۴۔ انبیاء(علیہم السلام) کی بعثت کا فلسفہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اهداف قیام حسینى
۵۔ شرعی تکلیفیں واجب کرنے کا مقصد۳۔ انسان کو خلق کرنے کا مقصد

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی بعثت کے متعلق فرمایا :
بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“۔ مجھے اخلاق کی خوبیوں کو کامل کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے(۱) ۔ خداوند عالم نے انبیاء (علیہم السلام)کی بعثت کے متعلق سورہ حدید کی پچیسویں آیت میں فرمایا ہے :
لَقَدْ اٴَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَیِّناتِ وَ اٴَنْزَلْنا مَعَہُمُ الْکِتابَ وَ الْمیزانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ“ ۔ بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان(حق کو باطل سے پہچاننے کا آلہ اور عادلانہ قوانین) کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں ۔
اس آیت کے مطابق انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد اجتماعی عدالت ہے ،جیسا کہ اس سے پہلی والی حدیث، انبیاء کے ایک دوسرے مقصد کو مکارم اخلاق اور اخلاقی اہمیت بیان کرتی ہے ۔


۱۔ بحار الانوار ، ج ۱۶، ص ۲۱۰۔

 

۵۔ شرعی تکلیفیں واجب کرنے کا مقصد۳۔ انسان کو خلق کرنے کا مقصد
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma