۱۔ عالم ہستی کو خلق کرنے کا مقصد

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
اهداف قیام حسینى
۲۔ ستاروں کی خلقت کا مقصدقرآن کریم کی رو سے خداوند عالم کا مقصد:

اس سلسلہ میں خداوند عالم سورہ طلاق کی بارہویںآیت میں ارشاد فرماتا ہے :
”اللَّہُ الَّذی خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَ مِنَ الْاٴَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَتَنَزَّلُ الْاٴَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوا اٴَنَّ اللَّہَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرٌ وَ اٴَنَّ اللَّہَ قَدْ اٴَحاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْماً “۔ اللہ ہی وہ ہے جس نے ساتوں آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور زمینوں میں بھی ویسی ہی زمینیں بنائی ہیں اس کے احکام(تدبیریں) ان کے درمیان نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تمہیں یہ معلوم رہے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور اس کا علم تمام اشیاء کو محیط ہے ۔
زمین اور آسمانوں کوپیدا کرنے کے دو مقصد ہیں:
۱۔ ہم یہ جان لیں کہ خداوند عالم ہر کام کو انجام دینے پر قادر ہے اور یہ بات مخلوقات الہی،دریا، خشکی، جنگل ، آسمان، کہکشاں اور خود انسان کے وجود کے اندر ، تعجب آور چیزوں سے پردہ اٹھانے اور ان کے اسرارکا مطالعہ کرنے سے واضح ہوجاتی ہے ۔
۲۔ ہم یہ جان لیں کہ خداوند عالم تمام چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور کوئی چیز بھی اس کی نظروں سے مخفی نہیں ہے ۔

۲۔ ستاروں کی خلقت کا مقصدقرآن کریم کی رو سے خداوند عالم کا مقصد:
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma