شرائط پنجگانہ طواف

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
مناسک عمره مفرده
حکم مسلوس ۲ ۔ طواف

اوّل : نیت
مسئلہ 320 ۔ لازم ہے کہ طواف کو خالص خدا کے لئے بجا لائے ، کیونکہ طواف عبادات سے ہے اور نیت قصد قربت کے بغیر صحیح نہیں ہے .
مسئلہ 321 ۔ لازم نہیں ہے محرم نیت کو زبان پر جاری کرے یا حتی اپنے دل میں خطور کرے ، بلکہ اسی قدر کہ متوجہ ہو طواف بجالانے کا قصد رکھتا ہے اور یہ توجہ طواف کے اختتام تک باقی ہو . کافی ہے باالفاظ دیگر عبادات میں نیت رو ز مرہ کے کاموں میں نیت کی طرح ہے ، جس طرح کہ ( مثلا ) قصد سے پانی پیتا ہے ، راستہ چلتا ہے ، اگر اسی طرح عبادت بجالا ئے تو نیت انجام پائی ہے اور عبادت میں صرف قصد قربت لازم ہے .
مسئلہ 322 ۔ اگر طواف میں یا بقیہ اعمال عمرہٴ حج میں کہ عبادت ہے ریا کرے ( یعنی دوسروں کو دکھانے کے لئے اور اپنے عمل کو خوب جلوہ دینے کے لئے عبادت کرے ) وہ عمل باطل ہے اور بطلان عمل کے علاوہ معصیت اور گناہ عظیم کا بھی مرتکب ہوا ہے .
مسئلہ 323 ۔ اگر انجام عبادت میں دوسرے کی رضایت اور خوشنودی کو بھی مد نظر رکھے اور وہ عمل خالص خدا کے لئے نہ ہو ، ریا اور باطل ہے .
مسئلہ 324 ۔ عمل کے صحیح ہونے میں کفایت کرتا ہے کہ اس کو ” خدا کے لئے “ یا ” امر خدا کی اطاعت کے لئے “ یا ” کیفر الٰہی سے نجات کے لئے “ یا ” حصول بہشت کے لئے “ یا ” ثواب معنوی حاصل کرنے کے لئے “ انجام دے .
مسئلہ 325 ۔ اگر طواف یا دیگر عبادات تمام کرنے کے بعد مرتکب ریا ہو عبادت باطل نہ ہوگی ہر چند عمل نا شائستہ بجا لایا ہے .
سوال 326 ۔ جو شخص کہ دوسرے کی نیابت میں حج پر آیا ہے طواف کے دوسرے دور میں شک کرتا ہے کہ آیا طواف کو منوب عنہ کی نیت سے آغاز کیا ہے یا خود اپنی نیت سے شروع کیا ہے ؟ اب اس حالت میں اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : احتیاط یہ ہے کہ طواف کو منوب عنہ کی نیت سے تمام کرے ، اس کے بعد نماز طواف پڑھے پھر طواف اور نماز طواف کا اعادہ کرے .
دوم : حدث سے پاک ہونا
مسئلہ 327 ۔ حدث سے پاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ محرم طواف کے وقت جنابت اور حیض و نفاس سے پاک ہو اور با وضو ہو .
مسئلہ 328 ۔ حدث سے پاک ہونا اس صورت میں شرط ہے جب طواف واجب ہو لیکن طواف مستحب میں حدث سے پاک ہونا شرط نہیں ہے ہر چند افضل یہ ہے کہ طہارت رکھتا ہو . بنا بر این اگر جنب یا حائض یا نفساء ہو اور بھول جائے اور اسی حالت میں طواف بجا لائے اس کا طواف مستحب صحیح ہے ، لیکن علم و آگاہی کی صورت میں چونکہ مجنب کا مسجد الحرام میں رہنا صحیح نہیں ہے اس کا طواف صحیح نہیں ہے لیکن طواف مستحب میں بغیر وضو کے کوئی اشکال نہیں ہے .
مسئلہ 329 ۔ اگر کوئی ایسا شخص جو با وضو نہیں ہے یا جنابت اور حیض و نفاس سے پاک نہیں ہے طواف واجب کرے . اس کا طواف باطل ہے خواہ عمدا ہو یا غفلت و نسیان کے باعث یا نا واقف مسئلہ ہونے کی بناء پر .
مسئلہ 330 ۔ اگر محرم کو پانی دستیاب نہ ہو یا پانی کے استعمال کرنے سے معذور ہو اور عذر بر طرف ہونے تک صبر اور انتظار نہ کر سکتا ہو واجب ہے اس کے بجائے تیمم کرے خواہ تیمم بدل از غسل ہو یا تیمم بدل از وضو ہو اس کے بعد طواف بجا لائے .
مسئلہ 331 ۔ اگر محرم تیمم بدل از غسل کرے اور اس کے بعد مبطلات وضو میں سے کوئی ایک انجام دے تو لازم نہیں ہے تیمم بدل از غسل کو تکرار کرے بلکہ تیمم بدل از وضو کرے گا اور جب تک کہ موجبات غسل میں سے کوئی ایک حاصل نہ ہو اور اس کا عذر باقی ہے وہی تیمم بدل از غسل اول کافی ہے.
مسئلہ 332 ۔ اگر اپنے عذر کے برطرف ہونے کی امید رکھتا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ آخری لمحہ تک انتظار کرے ، اگر عذر بر طرف نہ ہو ، تیمم کرے .
مسئلہ 333 ۔ اگر با طہارت ہو اور شک کرے کہ حدث اس سے صادر ہوا ہے یا نہیں تو اپنے کو با طہارت سمجھے گا اور دوبارہ طہارت حاصل کرنا لازم نہیں ہے
مسئلہ 334 ۔ اگر غسل کے واجب ہونے یا وضو کے باطل ہونے کا یقین رکھتا ہے اور غسل یا وضو کرنے کے سلسلے میں شک میں مبتلا ہے تو لازم ہے کہ وظیفہٴ غسل یا وضو کو انجام دے .
مسئلہ 335 ۔ اگر طواف بجا لانے کے بعد شک کرے کہ اس کو با وضو بجالا یا ہے یا نہیں یا شک کرے غسل انجام دیا ہے یا نہیں ؟ اس کا طواف صحیح ہے لیکن بعد کے اعمال کے لئے ( کہ ان میں وضو یا غسل ضروری ہے ) لازم ہے وضو یا غسل انجام دے .
مسئلہ 336 ۔ اگر اثنائے طواف میں وضو میں شک کرے ؟ اور اپنی حالت سابقہ کو وضو اور حدث نہ جانے اگر چوتھا دور تمام ہونے کے بعد ہو تو طواف کو چھوڑ کر وضو کرے گا اور وہیں سے بقیہ طواف کو انجام دے گا ، اور پھر احتیاطا اس کو دوبا رہ انجام دے گا ، اور اگر چوتھے دور کے پہلے ہو اس کا طواف باطل ہے .
مسئلہ 337 ۔ اگر اثناء طواف میں شک کرے کہ جو غسل اس پر واجب تھا اس کو انجام دیا ہے یا نہیں تو فوراً مسجد الحرام سے خارج ہو اور غسل کرنے کے بعد واپس آئے ، پھر اگر کم سے کم چار دور تمام کیا ہو تو اس کا بقیہ بجالائے اور احتیاط یہ ہے کہ اتمام طواف کے بعد اس کا اعادہ کرے اور اگر چوتھے دور سے پہلے تھا ، ابتداء سے شروع کرے .
مسئلہ 338 ۔ عورتیں گولیاں کھا کر عادت ماہانہ کو تاخیر میں ڈال سکتی ہیں اور طواف و عمرہ بجالائیں اور ان کے حج و عمرہ کے لئے اشکال نہیں ہے .
مسئلہ 339 ۔ اگر عورتیں گولی کھانے کے بعد ایام عادت میں د ھبہ دیکھیں اور یہ سلسلہ تین دن تک لگاتار نہ ہو ، حیض محسوب نہیں ہے ، وضو کریں گی اور ان کے اعمال صحیح ہیں .
مسئلہ 340 ۔ اگر کوئی عورت ایام عادت کے علاوہ دھبہ دیکھے اور اس اعتقاد اور یقین کے ساتھ کہ عادت کا خون نہیں ہے طواف اور نماز طواف بجا لائے اور رات میں طواف کے بعد ایسا خون دیکھے جس میں عادت ماہانہ کے تمام شرائط موجود ہوں . اگر یقین کر لے کہ دھبہ دیکھنے کے بعد ( رات میں طواف سے پہلے ) خون باطن اور حقیقت میں تھا اور قطع نہیں ہوا تو وہ دھبہ حیض کے احکام رکھتا ہے اور طواف اور نماز طواف دونوں باطل ہیں لیکن اس کا عمرہ صحیح ہے لیکن لازم ہے کہ ( قطع عادت اور انجام غسل کے بعد ) نماز اور طواف نماز کا اعادہ کر ے ، لیکن اگر شک ، یا یقین رکھتی ہے کہ وہ دھبہ ایک مدت تک قطع تھا ( اور یہ خون تازہ ہے ) حکم حیض نہیں رکھتا ہے اور اس کے اعمال صحیح ہیں .
مسئلہ 341 ۔ اگر کوئی شخص طواف واجب میں مشغول ہو اور اس کا وضو باطل ہو جائے تجدید وضو کرے گا اور واپس آئے گا اور اگر کم سے کم چار دور تمام کر چکا ہے تو بقیہ کو بجا لائے گا اور اگر چار دور سے کم تر بجالایا ہے تو ابتداء سے شروع کرے گا اور اگر عورت حالت طواف میں عادت ماہانہ میں مبتلا ء ہو جائے فوراً مسجد الحرام سے خارج ہوگی ، اور پاک ہونے کے بعد بھی اس کا حکم یہی ہے .
مسئلہ 342 ۔ اگر اپنے لئے یا کسی برادر و خواہر دینی کے لئے کوئی ضروری کام در پیش ہونے کی وجہ سے اپنے طواف واجب کو قطع کر دے مسئلہ سابق کے مطابق عمل کرے .
مسئلہ 343 ۔ اگر اثناء طواف اتنا شدید بیمار ہو جائے کہ طواف تمام کرنے پر قادر نہ ہو طواف کو قطع کرے گا اور بہبودی حاصل ہو نے کے بعد اگر قطع سے پہلے چار دو تمام کر چکا تھا تو با قیماندہ کو تمام کرے گا اور اگر چار دور سے کمتر تھا تو ابتداء سے شروع کرے گا اور اگر بیماری نے طول پکڑا اور خود طواف انجام نہ دے سکا تو اس کو طواف کرائیں گے اور اگر اس طرح بھی طواف نہ کر سکے ، نائب کریں گے .
مسئلہ 344 ۔ اگر طواف مستحب کو چھوڑ کر کسی کام کے پیچھے جائے ( خواہ ضروری ہو یا غیر ضروری ) واپسی پر جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے شروع کر سکتا ہے . خواہ چار دور تمام ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں .
مسئلہ 345 ۔ حالت طواف میں رفع خستگی کے لئے بیٹھنا بلا مانع ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ موالات عرفی درہم و برہم نہ ہو ( یعنی معمول کے مطابق طواف کو ایک کے بعد ایک دور اور بغیر زیادہ فاصلہ کے انجام دے ) .
سوال 346 ۔ ایک شخص تقصیر کے بعد متوجہ ہوتا ہے کہ طواف اور نماز طواف کی حالت میں بے وضو تھا یا اس کا وضو باطل تھا ، اب اس کا وظیفہ کیا ہے ؟ کیا لازم ہے پھر سے لباس احرام پہنے اور طواف کرے ؟
جواب : طواف اور نماز طواف کا اعادہ کر لے اور اس کا عمرہ صحیح ہے اور لباس احرام کا پہننا لازم نہیں ہے .
سوال 347 ۔ ایک حاجی کا وضو طواف کے آخری دور میں باطل ہوگیا اس نے طواف کو اسی حالت میں مکمل کیا ، اس کے بعد وضو کیا اور طواف کو اول سے شروع کیا اور اس کے بعد نماز طواف اور سعی و تفصیر بجالا یا ، کیا اس کا عمل صحیح ہے ؟
جواب : طواف دوّم اور اس کے بعد کے اعمال صحیح ہیں ، ہر چند وضو کے بعد طواف اوّل کو تکمیل اور اس پر قناعت کر سکتا تھا .
سوال 348 ۔ ایک شخص باپ کی نیابت میں عمرہٴ مفردہ بجا لایا اور دوسرے دن ماں کی نیابت میں احرام باندھتا ہے اور عمرہٴ دوم کے درمیان متوجہ ہوتا ہے کہ عمرہٴ اول کے طواف اور نماز طواف کو بغیر وضو کے انجام دیا ہے ، اب اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : طواف اور نماز طواف عمرہ اول کا اعادہ کرے گا اور عمرہٴ دوم کو بقصد رجاء مکمل کرے گا . ( ملحوظ رہے کہ ایک ماہ قمری میں ایک عمرہ سے زیادہ انجام نہیں دے سکتا مگر بقصد رجاء یعنی اس امید کے ساتھ کہ مطلوب ہو نہ بطور قطعی .
سوال 349 ۔ جس شخص کا وظیفہ جبیرہ پر وضو کرنا اور تیمم تھا احکام شرعی سے نا واقفیت اور جہل و نادانی کی وجہ سے بلا تیمم اعمال عمرہ بجا لایا ہے ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : طواف اور نماز طواف کا اعادہ لازم ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے بعد کے اعمال کا بھی اعادہ کرے .
سوال 350 ۔ نماز صبح کے وقت مسجد الحرام پہونچے ، رئیس قافلہ نے کہا : ” تھوڑا صبر کیجئے نماز صبح کے بعد طواف کریں گے “ زیادہ تھکے ہونے کے باعث میں سو گیا اور چونکہ پانی دسترس میں نہیں تھا اس لئے میں نے تیمم کیا اور طواف و نماز طواف کو تیمم سے بجا لایا ، کیا میرا حج صحیح ہے ؟
جواب : اگر آپ کے لئے وضو کرنا ممکن تھا ، ہر چند گھر یا ہوٹل جا ئیں اور مثلا دوسرے دن اعمال بجا لائیں ، تیمم صحیح نہیں ہے آپ کا وظیفہ یہ ہے کہ طواف اور نماز طواف کا اعادہ کریں اور اگر خود نہیں کر سکتے ہیں تو اس کے لئے کسی کو نائب بنائیں .
سوال 351 ۔ ایک شخص طواف واجب میں احساس کرتا ہے کہ اس کا لباس احرام نجس ہے لیکن اعتناء نہیں کرتا ہے اور اسی حال میں طواف اور بعد کے اعمال انجام دیتا ہے ، اس کے بعد اپنے لباس کی چھان بین کرتا ہے اور یقین پیدا کرتا ہے کہ حالت طواف میں ایسا ہوا ہے اور اعمال کی تلافی کئے بغیر وطن واپس آ جاتا ہے ، اب اس کا وظیفہ کیا ہے ؟ کیا اب بھی حالت احرام میں ہے ؟
جواب : اگر حالت طواف میں یقین نہیں رکھتا تھا کہ اس کا وضو باطل ہے اور اس کا احرام نجس ہے ( ہر چند اعمال کے بعد یقین حاصل ہوا ہو ) احرام سے خارج ہے لیکن لازم ہے کہ طواف اور نماز طواف کا اعادہ کرے اور اگر خود نہیں کر سکتا تو کسی کو اس کام کے لئے نائب بنائے .
سوال 352 ۔ ایک عورت کی عمر اس کی تاریخ ولادت کے مطابق سال شمسی کے حساب سے پچاس سال سے زیادہ ہے اور ڈیڑھ سال ہوئے کہ عادت ماہانہ میں مبتلاء نہیں ہوئی لیکن حالت احرام میں خون دیکھتی ہے ، کیا اس کے یائسہ ہونے میں تردید کی جاسکتی ہے ؟ اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اگر عادت ماہانہ کے شرائط اور صفات نہ ہوں مستحاضہ کا حکم رکھتی ہے اور مستحاضہ کے وظیفہ کو انجام دے کر اس کا حج اور طواف صحیح ہے .
سوال 353 ۔ اگر سادات عورتیں ساٹھ سال کے بعد اور غیر سادات عورتیں پچاس سال کے بعد چند دن مسلسل اور پے در پے خون دیکھیں کہ اس میں تمام خون خیض کی علامتیں موجود ہوں تو طواف اور نماز طواف کے لئے کیا کریں ؟
جواب : اگر حیض کی تمام علامتیں پائی جاتی ہیں تو حیض کا حکم رکھتا ہے ، ضمنا سادات عورتیں ہمارے محیط میں زنان قرشیہ کا حکم نہیں رکھتی ہیں او روہ بھی قمری پچاس سال میں تقریبا ( ۱ / ۵ / ۴۸ سال شمسی ) یائسہ ہو جاتی ہیں ، یعنی اگر کسی وقت خون مشکوک دیکھیں تو استحاضہ کا حکم رکھتا ہے .
سوال 354 ۔ ایک عورت حالت طواف میں مستحاضہٴ قلیلہ ہو جاتی ہے ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اگر چوتھا دور تمام ہونے کے بعد مستحاضہٴ قلیلہ ہوتی ہے تو تجدید وضو اور تطہیر لباس و بدن کے بعد طواف کو تمام کرے گی اور چوتھا دور تمام ہونے کے پہلے مستحاضہ قلیلہ ہوتی ہے تو تجدید وضو اور تطہیر کے بعد اول سے شروع کرے گی .
سوال 355 ۔ زن مستحاضہ غسل اور وضو کرنے کے بعد طواف میں مشغول ہوتی ہے لیکن اثناء طواف میں دھبہ دیکھتی ہے اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اگر خون مسلسل ہے اور اپنے وظیفہ پر عمل کیا ہے اور ممکن حد تک خون نکلنے سے احتیاط اور پر ہیز کیا ہے تو کوئی وظیفہ نہیں ہے ، لیکن اگر خون بالکل رک گیا اور غسل گیا ، اس کے بعد دوبارہ خون جاری ہوگیا تو حدث جدید کا حکم رکھتی ہے .
سوال 356 ۔ زن مستحاضہ کے لئے غسل اور وضو لازم ہے اور اس کا م کے ذریعے اس کے اعمال کے درمیان فاصلہ ہو جاتا ہے کہ کبھی یہ فاصلہ طولانی ہوتا ہے مثلا یہ کہ غسل کے لئے گھر یا اقامت پر جائے ، کیا یہ فاصلہ اشکال رکھتا ہے ؟
جواب : جیسا کہ پہلے عرض ہوا جب مستحاضہ اپنے وظیفہٴ غسل کو انجام دے گی تو طاہر کے حکم میں ہوگی اور طواف و نماز طواف کے لئے دوسرے غسل کی ضرورت نہیں ہے .
سوال 357 ۔ زن مستحاضہ نے اپنے وظیفہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے غسل کیا یا وضو بجا لائی اور طواف میں مشغول ہو گئی ، طواف کے درمیان نماز ظہر شروع ہوگئی ، طواف کو قطع کرے نماز ظہر پڑھی ، نماز کے بعد اسی غسل اور وضو سے اپنے طواف کو مکمل کیا ، کیا اس کا طواف صحیح ہے ؟
جواب : جب مستحاضہ کثیرہ اپنی نماز کے غسل کو بموقع بجالائی تو دوسرا غسل مطلقا طواف اور نماز طواف کے لئے اس پر واجب نہیں ہے .
سوال 358 ۔ بعض عورت خون حیض روکنے کے لئے مخصوصاً اعمال حج بجالانے کے لئے گولیاں استعمال کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود حالت احرام میں مختصر خون کا دھبہ دیکھتی ہیں ، کیا یہ ان کے اعمال کے لئے مضر ہے .
جواب : مذکورہ دھبہ اگر تین دن متواتر اور مسلسل نہ رہے تو حکم استحاضہ رکھتا ہے اور اعمال حج کے لئے مضر نہیں ہے ، اور لازم ہے کہ اعمال استحاضہ کے مطابق عمل کریں اور چنانچہ صرف دھبّے دکھائی دیں اور تسلسل و استمرار نہ ہو تو ان پر فقط وضو واجب ہے غسل واجب نہیں ہے .
سوال 359 : جس عورت نے طواف عمره کے بعد خون دیکها هو ،نماز اور بعد والے اعمال کے متعلق اس کا وظیفه کیا هے؟ ممکن هے وه حیض هو اور ممکن هے که گولی کهانے سے قطع هوجائے.
جواب : اگر گولی کهانے سے خون کے قطع هونے کا احتمال هو تو پاک هونے ، وضو کرنے اور مستحاضه کے اعمال انجام دینے کے بعد نماز طواف بجالا سکتی هے اور سعی، تقصیر اور طواف نساء کو بهی انجام دے اور چنانچه بعد میں معلوم هو که اعمال کو حیض کی حالت می انجام دئیے هیں تو نماز طواف، طواف نساء اور اس کی نماز کو پاک هونے کے بعد اعاده کرے اور اگر خون حیض هونے کا یقین هو تو مسجد سے باهر نکل جائے اور پاک هونے کے بعد نماز طواف اور اس کے بعد کے اعمال کو انجام دے اور وقت کی تنگی کو پیش نظر رکهتے هوئے نماز طواف عمره، طواف نساء اور اس کی نماز کیلئے نائب کرے.
سوال 360 ۔ اگر صاحب عادت ( وقتیہ اور عددیہ ) کہ اس کی عادت کے ایام مثلا ہمیشہ سات دن ہیں ، ساتویں دن پاک ہو اور غسل کرے اس کے بعد اعمال حج بجا لائے ، لیکن بعد میں دھبہ دیکھے ، اس کے اعمال کا کیا حکم ہے ؟
جواب : اگر اس کے اعمال پاکی کی حالت میں انجام پائے ہیں صحیح ہیں .
سوال 361 ۔ بعض عورتوں کی عادت ماہانہ مانع خیض کی دوائی استعمال کرنے کی وجہ سے بگڑ جاتی ہے اس طرح سے کہ کبھی طولانی مدت تک مسلسل خون یا دھبہ دیکھتی ہیں . ایسی عورتوں کا حج میں وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اگر خون تین دن تک مسلسل آئے اور ایام عادت میں نظر آئے ہر چند اس طرح کہ شروع ہونے کے بعد تین دن تک باطن آلودہ ہو تو اس پر حیض کا حکم جاری ہے ، اس کے علاوہ استحاضہ کے احکام رکھتا ہے .
سوال 362 ۔ ایک عورت کو حیض نہیں آتا ، لیکن ہر دو سرے مہینہ ایک مرتبہ دو تین بار دھبہ یا تر شحات دیکھتی ہے ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اگر خون ہر چند داخل و باطن میں تین دن تک استمرار نہ رکھتا ہو استحاضہ کا حکم رکھتا ہے.
سوال 363 ۔ ایک عورت احکام شرع سے جہالت اور نا آگاہی کی وجہ سے عادت ماہانہ سے پاک ہونے کے بعد سمجھتی تھی کہ جنب ہے اس لئے غسل جنابت کی نیت کی اور اسی حالت میں حج بجا لائی اس کے حج کا کیا حکم ہے ؟
جواب :ا گر اس کا مقصد عادت ماہانہ کے لئے غسل انجام دینا تھا اور اس کا نام اس نے جنابت رکھا اس کا عمل صحیح ہے .
سوال 364 ۔ ایک شخص اعمال حج بجالانے کے بعد متوجہ ہو تا ہے اس پر غسل مسّ میت واجب تھا اور اب تک انجام نہیں دیا ہے ، کیا اس کا حج صحیح ہے .
جواب : اگر کوئی دوسرا واجب یا مستحب غسل انجام دیا ہے کفایت کرے گا اور اس کا حج صحیح ہے اور اس کی گردن پر فی الوقت کوئی فریضہ نہیںہے . لیکن اگر کوئی غسل نہیں کیا ، ہر چند اس کے حج میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن واجب ہے طوافوں اور ان کی نمازوں کا اعادہ کرے اور اگر خود قادر نہیں ہے تو کسی کو اس کام کے لئے نائب بنائے .
سوال 365 ۔ غیر شادی شدہ لڑکی سن بلوغ کے اوائل میں جنب ہوئی اور اب تک غسل جنابت نہیں کیا لیکن غسل حیض یا جمعہ جیسے غسل کئے ہیں اور اس کیفیت کے ساتھ حج پر گئی ہے برائے مہربانی بیان فرمائیں ؟
۱ ۔ ان عبادتوں کی کیا صورت ہے جو اس نے اس حالت کے بعد اب تک کی ہیں ؟
۲ ۔ کیا ابھی تک احرام سے خارج نہیں ہوئی اور تمام محرمات احرام اس پر حرام ہیں ؟
۳ ۔ اس کے حج کا کیا حکم ہے ؟ اور اب اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اگر دوسرا غسل انجام دیا ہے کفایت کرے گا ، بنا بر این جو اعمال غسل حیض یا جمعہ کے بعد بجا لائی ہے منجملہ حج صحیح ہیں ، لیکن جو نمازیں جنابت کے بعد اور اولین غسل کے درمیان پڑھی ہیں لازم ہے تدریجا قضا کرنے ، اور اگر جنابت کے بعد حج تک کوئی غسل انجام نہیں دیا ہے تو لازم ہے عمرہ اور حج کے طوافوں ، طواف نساء اور ان کی نمازوں کو دوبارہ پڑھے اور اگر نہیں پڑھ سکتی ہے تو نائب کرے ، اور جب تک ان اعمال کا اعادہ نہ کرے لازم ہے کہ خوشبو ، شادی اور ان محرمات سے جو طواف کے نساء کے بعد حلال ہوتے ہیں احتیاطا اجتناب کرے .
سوال 366 ۔ اگر شخص محرم جنب ہو جائے اور پانی اس کے لئے مضر ہو اور عمرہ کا وقت گزر رہا ہے ، کیا طواف اور نماز طواف کو تیمم کے ساتھ بجا لانا کافی ہے یا نائب کرنا بھی ضروری و لازم ہے ؟
جواب : کافی ہے اور نائب کرنا لازم نہیں ہے .
سوال367 : ایک عورت اس تصور کے ساتھ کہ پاک ہوگئی ہے طواف نماز طواف بجالانے کے بعد سعی میں مشغول ہوتی ہے ، اثناء سعی میں متوجہ ہوتی ہے کہ ابھی پاک نہیں ہوئی ہے ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟ اگر سعی کے بعد اس موضوع سے باخبر ہو ، اس کی تکلیف کیا ہے ؟
جواب : فرض اول میں سعی کو قطع کرے گی اور پاک ہونے کے بعد طواف و نماز طواف اور سعی کا اعادہ کرے گی . اور فرض دوّم میں بھی طواف و نماز طواف کا اعادہ لازم ہے اور احتیاطاً سعی کا بھی اعادہ کرے .
سوال 368 : اگر کوئی عورت عمرہٴ مفردہ کی نیت سے محرم ہو اور اس کے بعد عادت ماہانہ میں گرفتار ہو جائے اور ان تمام دنوں میں کہ مکہ میں ہے عادت کی حالت میں ہو ، عمرہٴ مفردہ کے لئے کیا کرے ؟ اگر اعمال انجام دئے بغیر ایران آگئی ہے اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : فرضی سوال میں طواف اور نماز طواف کے لئے نائب اختیار کرے اور بقیہ اعمال عمرہ خود بجالائے ، اور چنانچہ ایران واپس لوٹ آئی ہے واپس جائے اور اس کے اعمال بجالائے اور اگر نہیں لوٹ سکتی ہے تو اعمال عمرہ کے لئے نائب اختیار کرے لیکن خود تقصیر انجام دے اور تقصیر اور تمام اعمال کے درمیان ترتیب کی رعایت کرے اور جب تک اعمال انجام نہ دے گی بحالت احرام باقی رہے گی .

حکم مسلوس ۲ ۔ طواف
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma