دو عمروں کے درمیان معتبر فاصلہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
مناسک عمره مفرده
عمره مفرده کے اعمالعمره مفرده

مسئلہ 11 ۔ جو شخص ایک مہینہ سے زیادہ مکہ میں تھا اور اتنی ہی مدت اس کو عمرہ مفردہ کئے ہوئے گزر چکی ہے ، اگر کسی کام سے جدّہ جائے او رباز گشت میں بلا احرام وارد مکہ ہو اس نے خلاف شرع کام انجام دیا ہے ، حتماً میقات واپس لوٹے اور محرم ہو اور عمرہٴ مفردہ بجالائے کیونکہ ماہ قمری گزرنے کے ساتھ جو شخص کہ وارد مکہ ہوتا ہے لازم ہے دوسرا عمرہ بجالائے .
سوال 12 ۔ جو لوگ عمرہ مثلا ماہ شعبان میں بجا لائے ہیں او رماہ رمضان میں ( بازدید کی غرض سے ) عرفات جاتے ہیں ، اس بات کے پیش نظر کہ حدود حرم سے خارج ہو رہے ہیں واپسی پر لازم ہے محرم ہوں اور دوسرا عمرہٴ مفردہ بجالائیں .
مسئلہ 13 ۔ تکرار عمرہ تکرار حج کی طرح مستحب ہے لیکن ہر ماہ قمری میں ایک عمرہ سے زیادہ نہیں کیا جاسکتا ہے .
مسئلہ 14 ۔ جیسا کہ عرض ہوا ہر ماہ قمری میں ایک عمرہ مستحب ہے ، بنا بر این اگر کوئی او اخر ماہ رجب میں وارد مکہ ہو اور عمرہٴ مفردہ بجالائے اور بعد میں ماہ شعبان شروع ہو جائے تو دوبارہ عمرہٴ مفردہ بجا لا سکتا ہے ، لیکن اسی ماہ میں دو عمرہ مفردہ اشکال رکھتا ہے ، اور اگر کوئی چاہے ایک ماہ میں ایک عمرہ سے زیادہ بجالائے بقصد رجاء انجام دے گا . یعنی اس امید سے کہ مطلوب درگاہِ الٰہی ہو ( حکم قطعی کی نیت سے نہیں ) لیکن بہتر یہ ہے کہ زائرین محترم اس طرح کے مکرر عمروں کے بدلے طواف بجالائیں کہ اس کی مشروعیت مسلم ہے .
مسئله 15. اگر ماه رجب ختم هو رها هو تو اس مهینه میں عمره کی فضیلت کو در کرنے کیلیے محرم هوجائے اور اعمال کو ماه شعبان میں انجام دے لیکن ماه شعبان میں دوسرا عمره انجام نهیں دے سکتا ، اس بناء پر اگر کوئی شخص ماه شعبان میں عرفات جائے تو واپسی پر دوباره محرم هونے کی ضرورت نهیں هے .
مسئله 16 . آپ نے فرمایا هے که هر ماه قمری میں ایک عمره سے زیاده نهیں کیا جاسکتا تو اس مسئله میں دونوں عمره مفرده کو اپنے لئے انجام دینے یا دونوں کو نیابت میں انجام دینے یا ایک کو نیابت اور ایک کو اپنی طرف سے انجام دینے میں کوئی فرق هے؟
جواب : کوئی فرق نهیں هے.
سوال 17 : اگر ایک ماہ قمری میں دو عمرہ انجام دے اور دوسرا عمرہ نیابتی ہو کیا نائب اس کے انجام دینے کی اجرت لے سکتا ہے ؟ اور چنانچہ عمرہٴ مفردہ منوب عنہ پر واجب تھا کیا ایسا عمرہ کفایت کرے گا ؟
جواب : لازم ہے احتیاط کی مراعات کرے اور چنانچہ اجیر کرنے والے کی اطلاع سے انجام شدہ عمل کی اجرت لے اشکال نہیں رکھتا ، لیکن ایسے عمرہ کا عمرہٴ واجب سے کفایت کرنا محلّ اشکال ہے .
سوال 18 : جس طرح عمرہٴ تمتع سے پہلے عمرہٴ مفردہ بجالانے کی ہر چند اسی ماہ قمری میں ہو آپ نے اجازت دی ہے کیا عمرہٴ تمتع کے بعد اور حج سے پہلے بھی اسی ماہ قمری میں عمرہٴ مفردہ کیا جا سکتا ہے یا لازم ہے بقصد رجاء ہو ؟
جواب : اشکال ہے .
سوال 19 : کبھی مکہ مکرمہ میں مسجد تنعیم کے ایک کلو میٹر باہر اشیاء کی تقسیم کا مرکز ہوتا ہے اور خدمتگزاروں کا وظیفہ جو کہ کارواں کے سہمیہ کو لینے کے لئے وہاں جانے پر مجبور ہیں کیا ہے ؟
جواب : انجام عمرہٴ تمتّع کے بعد ان مناطق میں آمد و رفت بلا مانع ہے ، اور عمرہٴ مفردہ میں اگر اس مہینہ کے گزرنے کے بعد کہ جس میں عمرہ انجام دیا ہے خارج ہو اور واپس آجائے تکرار عمرہ لازم نہیں ہے ، لیکن اگر ماہ بعد واپس آئے لازم ہے اسی مسجد تنعیم سے محرم ہو اور عمرہ بجالائے ، مگر یہ کہ اس کا شغل مرتّب و مسلسل بیرون حرم رفت و آمد ہو .
سوال 20 ۔ بعض فقہاء کہتے ہیں : ” جو خُدّام مکہ سے خارج ہونا چاہتے ہیں اگر فقط جدّہ جائیں مکہ میں دوبارہ واپس آنے کے لئے محرم ہو نا لازم نہیں ہے ، لیکن اگر مدینہ جائیں مکہ میں ورود مجددّ کے لئے مسجد شجرہ سے دوبارہ محرم ہوں ، اور احرام کے ساتھ وارد مکہ ہوں حضرتعالی کیا فرماتے ہیں؟
جواب : اگر اس کی بازگشت اس قمری مہینے میں ہے کہ جس میں خارج ہوا ہے احرام مجددّ لازم نہیں ہے اور اگر دوسرے مہینے میں ہے لازم ہے پھر سے محرم ہو اور اعمال بجالائے .
سوال 21 : اگر کاروانوں کے خدّام عمرہٴ مفردہ بجالا چکے ہوں . کیا ہر بار کہ مکہ سے خارج ہوتے ہیں اور قافلہ کے کاموں کو انجام دینے کے لئے جدّہ جاتے ہیں ، مکہ واپس ہونے کے وقت ان کا محرم ہونا لازم ہے ؟
جواب : محرم ہونا لازم نہیں ہے مگر یہ کہ دوسرے ( قمری ) مہینے میں وارد ہوں

عمره مفرده کے اعمالعمره مفرده
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma