چوتھا سبق ایک اہم سوال کا جواب

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
نو جوانوں کے لئے اصول عقائدکے پچاس سبق
پانچواں سبق: ایک سچاواقعہ تیسرا سبق خدا کی معرفت کے دواطمینان بخش راستے

سوال


گزشتہ سبق میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ ہم توحید اور خدا پرستی کی آواز کو اپنی روح کے اندر سے سنتے ہیں ،خاص کر مشکلات اور مصیبتوں کے وقت یہ آواز قوی تر ہو جاتی ہے اور ہم بے ساختہ طور پر خدا کو یاد کر کے اس کی لامحدود قدرت اور لطف و محبت سے مدد مانگتے ہیں۔
یہاں پر ممکن ہے یہ سوال پیش کیا جائے کہ یہ اند رونی آواز،جسے ہم فطرت کی آواز کہتے ہیں ،ان تبلیغات کا نتیجہ ہو جو معاشرہ کے ماحول ،مکتب و مدرسہ اور ماں باپ سے ہم سنتے ہیں اور یہ ہمارے لئے ایک قسم کی عادت بن گئی ہے۔

جواب

اس اعتراض کا جواب ایک مختصر سے مقدمہ کے ذریعہ واضح ہو جاتا ہے۔
عادتیں اور رسم و رواج ،متغیّر اور ناپائیدار چیزیں ہیں ۔یعنی ہم کسی عادت اور رسم ورواج کو پیدا نہیں کرسکتے ہیں جو پوری تاریخ بشر کے دوران تمام اقوام میں یکساں صورت میں باقی رہے ہوں۔جو مسائل آج عادت اور رسم ورواج کے طور پر رونما ہوتے ہیں،ممکن ہے کل بدل جائیں ۔اسی وجہ سے ممکن ہے ایک قوم کے رسم ورواج اور عادات دوسری قوموں میں نہ پائے جائیں۔
اس لئے اگر ہم مشاہدہ کریں کہ ایک چیز تمام قوموں اور ملتوں کے در میان ہر زمان ومکان میں بلا استثنا ء موجودہے تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ اس کی ایک فطری بنیاد ہے جوانسان کی روح و جان کی ساخت اور بناوٹ میں قرار پائی ہے۔
مثال کے طور پر ایک ماں کی اپنے فرزند کی نسبت محبت کو کسی تلقین،تبلیغ عادت ورسم ورواج کا نتیجہ قطعاًنہیں کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہم کسی قوم وملت اور کسی زمان و مکان میں نہیں پاتے ہیں کہ ایک ماں اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتی ہو۔
البتہ ممکن ہے ایک ماں نفسیاتی بیماری کی وجہ سے اپنے فرزند کو نابود کر دے یا کوئی باپ جاہلیت کے زمانہ میں غلط اور خرافی تفکر کی وجہ سے اپنی بیٹی کو زندہ دفن کردے ،لیکن یہ انتہائی شاذو نادر اور استثنائی مواقع ہیں،جوجلدی ہی ختم ہو کر اپنی اصلی حالت(یعنی فرزند سے محبت)پر لوٹ آتے ہیں۔
مذکورہ تمہید کے پیش نظر ہم آج کے اور ماضی کے انسانوں کی خدا پرستی کے مسئلہ پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
(چونکہ یہ سبق قدرے پیچیدہ ہے اس لئے اس پر زیادہ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے)
۱۔عمر انیات کے ماہرین اور بڑے بڑے مورخین کی گواہی کے مطابق ہم کسی ایسے زمانے کو نہیں پاتے ہیں جس میں مذہب اور مذہبی ایمان لوگوں میںموجود نہ رہاہو بلکہ ہر عصراور ہر زمانے میں دنیا میں ہر جگہ کسی نہ کسی صورت میں مذہب موجود تھا اور یہ بذات خود اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خدا پرستی کا سر چشمہ انسان کی روح وفطرت کی گہرائیوں میں مو جود ہے نہ یہ کہ عادات،رسم و رواج اور تعلیم و تر بیت کا نتیجہ ہے ۔اس لئے کہ اگر یہ عادات ،رسم ورواج اور تعلیم وتر بیت کا نتیجہ ہو تا تو اس صورت میں اسے عام اور لافانی نہیں ہو نا چاہئے تھا ۔
یہاں تک کہ ایسے آثار و قرائن بھی موجود ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ ماقبل تاریخ میں زندگی بسر کر نے والے لوگ بھی ایک قسم کے مذہب کے قائل تھے (ما قبل تاریخ کا زمانہ اس زمانہ کو کہتے ہیں کہ ابھی لکھائی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور انسان اپنی یاد گار کے طور پر تحریر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
البتہ اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ چونکہ ابتدائی لوگ خدا کو ایک مافوق طبیعی وجود کی حیثیت سے نہیں پہچان سکتے تھے اس لئے اسے مادی مخلوقت کے در میان تلاش کرتے تھے اور اپنے لئے مادی مخلوقات سے بت بناتے تھے ۔لیکن انسان نے عقل و فکر کی تر قی کے ساتھ رفتہ رفتہ حق کو پہچان لیا اور مادی مخلوقات کے بنائے ہو ئے بتوں کو چھوڑ کر طبیعی کائنات کے ماوراء خدا کی لا محدود قدرت سے آگاہ ہوا۔
۲۔بعض ماہرین نفسیات نے صراحتاًکہاہے کہ انسان کی روح کے چارپہلو یا چار اصلی حس پائے جاتے ہیں:
۱۔”دانائی کی حس“: یہ حس انسان کوعلم و دانش حاصل کر نے کی ترغیب دیتی ہے اور اس کی روح کو علم حاصل کر نے کا شوق دلاتی ہے ،خواہ یہ علم اس کے لئے مادی فائدہ رکھتا ہو یانہ ہو۔
ب۔”بھلائی کی حس“یہ حس عالم بشریت میں اخلاقی اور انسانی مسائل کا سر چشمہ ہے۔
ج۔”زیبائی کی حس“:یہ حس،حقیقی معنی میں شعر،ادبیات اور فنّ وہنر کا سر چشمہ ہے۔
د۔”مذہبی حس“:یہ حس،انسان کو معرفت خدا اور اس کے فر مان کی اطاعت کر نے کی دعوت دیتی ہے ۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی حس انسانی روح کی ایک بنیادی اور اصلی حس ہے ۔یعنی یہ حس نہ کبھی اس سے جدا تھی اور نہ کبھی جدا ہو گی۔
۳۔آئندہ بحثوں میں ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ اکثر مادہ پرست اور منکرین خدا نے بھی ایک طرح سے خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے،اگر چہ وہ لوگ خدا کے نام لینے سے پرہیز کرتے ہیں اوراسے فطرت یا دوسرے نام سے پکارتے ہیں ،لیکن اس فطرت کے لئے ایسی صفتوں کے قائل ہوتے ہیں کہ جو خدا کی صفات کے مشابہ ہیں۔
مثلاًکہتے ہیں :فطرت نے اگر انسان کو دو گردے دئے ہیں،یہ اس لئے ہے کہ اسے معلوم تھا،ممکن ہے ان دو گردوں میں سے ایک خراب ہو جائے تو دوسرا گردہ اس کی زندگی کو جاری رکھ سکے ،وہ ایسی ہی تعبیرات بیان کرتے ہیں ۔کیا یہ بات ایک بے شعور فطرت کے ساتھ متناسب ہے ؟یا یہ کہ یہ ایک ایسے خداوند متعال کی طرف اشارہ ہے جو لامحدود علم وقدرت کا مالک ہے،اگر چہ انہوں نے اس کا نام فطرت رکھا ہے۔
بحث کا نتیجہ:اس بحث میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ،اس سے یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں :
خدا کی محبت ہماری روح میں ہمیشہ موجود تھی اور ہو گی۔
خدا کا ایمان ایک ایسا ابدی شعلہ ہے جو ہمارے قلب و روح کو گرم کر تا ہے۔
خدا کی معرفت حاصل کر نے کے لئے ہم مجبور نہیں ہیں کہ طولانی راستے طے کریں،ہمیں اپنے وجود کی گہرائیوں میں نظر ڈالنی چاہئے،خدا پر ایمان کو ہم وہاں پر پائیں گے۔
قرآن مجید فر ماتا ہے:
<ونحن اٴقرب إلیہ من حبل الورید(سورئہ ق/۱۶)
”اور ہم اس سے رگ گردن سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“

 


 غور کیجئے اور جواب دیجئے

۱۔عادت کی چند مثالیں اور فطرت کی چند مثالیں بیان کیجئے۔
۲۔نادان لوگ کیوں بت پرستی کے پیچھے جاتے تھے؟
۳۔مادہ پرست خدا کو کیوں”فطرت“ کے نام سے یاد کرتے ہیں؟

پانچواں سبق: ایک سچاواقعہ تیسرا سبق خدا کی معرفت کے دواطمینان بخش راستے
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma