اگرتم روگردانی کرو گے تودوسرے لوگ آجائیں گے :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ سُورہ“ محمد “ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہاد ہے جو جہاد کے مسئلے سے شروع ہوتی ہے اور جہادہی کے مسئلے پر ختم ہوتی ہے ۔
زیرتفسیر آیات جواس سُورت کی آخری آیات ہیں، اسی سلسلے میں انسانی زندگی کے ایک اور مسئلے کوبیان کررہی ہیں اور مسلمانوں کواطاعت الہٰی کے لیے عموماً اور مسئلہ جہاد کے لیے خصوصاً پہلے سے زیادہ شوق دلارہی ہیں اورانہیں زیادہ سے زیادہ متحرک کررہی ہیں اور بتار ہی ہیں کہ دُنیا وی زندگی کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ،کیونکہ جہاد سے باز رکھنے کا ایک ا ہم عامل دنیاوی زندگی سے مانُوس ہو نا اورمادی دُنیا سے دل لگانا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : دنیاوی زندگی توبس کھیل تماشا ہے (إِنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِبٌ وَ لَہْو ) ۔
” لعب “ (کھیل ) ایسے کام کو کہا جاتا ہے جس میں ایک طرح کاخیالی نظم ونسق پایاجائے ، جس کے ذریعے ایک خالی مقصد تک پہنچا جاسکے ، اور ’ ’ لھو“ (فضول مشغو لیّت و تماشا ) ہراس کام کوکہاجاتا ہے جوانسان کواپنی طرف مشغول رکھے اوراصولی مسائل سے اس کی توجہ ہٹادے ۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیاوی زندگی ایک ” کھل “ تماشا اورمہمل مشغولیت ہے ، نہ توجس سے کوئی کیفیّت حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی حال ، نہ اس کوکوئی دوام حاصل ہے اور نہ ہی بقا، یہ توچند گزرنے والے لمحات اورناپائید ار لذتوں پر مشتمل ہے ، جس کے ساتھ کئی طرح کاسر درد بھی ہے ۔
اس کے بعد فر مایاگیا ہے :اگر تم ایمان رکھو اور تقوے اختیار کرو ، تووہ تم کوپورا اجردے گا اوراس کے عواض میں تم سے تمہارامال طلب نہیں کرے گا (وَ إِنْ تُؤْمِنُوا وَ تَتَّقُوا یُؤْتِکُمْ اٴُجُورَکُمْ وَ لا یَسْئَلْکُمْ اٴَمْوالَکُم)(۱) ۔
ہدایت ورا ہنمائی اور دنیا وآخرت میں اس قدر جزا وثواب کے بدلے میں نہ تو خدا تم سے کسی مال کا مطالبہ کرتا ہے اور نہ ہی اس کارسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اصولی طورپر خدا کوتوکسی چیز کی ضرورت نہیں ہے اورپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ساری ضرو رتیں خود خدا پوری کرتا ہے ۔
اگرتمہار ے مال میں سے کچھ مختصر ساحِصّہ زکوٰة اورشرعی حقوق کے نام سے تم سے لیاجا تا ہے تووہ بھی خودتم پر ہی خرچ ہوتا ہے ،تمہارے یتیموں ،حاجت مندوں اورمسا فروں کی ضرورت یانگہداشت کے لیے اور تمہارے ملک کا امن وامان بحال رکھنے اوراستقلال اور آزادی کی حفاظت ، ملک کانظم ونسق چلانے ، ملکی ضر وریات کو پورا کرنے اور شہر وقصبات کوآباد رکھنے کے لیے ہے۔
بنابریں یہ مقدار بھی خود تمہارے لیے ہے ،کیونکہ خدا اور رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سب لوگوں سے بے نیاز ہیں ، تو اس طرح سے آیت کے مفہو م اورصدقات وزکوٰة اوررا ہ خدامیں خرچ کرنے کاحکم دینے والی دوسری آیات کے مفہوم کے درمیان کوئی تناقص نہیں ۔
” وَ لا یَسْئَلْکُمْ اٴَمْوالَکُم“ کے جُملے کی تفسیر اوراحتمال تناقص دُور کرنے کے لیے اور بھی کئی احتمالات ذکر کیے گئے ہیں چنانچہ :
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ہدایت اورثواب کے بدلے میں تمہارے مال سے کچھ نہیں مانگتا،بعض کہتے ہیں کہ : تمہاراسارا مال تم سے نہیں مانگتا ،بلکہ اس کا ایک تھوڑاساحصّہ مانگتا ہے ۔
بعض دوسرے کہتے ہیں :یہ جُملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سب مال خدا کے ہیں اگرچہ:
” چندروز ے ایں امانت نزد ماست “
لیکن سب سے زیادہ مناسب وہی پہلی تفسیرہے ۔
بہرحال یہ بھی فرموش نہیں کرنا چا ہیئے کہ جہاد کا ایک حِصّہ” جہاد بالمال “بھی ہے اوراصولی طورپر دشمن کے ساتھ ہرقسم کی جنگ کے لیے اخراجات کی ضر ورت ہوتی ہے جسے با ایمان اورمتقی مسلمانوں اوران لوگوں سے جمع کیاجانا چا ہئے جو دُنیا سے وابستہ اور دِل بستہ نہیںہیں ،زیرنظر آیات درحقیقت اسی چیز کے لیے فکر ی اور علمی رستہ ہموار کررہی ہیں ۔
بعد کی آیت اکثر لوگو ں کی مال ودولت سے محبت اوردلچسپی کی حدبیان کرتے ہُوئے کہتی ہے :اگروہ تم سے مال کا مطالبہ کرے بلکہ اصرار بھی کرے پھر بھی تم بخل کروگے ، بلکہ اس سے بڑھ کر تمہارے کینے اورغصّے کوآشکار کرے گا (إِنْ یَسْئَلْکُمُوہا فَیُحْفِکُمْ تَبْخَلُوا وَ یُخْرِجْ اٴَضْغانَکُمْ) ۔
” یحفکم “” احفاء “کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ” مطالبے اور سوال میں اصرار کرنا “اور” احفاء “دراصل ” حفاٴ “ سے ہے ، جس کامعنی ہے ننگے پاؤں چلنا ،یہ تعبیر ایسے کاموں کے لیے کنایہ ہے جنہیں انجام دینے کے لیے انسان آخری حد تک کوشش کرتا ہے ، اسی لیے ” احفاء شارب “کامعنی مونچھوں کوآخری حد تک منڈوانا ہے ۔
” اضغان “ ” ضغن “کی جمع ہے ، جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں اس کامعنی ہے ” سخت کینہ “۔
خلاصتہ الکلام یہ کہ یہ آیت بہت سے لوگوں کی مال اورمالی امورکے ساتھ سخت محبت اور دلچسپی کوترک کرنے کی ترغیب بھی دے رہی ہے کہ چھوڑو ایسی محبت کوکہ اگر خدا بھی تم سے مال طلب کرے توتمہیں غصّہ آ جاتا ہے اورکینے کا اظہا ر کرے لگتے ہو۔
تواس طرح اس تاز یانہ ٴملامت کے ذ ریعے انسان کو خفتہ رُوح کو بیدار کیاجار ہا ہے تاکہ وہ مال کی غلامی کاجوا اپنی گردنوںسے اتار پھینکیں اوراپنے آپ کواس حدتک تبدیل کریں کہ سب کچھ دوست کی را ہ میں خرچ کردیں اور سب کچھ اس کے لیے نثار کردیں ، جس کے بدلے میں اس کے تقوٰے،رضا اورخوشنودی کوحاصل کرلیا۔
زیرتفسیرآیات میں سے آخر ی آیت جوسُورہٴ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی آخر ی آیت ہے اور گذشتہ آیات میں مذ کور مادی مسائل اورلوگوں کی دُنیا سے دلچسپی اوررا ہ خدامیں خرچ کرنے کے بارے میں ایک اور تاکید ہے : ارشاد ہوتا ہے :جان لوکہ تم وہی لوگ ہوجو را ہ خدامیںخرچ کرنے کے لیے بلائے جاتے ہو تو تم میںسے بعض لوگ تواس فرمانِ الہٰی کی اطاعت کرتے ہیںجب کہ بعض اورلوگ بخل کرتے ہیں (ہا اٴَنْتُمْ ہؤُلاء ِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فی سَبیلِ اللَّہِ فَمِنْکُمْ مَنْ یَبْخَل) ۔
اس مقام پرایک سوال پیدا ہوتا ہے اوروہ یہ کہ اس سے پہلی آیات میں تو کہاجا چکا ہے کہ خدا تم سے مال مطالبہ نہیں کرتاتوپھر اس آیت میں فی سبیل اللہ خرچ کرنے کاحکم کیوں کردیاجارہا ہے ؟
آیت کا دوسراحِصّہ خودہی اس سوال کاجواب دیتا ہے اورپہلے کہتا ہے : جوشخص خرچ کرنے سے بخل کرتا ہے تووہ خود اپنے ہی بخل کرتا ہے (وَ مَنْ یَبْخَلْ فَإِنَّما یَبْخَلُ عَنْ نَفْسِہِ )(۲) ۔
کیونکہ اس خرچ کا نتیجہ دُنیا میں بھی تمار ے حق میں ہے اور تمہارے فائدے کے لیے ہے ، کیونکہ طبقاتی فاصلے کم ہو جائیں گے ، معاشرے میں امن وامان قائم ہوگا اور عداوت اور کینے کے بجائے پیارو محبت اورصدق وصفا کادور دورہ ہوگا ،یہ ہے تمہارا دنیاوی ثواب اور فائدہ۔
اور آخرت میں بھی وہ تمہیں درہم ودینار کے بدلے میں ایسی نعمتیں عطافرما ئے گا، جس کا انسانی ذہن میں تصوّر محال ہے اسی لیے تم جس قد ربخل کرو گے ، خوداپنے ہی ساتھ بخل کرو گے ۔
دوسرے لفظوں میں یہاں پرانفاق کاذکرزیادہ ترجہاد کے بارے میں انفاق کے لیے ہے اور ” فی سبیل اللہ “کی تعبیر بھی اسی معنی سے مناسبت رکھتی ہے اور واضح سی بات ہے کہ جس قدر بھی جہاد کے اُمور میںزیادہ امداد کی جائے گی اسی قدر معاشرے کی عزت ، استقلال اور وجُود کی زیادہ حفاظت کی جاسکے گی ۔
دوسراجواب یہ ہے کہ : خدا غنی اور بے نیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو (وَ اللَّہُ الْغَنِیُّ وَ اٴَنْتُمُ الْفُقَراء) ۔
وہ تمہارے خرچ کرنے سے بھی بے نیاز ہے اور تمہاری اطاعت سے بھی ، یہ تم ہوکہ دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کے لطف وکرم ، رحمت وعنایت اور اس کے اجرو ثواب کے محتاج ہو ۔
اصولی طورپر تمام ممکن ابوجُود اور سوائے ذات خدا کے کل کائنات مجسم ضرور ت ،فقراوراحتیاج ہے اورغنی بالذّات صرف اورصرف خدا ہے ، باقی سب اپنے اصل وجُود میں بھی ہمیشہ اسی کے محتاج ہیں اورلمحہ بہ لمحہ اس کے فیض وجُودکے لا یزال منبع سے مدد حاصل کرتے رہتے ہیں حتّٰی کہ ایک لمحہ کے لیے بھی وہ اپنے فیض کوروک لے توتمام کائنات ختم ہوجائے اور عالم ِ ہستی کی عمارت دھڑام سے نیچے آگرے ۔
فرور ریز قدقالبہا
آخری جُملہ تمام مسلمانوں کے لیے تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ تم اس عظیم نعمت کی قدر جانو کہ خدانے تمہیں اپنے مقدس دین کامحافظ قرار دیا ہے تاکہ تم اس کے دین کے حامی اوراس کے رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدد گار بنو ، اگرتم نے اس عظیم نعمت کی قدر نہ جانی” اگر تم نے رو گر دانی کی تووہ یہ فریضہ کسی اورقوم کے سپرد کردے گا جوتم جیسی نہیں ہوگی “(وَ إِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْرَکُمْ ثُمَّ لا یَکُونُوا اٴَمْثالَکُم) ۔
یقینایہ بوجھ کبھی زمین پرنہیں رکھاجائے گا ، اگرتم نے اپنے موقف کی ا ہمیّت کونہ پہچانا اوراس عظیم ذمہ داری سے عہدہ برآ نہ ہُوئے توخدا ایک اورقوم کوبھیجے گا اوریہ عظیم ذمہ داری اس کے کندھوںپر ڈال دے گا ،وہ ایسی قوم ہوگی جوایثار وقربانی ، جاں نثاری اور فداکاری ، جان ومال خرچ کرنے اورفی سبیل اللہ انفاق کرنے میں تم سے کئی درجے برتر اور بالا ترہوگی ۔
یہ ایک بہت بڑی دھمکی اورتنبیہ ہے ، جس سے مِلتی جُلتی اور ز بردست تنبیہ سُورہٴ مائدہ کی ۵۳ ویں اور ۵۴ ویں آیت میں بھی بیان ہوچکی ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔
یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دینِہِ فَسَوْفَ یَاٴْتِی اللَّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّونَہُ اٴَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنینَ اٴَعِزَّةٍ عَلَی الْکافِرینَ یُجا ہدُونَ فی سَبیلِ اللَّہِ وَ لا یَخافُونَ لَوْمَةَ لائِمٍ “
” اے ایمان دارو ! تم میں سے جوشخص بھی اپنے دین سے پھرگیا (وہ خدا کوتوکوئی نقصان نہیںپہنچائے گا )خدا مستقبل میں ایسی قوم کے لے آ ئے گا جسے وہ دوست رکھتا ہوگا اور وہ بھی خدا کو دوست رکھتی ہوگی ، مومنین کے آگے متواضح اورکافروں کے منے ڈٹ جانے والی ہوگی ،وہ ایسے لوگ ہوں گے جورا ہ خدامیں جہاد کریں گے اورملامت کرنے والوں کی ملامت سے ہرگز نہیں گھبرائیں گے “۔
یہ بات بھی نہایت قابلِ توجہ ہے ہے کہ زیرتفسیرآیت کے ذیل میں اکثر مفسرین نے نقل کیا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعدکُچھ صحابہ نے عرض کیایارسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)!
” من ھٰوٴ لاء الّذین ذکراللہ فی کتابہ؟ “
” یہ کون لوگ ہیں جن کی طرف خدانے اس آیت میں اشارہ کیا ہے ؟“
اس دوران میں سلمان بھی آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہُوئے تھے ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کی ران پر( ایک اور روایت کے مطابق ان کے شانے پر )ہاتھ مار کر فرمایا:
ھٰذا وقومہ ،والّذی نفسی بیدہ لوکان الایمان منوطابالثریالتناولہ رجال من فارس“۔
” یہ اوراس کی قوم مراد ہیں ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے اگرایمان ثریا کی بلندیوں پر بھی ہوتو فارس کے رہنے والے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرے لیں گے “۔
اس حدیث کو اوراس سے مِلتی جُلتی دوسری احادیث کواہل سنّت کے مشہور محدّ ثین نے بھی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، جیسے محدّث بہیقی اورمحدّث ترمذی وغیرہ ،شیعہ وسُنی مشہور مفسرین کو بھی اس سے اتفاق ہے ، جیسے مفسر قرطبی ، مفسرروح البیان ، مفسرمجمع البیان،فخر رازی ، مراغی اور ابو لفتوح رازی وغیرہ ۔
تفسیر دُدِّمنثور کے مفسرنے بھی اس آیت کے ذیل میں اس بارے میں کئی حدیثیں نقل کی ہیں ( ۳) ۔
ایک اورحدیث حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے جومندر جہ بالا حدیث رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے تتمہ کی حیثیت رکھتی ہے ، امام فرماتے ہیں ۔
” واللہ ابدل بھم خیراً منھم ، الموالی “۔
” خدا کی قسم خدانے اپنے اس وعدے کوپورا فرمایا ہے اورغیر عرب کوجواُن سے کئی گنابہترہیں ان کا جانشین قرار دیا ہے “ ( ۴) ۔
اگر پُور ے غور وفکر اورہرقسم کے تعصّب سے ہٹ کر تاریخ ِاسلام اوراسلامی علوم کامطالعہ کریں اورعجمیوںخصوصاً ایرانیوں کے میدان جنگ وجہاداورعلومِ اسلامی کی چھان بین اور ترتیب وتدوین کے حصّے کودیکھیں تواس حدیث کی حقیقت کا اچھی طرح پتہ چل جائے گا ، اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کہنے کی بہت سی باتیں ہیں ۔
خداوندا ! اپنے پاک دین کی را ہ میں جہاد ، ایثار اورفد کاری کے لیے ثابت قدم رکھ ۔
بارالہٰا! یہ عظیم اعزاز جوتونے ہمیں بخشا ہے کہ تیرے دین پاک کے داعی ہوں ہم سے واپس نہ لے ۔
پر وردگار ا! اس وقت جب مشرق ومغرب کے شدید طوفان تیرے پاک دین کے آثار مٹانے کے لیے اُٹھ کھڑے ہُوئے ،ہمیں زیادہ سے زیادہ قوت ، محکمِ ایمان ،زیادہ ایثار اورزیادہ سے زیادہ خلُوص کی دولت سے مالا مال فرما۔
۱۔” لا یسئلکم “ کاجُملہ مجزوم اور جملہ شر طیہ کی جزا یعنی ” یُو تکم ) پرعطف ہے ۔
۲۔” بخل “کالفظ کبھی ” تو ” عن “کے ساتھ متعدی ہوتا ہے اور کبھی ” علیٰ “کے ساتھ پہلی صورت میں منع اور روکنے کے معنی میں ہوگا اوردوسری صورت میں نقصان پہنچانے کے معنی میں ۔
۳۔تفسیردرمنثور جلد۶،صفحہ ۶۷۔
۴۔ مجمع البیان ، جلد۹،صفحہ ۱۰۸۔

اٰمین یاربّ العالمین
تفسیرنمونہ جلد۲۱ کا اختتام ہوا
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma