی زیارت میں اس کو دہراتے رہتے ہیں ۔
امام حسین (علیہ السلام) نے اپنے وصیت نامہ میں حضرت محمد حنفیہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ” ارید ان آمر بالمعروف و انھی عن المنکر“ قیام سے میرا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے (۱) ۔
سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام ) کے بہادر سفیر مسلم بن عقیل ، تن تنہا دشمنوں سے جنگ کرنے کے بعد گرفتار ہوئے ، آپ کو عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جایا گیا ، کوفہ کے حاکم نے حضرت مسلم سے مخاطب ہوکر کہا : میں نے سنا ہے کہ تم فتنہ بپا کرنے(اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف ایجادکرنے)کے لئے کوفہ آئے ہو ؟ ، آپ نے اس کے جواب میںفرمایا : ” ما لھذا آتیت ، و لکنکم اظھرتم المنکر ، و دفنتم المعروف  فاتیناھم لنامرھم بالمعروف ، و ننھاھم عن المنکر“۔ میں فتنہ بپا کرنے کے لئے کوفہ نہیں آیا ہوں بلکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ تم نے برائیوں کوپھیلا دیا ہے اور اچھائیوں کو دفن کردیا ہے  میں اس لئے کوفہ آیا ہوں تاکہ لوگوں کو امر بالمعروف کروں اور منکرات سے منع کروں (2)
زیارت وارثہ میں ایک جملہ اس طرح آیا ہے : ” اشھد انک قد اقمت الصلاة، و آتیت الزکاة، و امرت بالمعروف و نھیت عن المنکر ، و اطعت اللہ و رسولہ حتی آتیک الیقین“۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ (امام حسین(علیہ السلام) ) نے نماز قائم کی، زکات ادا کی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا اور اپنی شہادت کے وقت تک خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہے(3) ۔
اس بناء پر یقینا امام حسین (علیہ السلام) نے اپنے اہم قیام کے مقاصد میں ان دو فراموش شدہ واجبات امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو زندہ کیا ہے ۔

 


۱۔ بحار الانوار، ج ۴۴، ص ۳۲۹۔ مقتل خوارزمی ، ج۱، ص ۱۸۸۔
2- بحارالانوار، ج ۴۴، ص ۳۲۹۔ فتوح ابن اعثم ، چ ۵، ص ۳۳۔
3-مفاتیح نوین، ص ۳۸۲۔ بحار الانوار، ج ۹۸، ص ۱۹۷، ح ۳۲۔

 

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو حد سے زیادہ اہمیت دیناد : پوری دنیا کی اصلاح
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma