بے جا اور رُسواکن صلح :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
گذشتہ آیات جہاد کے سلسلہ میں تھیں اور یہ آیت بھی جہاد ہی کے بارے میں ایک ا ہم نکتے کی طرف ا شارہ کررہی ہے اور وہ یہ کہ سُست اور ضعیف الا ایمان افراد جہاد کی سختیوں اور میدانِ جنگ کی مشکلات سے جان چھڑانے کے لیے عام طورپر ” صُلح “ کاپرچار کرنے لگتے ہیں ․ یقینا صُلح ایک بہت اچھی چیز ہے ،لیکن اپنے مقام پر، ایسی صُلح جواسلام کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کرے اورمسلمانوں کی عزت و عظمت اور شرافت کی حفاظت کرے ، نہ کہ وہ صلح جومسلمانوں کی ذلت اورخواری کاباعث بن جائے ۔
اسی لیے ارشاد فرمایاگیا ہے : اب جب گذشتہ احکام کو تم نے سُن لیاتو اب تم ہمّت نہ ہارو اوردشمن کو صلح کی دعوت نہ دو تم برتر ہو (فَلا تَہِنُوا وَ تَدْعُوا إِلَی السَّلْمِ وَ اٴَنْتُمُ الْاٴَعْلَوْن)(۱) ۔
” لا تھنو اولاتد عوا الی السلم“۔
یعنی اب جبکہ تمہاری فتح و برتری کی علامت ظا ہر ہوچکی ہے تو تم ایسی صلح کی پیش کش کرکے اپنی کا میابی کو ملیا میٹ کررہے ہو جس صلح کامعنی پیچھے ہٹنا اور شکست تسلیم کرنا ہے ، یہ تو سُستی اورکمز وری کی وجہ سے ہے ،یہ ایک طرح بڑی آرام طلبی ہے ، جس کے نتائج نہایت ہی درد ناک اور خطر ناک ہوتے ہیں ۔
اسی آیت کے ضمن میں مسلم مجا ہدین کے حوصلے بلندکرنے کے لیے فر مایاگیا ہے : اورخدا تمہار ے ساتھ ہے اور وہ ہرگز تمہار ے اعمال کے ثواب کو کم نہ کرے گا (وَ اللَّہُ مَعَکُمْ وَ لَنْ یَتِرَکُمْ اٴَعْمالَکُم) ۔
جس کے ساتھ خدا ہے کامیابی کے تمام اسباب وعوامل بھی اسی کے پاس ہیں وہ اپنے آپ کوکبھی اکیلا نہیں سمجھتا ، نہ توکسی سُستی کا اظہار کرتا ہے اورنہ ناتوانی کا ،صلح کے نام پر دشمن کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتا، شہیداء کے خون سے حاصل ہونے والے نتائج کو برباد نہیں کرتا۔
” لن یترکم “ ” وتر“ ( بروز ن ” سطر“ ) کے مادہ سے ہے، جس کامعنی ہے ” اکیلا “ اسی لیے ان لوگوں کو ” وتر“ (بروزن ’ ’ فکر“ ) کہتے ہیں جن کے قریبی رشتہ دار میدانِ جنگ میں مارے جاتے ہیں اوروہ اکیلے رہ جاتے ہیں ، نقص اور کمی کو بھی ” وتر“ کہتے ہیں اور زیرتفسیر آیت میں اسی چیز کو کنایہ میں بیان کیاگیا ہے کہ خداتمہیں اکیلانہیں چھوڑ ے گا اور تمہارے اعمال کے اجرو ثواب کوتمہارے ہمرا ہ کردے گا ۔
خاص کریہ تو جب تم جانتے ہو کہ جہاد کی را ہ میں تم جو بھی قدم اٹھا تے ہو وہ لکھ لیے جاتے ہیں اس سے صرف یہ نہیں کہ تمہارے اجرو ثواب میں سے کُچھ کمی نہیں کرتا،بلکہ اپنے فضل وکرم سے اس میں اضافہ بھی کرتا ہے ۔
ہمار ے ان تمام بیانناکاجوصُلح کے بارے میں سُورہٴ انفال کی ۶۱ ویں آیت سے کوئی تضاد نہیں ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ :
” وَ إِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ إِنَّہُ ہُوَ السَّمیعُ الْعَلیم“
اگرو ہ صلح پرمائل ہوجائیں توتجھے بھی صلح کرلینی چا ہیئے اورخداپر بھروسہ رکھ ،کیونکہ وہ سُننے اور جاننے والا ہے ۔
ان میں سے کسِی آیت کودوسری کاناسخ قرار نہیں دیاجا سکتا۔
بلکہ ان دونوں کا اپنا اپنا خاص موقع ہے ایک ” معقول صلح “ کاتحفظ کیاجاتا ہے اور دوسری وہ ہے جوفتح اورکامرانی کے نزدیک کے وقت ضعیف اور سُست ایمان مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے ، اسی لیے سُورہ ٴ انعال والی آیت کے بعد کے حصّے میں فر مایاگیا ہے
وَ إِنْ یُریدُوا اٴَنْ یَخْدَعُوکَ فَإِنَّ حَسْبَکَ اللَّہ“
اوروہ اگر صلح کی بات کرکے تمہیں دھوکا دیناچا ہیں اوراس کے پردے میں کوئی فریب کاری کار فرما ہو تو ان کی باتوں میں ہرگز نہ آ اور نہ ہی گھبرا ،کیونکہ خداتیر ا پشت پنا ہ ہے “۔
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام مالک اشتر کے نام اپنے ایک فرمان میں ان دونوں قسم کی صلح کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے ارشاد فرماتے ہیں :
ولا تد فعن صلحاً دعاک الیہ عدوک واللہ فیہ رضا“ ۔
” جب دشمن تمہیں ایسی صلح کی دعوت دیں جس میں خدا کی رضامندی ہوتواس پیش کومت ٹھکراؤ ( ۲) ۔
دشمن کی طرف سے صلح کی دعوت ایک طرف سے اور خدا کی رضا کا اس میں شامل ہونادوسری طرف سے ،تواس طر ح سے صلح دو حِصّوں میں تقسیم ہوگئی جن کی طرف ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں ۔
بہرحال مسلمان سربر ا ہوں کوصلح وجنگ کے موقع کی پہچان کرنی چا ہیئے ،کیونکہ یہ ایک نہایت ہی باریک ترین اورپیچیدہ ترین مسئلہ ہے ، جس میں نہایت ہی وقت اورہوشیار ی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس بارے میں ذراسی حسابی غلطی کا ہولناک اور مہیب انجام ہوتا ہے ۔
۱۔ ” تد عوا “ مجزوم ہے اور ” لاتھنوا“ پراس کاعطف ہے ، جس کامعنی یہ ہے :
۲۔ نہج البلاغہ ،خطبہ ۵۳۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma