چوتھا سبق:امام کا تعیّن کس کے ذمہ ہے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
نو جوانوں کے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق
پانچواں سبق:قرآن اور امامت تیسرا سبق : امام کے خاص شرائط وصفات

مسلمانوں کے ایک گروہ (اہل سنّت)کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی حالت میں رحلت فر مائی کہ آپنے اپنے بعد کسی کو جانشین کے طور پر مقرر و معیّن نہیں فر مایا تھا ۔ان لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ ذمہ داری خود مسلمانوں کی ہے کہ اپنے لئے رہبر اور پیشوا کو منتخب کریں اور اس کام کو ”اجماع مسلمین“ کے طریقہ سے انجام دیںجو دلائل شرعی میں سے ایک دلیل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ کام انجام پایا اور سب سے پہلے خلیفہ اول امت کے اجماع کے ذریعہ خلافت کے عہدے پر منتخب کئے گئے ۔جبکہ پہلے خلیفہ نے (اجماع امت کے بجائے) خود ذاتی طور پر (وصیت کے ذریعہ) دوسرے خلیفہ کو مقرر کیا۔
اس کے بعد دوسرے خلیفہ نے چھ افراد پر مشتمل ایک شوریٰ تشکیل دی تاکہ یہی لوگ ان کے بعد ان کے جانشین کو منتخب کریں۔
اس شوریٰ کے اراکین :حضرت علی(ع)،عثمان،عبدالرحمان بن عوف،طلحہ،زبیر اور سعد بن ادبی وقاص تھے۔
اس شوریٰ نے تین اراکین کی اکثریت سے،یعنی سعدبن ابی وقاص ،عبدالرحمان بن عوف اور طلحہ کی رائے سے عثمان کو منتخب کیا۔ دوسرے خلیفہ نے صراحت کی تھی کہ شوریٰ کے اراکین کی رائے تین تین افراد پر برابر تقسیم ہو جانے کی صورت میں جس طرف عبدالرحمان بن عوف (عثمان کے بہنوئی )کی رائے ہو وہی خلیفہ منتخب کیا جائے!
عثمان کی خلافت کے آخری دنوں میں لوگوں نے مختلف دلائل کی بنا ء پر ان کے خلاف بغاوت کی اور اس سے پہلے کہ وہ ذاتی طور پر یا شوریٰ کے ذریعہ اپناجانشین مقرر کرتے،انھیں قتل کر ڈالا۔
اس وقت عام مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین کی حیثیت سے آپ(ع) کی بیعت کی ۔صرف شام کے گورنر معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیا ،کیونکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ حضرت علی(ع) اسے موجودہ عہدے پر باقی نہیں رکھیں گے ۔
معاویہ نے نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی بیعت ہی نہیں کی بلکہ آپ(ع) کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کر دیا اور اس طرح تاریخ اسلام میں ناگوار،مرگ آور اور منحوث حوادث کا دور شروع ہوا جس کے نتیجہ میں بے گناہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا خون بہہ گیا۔
یہاں پر علمی اور تاریخی بحثوں کے واضح ہو نے کے لحاظ سے بہت سے سوالات ابھرتے ہیں ہم ان میں سے چند سوالات پر بحث کر رہے ہیں:
۱۔کیا امت کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین منتخب کر نے کا حق ہے؟
اس سوال کا جواب مشکل اور پیچیدہ نہیں ہے ۔اگر ہم امامت کو اسلامی معاشرہ کی ظاہری حکمرانی جان لیں تو ایسے حاکم کو لوگوں کی رائے سے منتخب کر نا رائج ہے۔
لیکن اگر ہم امامت کو اس معنی میں لیں ،جس کی وضاحت ہم پہلے قرآن مجید کی روشنی میں کرچکے ہیں ،تو کسی شک و شبہہ کے بغیر،خداوند متعال یا وحی الہٰی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی شخص امام اور خلیفہ کو معین نہیں کرسکتا ہے۔
کیونکہ اس تفسیر کے مطابق امامت کی شرط اسلام کے تمام اصول وفروع میں بھر پور علم رکھنا ہے ایسا علم جس کا سر چشمہ علم الہٰی اور علم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتاکہ وہ شریعت اسلام کی حفاظت کرسکے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ امام معصوم ہو ناچاہئے ،یعنی اسے خداکی طرف سے ہر خطاو گناہ سے پاک ومنزّہ ہو نے کی ضمانت حاصل ہو تا کہ معاشرے کی معنوی و مادی، ظاہری و باطنی رہبری و قیادت کی ذمہ داری سنبھال سکے۔
اس کے علاوہ امام یا خلیفہ کو اس منصب کے لئے ضروری زہد وتقویٰ ،پرہیز گاری اور شجاعت کا حامل بھی ہو ناچاہئے ۔
یہ بات یقینی ہے کہ ان شرائط کی تشخیص خدا اور پیغمبر کے علاوہ کسی اور کے ذریعہ ممکن نہیں ہے ۔وہی(خداہی) یہ جانتا ہے کہ کس شخص کی روح عصمت کے نور سے منور ہے اور وہی جانتا ہے کہ منصب امامت کے لئے ضروری علم ،تقویٰ ،پرہیز گاری ،شجاعت و شہامت کس شخص میں موجود ہے۔
جن لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اور امام کا تعیّن لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا ہے،انہوں نے حقیقت میں امامت کے قرآنی مفہوم میں تبدیلی ایجاد کر کے امامت کو عام حکمرانی اور دنیوی امور میں لوگوں کی رہبری تک محدود کر کے رکھ دیا ہے ورنہ جامع اور کامل معنی میں امامت کے شرائط پرور دگار عالم کے ذریعہ ہی قابل تشخیص ہیں اور وہی ان صفات کے بارے میں مکمل علم و آگاہی رکھتا ہے۔
امام کا انتخاب بھی بالکل اسی طرح کیا جاتا ہے جس طرح پیغمبر کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔پیغمبر کا انتخاب لوگوں کی رائے سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ ضروری ہے کہ پیغمبر کا انتخاب خداوند متعال کی طرف سے ہو اور معجزات کے ذریعہ اس کی پہچان کر وائی جائے اس لئے کہ پیغمبر میں پائی جانے والی ضروری صفات کی تشخیص بھی صرف خدا وند متعال ہی کر سکتا ہے۔
۲۔کیا پیغمبر نے اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا ہے؟
بیشک دین اسلام ایک ”عالمی‘اور ”لافانی“دین ہے اور قرآن مجید کی واضح آیات کے مطابق یہ دین کسی خاص زمان و مکان سے مخصوص نہیں ہے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رحلت کے زمانہ تک یہ الہٰی اور آسمانی دین جزیرئہ عرب سے باہر نہیں پھیلا تھا۔
دوسری طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی زندہ گی کے تیرہ سال مکہ میں شرک وبت پرستی سے مبارزہ اور مقابلہ کر نے میں گزرگئے اور ہجرت کے بعد، جو اسلام کے پھلنے اور پھولنے کا درد تھا ،آپ کی زندہ گی کے باقی دس سال بیشتر دشمنوں کی طرف سے تھوپی گئی جنگوں اور غزوات میں صرف ہو گئے۔
اگر چہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے مسائل کی تبلیغ اور تعلیم کے لئے دن رات انتھک کو شش کی اور اور نو عمر اسلام کا تمام جہات میں تعارف فر مایا،پھر بھی یقینا اسلام کے بہت سے ایسے مسائل باقی تھے جن کی تفسیر وتشریح کے لئے مزید وقت در کار تھا، اس لئے ضروری تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جیسا کوئی شخص آپ کے بعد اس سنگین ذمہ داری کو سنبھالے ۔
ان تمام باتوں کے علاوہ مستقبل کے حالات کی پیشنگوئی کے پیش نظر مذہب کو دوام بخشنے کے مقد مات کو فراہم کر نا ان اہم امور میں سے ہے کہ ہر رہبر اور قائد کو اس کی فکر ہو تی ہے اور ہر گز اس بات کے لئے آمادہ نہیں ہو تا ہے کہ اس بنیادی مسئلہ کو فرا موش کر دے۔
اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے بعض اوقات انسانی زندگی کے معمولی اور سادہ مسائل کے بارے میں بھی احکام بیان فر مائے ہیں ،کیا یہ ممکن ہے کہ آپ نے مسلمانوں کی خلافت،زعامت اور امامت جیسے اہم مسئلہ کے بارے میں کو ئی دستور معیّن نہیں فر مایا ہو گا؟!
مذکورہ تین نکات کا مجموعہ اس بات پر واضح دلیل ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جانشین مقرر کر نے کا قطعاً اقدام فر مایا ہے ۔انشااللہ ہم بعد میں اس سلسلہ میں قطعی اور مسلّم الثبوت روایتوں کے چند نمو نے بھی پیش کریں گے تاکہ یہ منطقی حقیقت اور بھی زیادہ واضح ہو جائے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز اپنی زندگی کے دوران اس اہم اور حیاتی مسئلہ سے غافل نہیں رہے ہیں ،اگر چہ خاص سیاسی وجو ہات کی بنا ء پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایاہے۔
کیا یہ بات قابل یقین ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات (جیسے غزوہ تبوک) کے دوران صرف چند دنوں کے لئے مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو ضرور اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر فر ماتے تھے اور اپنی جگہ خالی نہیں رکھتے تھے،لیکن اپنی رحلت کے بعد کی کوئی پروا کئے بغیر کسی قسم کا اقدام نہ فر مائیں ،اور امت کو اختلا فات اور سر گردانی کے طوفان میں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ہر ایک رہبر کے ذریعہ اسلام کے دوام کی ضمانت فراہم نہ فر ما ئیں؟!
اگرپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا جانشین مقرر نہ فر ماتے تو یقینا نو عمر اسلام کے لئے بڑے خطرات لا حق ہو تے ۔عقل اور منطق اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا کام انجام دیں جس سے اسلام کو خطرات لاحق ہوں۔جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کام امت کے ذمہ چھوڑ دیا ہے ،وہ اپنے اس نظریہ کی تائید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کم از کم ایک دلیل تو پیش کریں،جس سے ثابت ہو جائے کہ پیغمبر اسلام نے اس نظریہ کی تاکید فر مائی ہے !،جبکہ ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔
۳۔ اجماع اور شوریٰ
فرض کریں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنا جانشین مقرر کر نے کے )اس نہایت اہم مسئلہ کو نظر انداز کیا ہو اور خود مسلمانوں پر اس (خلیفہ) کے انتخاب کر نے کی ذمہ داری ہو لیکن ہم جانتے ہیں کہ ”اجماع“سے مراد تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور پہلے خلیفہ کی خلافت کے بارے میں ہر گز ایسا اتفاق یا اجماع حاصل نہیں ہوا ہے ۔صرف مدینہ میں موجود اصحاب میں سے چند صحابیوں نے اس بات کا فیصلہ کیا، جبکہ تمام اسلامی شہروں کے لوگوں نے اس فیصلہ میں بالکل شرکت نہیں کی ،بلکہ خود مدینہ میں موجود حضرت علی(ع) اور بنی ہاشم کے بہت بڑے گروہ نے اس انتخاب میں کسی قسم کی شرکت نہیں کی ،اس لئے یہ اجماع قطعاً قابل قبول نہیں ہے۔
پھراگر یہ طریقہ صحیح تھا ،تو پہلے خلیفہ نے اپنا جانشین مقرر کر نے کے سلسلہ میں کیوں اس پر عمل نہیں کیا ؟انھوں نے کیوں ذاتی طور پر اپنا جانشین نامزد کیا ؟اگر ایک شخص کی طرف سے جانشین کو مقرر کر نا کافی ہوتا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کام کے لئے سب سے افضل و اولیٰ تھے۔اگر لوگوں کی طرف سے بعد میں کی جانے والی بیعت اس مشکل کو حل کر سکتی ہے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہی بیعت بہر صورت میں مسئلہ کو حل کرسکتی ہے ۔
اس کے علاوہ تیسری مشکل ”خلیفہ سوم“کے بارے میں پیش آتی ہے ،کہ دوسرے خلیفہ نے کیوں پہلے خلیفہ کے منتخب ہو نے کے طریقہ کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور جس طریقہ سے خود بر سر اقتدار آئے تھے ،اس کو بھی توڑ دیا یعنی نہ”اجماع“ پر عمل کیا اور نہ ذاتی طور پر کسی کو نامزد کیا بلکہ اس کام کے لئے ایک تیسرا طریقہ ایجاد کر کے ایک محدود شوریٰ کو اس کام کی ماموریت دے دی۔
اصولی طور پر اگر شوریٰ صحیح ہے تو یہ شوریٰ کیوں صرف چھ افراد تک محدود ہو؟اور چھ ارکان میں سے صرف تین ہی کی رائے کافی ہو؟
یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ اسلام کے ہر محقق کو پیش آتے ہیں اور ان سوالات کا جواب نہ ملنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام اور خلیفہ کے انتخاب کے مذکورہ طریقے صحیح نہیں ہیں ۔
۴۔علی علیہ السلام سب سے لائق وافضل تھے۔
اگر ہم فرض کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے کسی بھی شخص کو اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا تھا،اور یہ بھی فرض کرلیں کہ یہ کام لوگوں پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔لیکن کیا یہ صحیح ہے کہ خلیفہ اور امام کو منتخب کر نے کے وقت ایک ایسے شخص کو نظر انداز کر دیا جائے جو علم ،تقویٰ،پرہیز گاری شجاعت اور دوسرے امتیازات و خصوصیات کے لحاظ سے سب سے افضل ہو اور اس کے بجائے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو اس سے نہایت کمتر ہو؟!
علماء اسلام کی ایک بڑی تعداد ،حتی کہ اہل سنت علماء نے واضح طور پر لکھا ہے کہ اسلامی مسائل سے آگاہی اور علم رکھنے کے حوالے سے حضرت علی(ع) سب سے افضل تھے۔ خود حضرت (ع) سے باقی ماندہ روایات اور آثار اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں۔تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ حضرت علی (ع) تمام علمی مشکلات کو حل کر نے میں امت کے پناہ گاہ تھے،یہاں تک کہ اگر کبھی خلفاء کو بھی کوئی پیچیدہ یا مشکل مسئلہ پیش آتا تھا، وہ حضرت(ع) کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ(ع) سے مدد طلب کرتے تھے۔
حضرت علی (ع)شجاعت ،علم ،تقویٰ،پرہیز گاری اور دوسری صفات کے لحاظ سے سب سے افضل تھے اس لئے اس فرض کی بناء پر کہ لوگوں کو امام وخلیفہ چننے کا حق تھا ،پھر بھی علی(ع) اس منصب کے لئے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ تھے۔(البتہ اس بحث سے متعلق کافی اسناد موجود ہیں ،جن کا ذکر اختصار کے پیش نظر یہاں پر ممکن نہیں ہے )۔


 غور کیجئے اور جواب دیجئے
۱۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ یا امام کو لوگ کیوں منتخب نہےں کرسکتے؟
۲۔کیا عقل ومنطق یہ بات مانتی ہے کہ پیغمبر نے اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا؟
۳۔پہلے تین خلفاء کا انتخاب کن طریقوں سے عمل میں آیا؟
۴۔کیا پہلے تین خلفاء کے انتخاب کا طریقہ علمی اور اسلامی اصولوں کے مطابق تھا؟
۵۔کن دلائل کی بناء پر علی(ع) سب سے لائق ہیں؟

پانچواں سبق:قرآن اور امامت تیسرا سبق : امام کے خاص شرائط وصفات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma