وہ جہاد کے نام سے بھی ڈر تے ہیں :

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21
ان آیات میںجہاد کے متعلق مومنین اورمنافقین کا ردّ عمل بیان کیاجارہا ہے ،گزشتہ آیات میں ان دونوںگروہوں کے متعلق گفتگو کے سلسلے میں یہ آیات تتمہ کی حیثیت رکھتی ہیں ، چنانچہ سب سے پہلے فر مایاگیا ہے: مومنین ہمیشہ کہتے رہتے ہیں کہ کوئی سُورت کیوں نازل نہیں ہوتی (وَ یَقُولُ الَّذینَ آمَنُوا لَوْ لا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ) ۔
ایسی سُورت کہ جس میںجہاد کاحکم ہواور سنگدل،خونخوار اور بے منطق دشمن کے مقابلے میں ہمیں ہمارے فرائض سے آگاہ کرے ، ایسی سُورت کہ جس کی آیات ہمارے دلوں کے لیے نورہدایت ہُوں اورہماری رُوح کواپنے فروغ سے روشن کردیں ۔
یہ تو ہے حقیقی مومنین کی کیفیّت۔
لیکن منافقوں کاحال یہ ہے کہ ” جب کوئی محکم سُورت نازل ہوتی ہے ، جس میں جنگ اورجہادکاذکر ہوتو تو بیمار دِلم منافقوں کودیکھے گا کہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جس طرح کوئی موت کے کنارے پہنچ کر پریشان اور مبہود ہو کردیکھتا ہے اور جس کی آنکھوں کے ڈھیلے حرکت کرنے سے رُ ک جاتے “(فَإِذا اٴُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْکَمَةٌ وَ ذُکِرَ فیہَا الْقِتالُ رَاٴَیْتَ الَّذینَ فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ یَنْظُرُونَ إِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ) ۔
جنگ کانام سننے سے وحشت واضطراب انہیں سر تاپایوں گھیرلیتے ہیں ، جیسے قریب سے ہے کہ ان کے سینے سے با ہر آجائیں ، ان کی عقلیں ماؤف ہوجائیں ، آنکھیںپتھر اجائیں جس طرح موت کے قریب انسان کی آنکھیں بے حس وحرکت اورکھلی کی کھُلی رہ جاتی ہیں اور یہ ڈر پوک اور بُزدل منافقین کی کیفیّت کی ایک واضح اور مکمل تصویر ہے ۔
آخر جہاد کے بارے میں مومنین اورمنافقین کامختلف ردّ عمل کیوں نہ ہو، جبکہ پہلا گروہ اپنے محکم ایمان کی وجہ سے ایک تواپنے پروردگار کے لطف وکرم اورامداد کا امید وار ہوتا ہے اور دوسر ے ، اس کی را ہ میں شہادت سے بھی نہیں گھبرا تا۔
ان کے لیے میدانِجہاد،محبُوب سے اظہارِ عشق کامقام ، شرافت کامیدان ، استعداد اورصلاحیت کے پروان چڑھنے کی جگہ اوراستقامت وفتح و کا مرانی میدان ہوتا ہے ، اس طرح کے میدان سے خوف کے کیامعنی ۔
جبکہ منافقین کے لیے موت ، تبا ہی اور بربادی کامقام ،شکست اور دنیاوی لذ توں کو خیر آ باد کہنے کی جگہ ظلمتوں اور تاریکیوں بھرامید ان اورایسا میدان ہوتا ہے جس کا مستقبل وحشت ناک اورنامعلوم ہوتا ہے ۔
بعض مفسرین کے نظر یہ کے مطابق ” سورة محمکمة “سے مراد وہ سُور تیں ہیں جن میں جہاد کے مسائل بیان کیے گئے ہیں لیکن اس تفسیر کی کوئی دلیل نہیں ملتی ،بلکہ اس کی بظا ہر تفسیر یہ ہے کہ ” محکم “ یہاں پر مستحکم ،پائدار ،دوٹوک اورہرقسم کے ابہام سے خالی کے معنی میں ہے جوبعض اوقات ” متشابہ “کے مقابل میں ذکر ہوتا ہے ، البتہ چونکہ آیات جہاد میں عا م طور پر واضح اور دوٹوک حکم ہوتا ہے لہذا اس مفہوم سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ،لیکن اس میں منحصر نہیں ہے ۔
” الّذین فی قلوبھم مرض “(جن لوگوں کے دلوں مین بیماری ہے ) کی تعبیر قرآنی زبان میں عام طورپر ” منافقین کے لیے استعمال ہوتی ہے ،بعض مفسرین اِس سے جویہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد ” ضعیف الایمان “لوگ ہیں توا ن کا نظر یہ نہ تو قرآن کی دوسری آیات سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی زیرتفسیر آیت سے قبل وبعد کی آیات سے جوسب کی سب منافقین کے متعلق گفتگو کررہی ہے ہیں ۔
بہرحال آیت کے آخر میں مختصر اً فر مایاگیا ہے : ان پر افسوس ہے کہ موت اور تبا ہی ان کے لیے زند گی سے بہتر ہے (فَاٴَوْلی لَہُم) ۔
”اٴَوْلی لَہُم “ کاجُملہ عربی ادب میں عام طورپر کسی دھمکی دینے کسی پر لعنت بھیجنے کسِی سے اظہار نفرت کرنے اورکسی کے لیے بدبختی اور پر یشانی کی آ رزو کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ( ۱) ۔
بعض مفسرین نے اس کی ” الموت اولیٰ لھم “(موت ان کے لیے بہتر ہے ) کے معنی سے تفسیر کی ہے اوراگران دونوں معانی کوآپس میں ملا دیاجائے جس طرح ہم نے آیت کی تفسیر میں کیا ہے توکوئی مانع موجُود نہیں ہے ۔
بعد کی آیت میں فرمایاگیا ہے : لیکن اگروہ اطاعت کریں اور فرمانِ جہاد سے منہ نہ موڑیں ،نیک ،سنجیدہ اوراچھی باتیں کریں تویہ ان کے لیے بہتر ہے (طاعَةٌ وَ قَوْلٌ مَعْرُوف)( ۲) ۔
ممکن ہے ” قول ِ معروف “کی تعبیر منافقین کی جہاد کے بارے میں ان ناموزوں اور غیر مناسب باتوں کے مقابلے میں ہوجو وہ جہاد کی آیات نازل ہونے کے بعد کیاکرتے تھے ،کبھی توکہتے تھے کہ :
” لا تَنْفِرُوا فِی الْحَرِّ “
” اس قدر شدید گرمی میں میدان ِ جہاد کی طرف مت مکلو “(توبہ /۸۱) ۔
اور کھبی کہتے :
”وَ إِذْ یَقُولُ الْمُنافِقُونَ وَ الَّذینَ فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ ما وَعَدَنَا اللَّہُ وَ رَسُولُہُ إِلاَّ غُرُورا “
” خدا اوراس کے رسُول نے ہمیں کامیابی کے جُھوٹے وعدے کے سوا اور کچھ نہیں دیا “( احزا ب / ۱۲) ۔
کبھی موٴ منین کونا امید کرنے اورانہیں میدان جنگ سے روکنے کے لیے کتے :
” ہَلُمَّ إِلَیْنا “
” ہماری طرف آ ؤ اورخوش رہو “ (احزاب / ۱۸) ۔
وہ لوگوں کونہ صرف جہاد کی ترغیب نہیں دیتے تھے بلکہ ان کے حوصلے پست کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور بھی لگایا کرتے ۔
مزید فرمایاگیا ہے : پھر جب لڑائی ٹھن جائے اورحکم جہاد قطعی ہوجائے تواگر یہ لوگ خداسے سچے رہیں اورصدق وصفا کی را ہ اختیار کریں توان کے حق میں بہتر ہے (فَإِذا عَزَمَ الْاٴَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّہَ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ ) ۔
یہ بات دُنیا میں بھی ان کی سرفر ازی کاباعث ہے اور آخر ت میں بھی وہ ثواب عظیم اور بہت بڑی کامیابی حاصل کریں گے ۔
” عَزَمَ الْاٴَمْر“ دراصل کسِی کام کے پختہ اورمحکم ہونے کی طرف اشارہ ہے ،لیکن قبل وبعد کی آیات کے قرینے کی وجہ سے اس سے مراد ” جہاد “ ہے ۔
بعد کی آیت میں ارشاد فر مایاگیا ہے : لیکن اگر مخالفت کا راستہ اختیار کرو اور فرمانِ الہٰی اوراس کی کتاب پر عمل کرنے سے رو گر دانی کرو توتم سے سوائے روئے زمین پرفساد برپا کرنے اورقطع رحمی کے اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے (فَہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ اٴَنْ تُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَ تُقَطِّعُوا اٴَرْحامَکُمْ )(۳) ۔
کیونکہ اگر تم قرآن اورتوحید سے رو گردان ہوجاؤ تو یقینا جاہلیّت کی طرف لوٹ جاؤ گے اور جاہلیت کاطریقہٴ کار توبس ” فساد فی الارض “ قتل وغارت اورخوں ریزی اورقریبی عزیزوں اور بیٹیوں کوموت کے گھاٹ اتارنا ہے۔
یہ اس صورت میں ہے جب ” تو لّیتم “ کو” تولی“ یعنی رو گر دانی کے مادہ سے لیاجائے ،لیکن بہت سے مفسرین نے اسے ” ولایت “ (حکومت ) کے مادہ سے لیا ہے ، جس کامعنی یہ ہوگاکہ اگرحکومت کی باگ ڈور تمہار ے ہاتھ آ جائے تو تم سے تبا ہی وبر بادی ،خون ریزی اور قطع رحمی کے علاوہ اور کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ۔
گو یاکچھ منافقین نے میدان جہاد سے را ہ فرار اختیار کرلینے کا یہ بہانہ گھڑ لیاتھا کہ ہم مید ن جنگ میں کیوں قدم رکھیں اور کیوں وہاں پرخوں ر یزی کا ارتکاب کریں اوراپنے قریبیوں کومت کے گھاٹ اتار کر ’ ’ مفسد فی الارض “ بنیں ۔
قرآن مجید ان کے اس بہانے کے جواب میں کہتا ہے : تو کیاجب حکومت تمہار ے پاس تھی ، اس وقت تُم ” فساد فی الارض “ قتل وغارت اورخون ریزی اورقطع رحمی کے علاوہ اورکیاکیا کرتے تھے ؟ یہ سب بہانے ہیں ، اسلام میں جنگ کامقصد فتنہ کی آگ کوبُجھانا ہے نہ کہ فتنہ وفساد کوہوادینا اورظلم وستم کی بساط کوالٹنا ہے نہ کہ قطع رحمی ۔
اہل بیت اطہار علیہم السلام سے منقول بعض روایات میں ہے کہ ” یہ آیت بنی امیہ کے بارے میں ہے کہ جب انہوں نے زمام ِ حکومت سنبھالی تو نہ توکسی چھوٹے پررحم کیا اور نہ ہی کسِی بڑے پر ” حتّی کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے سے نہیں چُو کے “( ۴) ۔
ظا ہر ہے کہ ابوسفیا ن سے لے کر اس کے پورتوں پڑ پوتوں تک تمام بنی امیّہ اس آیت کاروشن مصدا ق تھے اور روایت کی مراد بھی یہی ہے ،لیکن آیت کامفہوم عام اوروسیع ہے جس میں تمام ظالم اورمفسد منافقین شامل ہیں ۔
بعد کی آیت اس منافق اور بہانہ جُو مفسد گرو ہ کے حتمی انجام کوان لفظوں میں بیان کرتی ہے : ” یہ وہی لوگ ہیں جنہیں خدانے اپنی رحمت سے دُوررکھا ہے ، ان کے کانوں کوبہرہ اوران کی آنکھوں کو اند ھا کردیا ہے ،نہ تووہ کسِی حقیقت کوسن سکتے ہیں اور نہ ہی اسے دیکھ سکتے ہیں (اٴُولئِکَ الَّذینَ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فَاٴَصَمَّہُمْ وَ اٴَعْمی اٴَبْصارَہُمْ ) ۔
وہ اسلامی جہاد کو، جو حق و عدالت پر مبنی ہوتا ہے قطع رحمی اورفساد فی الارض سے تعبیر کرتے ہیں لیکن دور جاہلیّت میں انہوں نے خود جن جرائم کا ار تکاب کیا ہے ، اپنی حکومت کے دوران بے گنا ہوں کا جو خون بہایا ہے اورمعصُوم نو مولُود بچّوں کواپنے ہاتھوں سے زندہ در گور کیا ہے ، کیاوہ سب حق بھی تھا اور عدالت پر مبنی بھی ؟ خدا کی لعنت ہوان پر جن کے پاس نہ توحق سننے کے لیے کان ہیں اور نہ ہی حقیقت کودیکھنے کے لیے آنکھیں ۔
حضرت امام علی علیہ السلام بن الحسین علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے اپنے فر زند امام محمد باقر علیہ السلام سے فر مایا:
ایاک ومصا حبة القاطع لرحمہ ، فانی وجدتہ ملعونافی کتا ب اللہ عزو جل فی ثلاث مواضع ،قال اللہ عزّ و جل ” فھل عسیتم “۔
” میرے بیٹے ! ان لوگوں کی دوستی سے پر ہیز کرو جوقطع رحمی کرتے ہیں ،کیونکہ میں نے انہیں قرآن میں تین مقام پرملعون پایا ہے اورپھر آپ نے آیت ” فھل عسیتم “ کی تلاوت فر مائی “ ( ۵) ۔
” رحم “ دراصل شکم مادر میں جنین کے رہنے کی جگہ کوکہتے ہیں، بعد ازاں اس تعبیر کاتمام رشتہ داروں پر اطلاق ہونے لگا ، اس لیے کہ ان سب کا ایک ہی ” رحم “ سے تعلق ہوتا ہے ۔
رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافرمان ہے :
” ثلاثة لاید خلون الجنّة مدمن خمرو مدمن سحر و قاطع رحم “ ۔
تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جوبہشت میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے ،شرابی جاد و گر اور قطع رحمی کرنے والے (۶) ۔
ظا ہر سی بات ہے کہ ایسے لوگوں پر خداکی لعنت اوررحمت خداسے دوری اسی طرح ان سے حقائق کے ادراک کی قوت کاسلب ہوجانا ، ہرگز جبر پر مبنی نہیں ہے ،کیونکہ یہ خُود ان کے اپنے اعمال کی سزا اور ان کے کردار وگفتار کاردّ عمل ہے ۔
اسی سلسلے کی دوسری آیت میں اس بدبخت گروہ کے انحراف اور گمرا ہی کے سبب کویوں بیان فر مایاگیا ہے : تو کیایہ لوگ قرآنی آیات میںغور فکر نہیں کرتے ( تاکہ حقائق ادراک کرکے اپنے فرائض کوانجا م دیں ) یاپھر کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہُوئے ہیں (اٴَ فَلا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اٴَمْ عَلی قُلُوبٍ اٴَقْفالُہا) ۔
جی ہاں ! ان کے مصیبت کاسبب ان دو چیزوں میں سے ایک ہے یاتووہ قرآن میں غور وفکر کرتے جوقرآن ہدایت الہٰی کاحامل اور شفاعطا کرنے کا مکمل نسخہ ہے یا اگر غور توکرتے ہیں ،لیکن خوا ہشات ِ نفسانی کی اتباع اورپہلے سے انجام دیئے ہُوئے کرتوتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر ایسے قفل پڑچکے ہیں کہ کوئی بھی حقیقت ان کے دلوں تک نہیں پہنچ پاتی ۔
دوسرے لفظوں میں اگرکوئی شخص تاریکیوں میں اپنا راستہ کھو بیٹھے اور اس کے ہاتھ میں کوئی چراغ بھی نہ ہو یا اگرچراغ تو ہو لیکن اس کی آنکھیں نابینا ہوں تووہ راستے سے بھٹک جائے گا،لیکن اگرہاتھ میں چراغ بھی ہو اور آنکھیں بھی صحیح وسالم ہوں تو راستہ واضح ہوتا ہے ۔
” اقفال “ ” قفل “ کی جمع ہے جواصل میں ” قفول “ (واپس لوٹ جانا ) کے مادہ سے ہے یا” قفیل “ (بمعنی خشک چیز ) کے مادہ سے ،چونکہ جس وقت دروازے کوبند رکر کے اسے تالا لگادیاجاتا ہے توجوشخص بھی آ تا ہے وہاں سے واپس پلٹ جاتا ہے اورخشک اورٹھوس چیزکے مانند کوئی چیز بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتی لہذا یہ کلمہ اس مخصوص اوزار پر استعمال ہونے لگا ۔
۱۔کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ جُملے کامعنی یوں ہوگا ” یلیہ مکروہ“اوراسے ” ویل لھم “کے ہم معنی سمجھا ہے ۔
۲۔” طاعة “مبتدا ہے اوراس کی خبرمحذُوف ہے جو تقدیری طورپر یوں ہوگی ”طاعة وقول معروف امثل لھم “بعض اسے مبتداء محذوف کی خبر سمجھتے ہیں جوتقدیری طورپر یوں ہوں گی ”امرنا طاعة “لیکن پہلامعنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
۳۔اگرچہ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں بہت کم بحث کی ہے ، لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ ” ان تولّیتم “ کاجُملہ جو ” عسٰی “ کے اسم وخبر کے درمیان واقع ہوا ہے ، جملہ ٴ شر طیہ ہے واراس کی جزاء ” فھل عسیتم ان تفسد و افی الارض “ کامجموعی جُملہ ہے جو تقدیری طورپر یوں ہے ” ان تو لّیتم عن کتاب اللہ فھل یتر قب منکم الا الغسا دفی لارض “ ۔
۴۔ تفسیر نور الثقلین، جلد۵،صفحہ ۴۰۔
۵۔ اصول کافی، جلد۲باب من تکرہ مجالسة حدیث ۷، لیکن دوسری دو آیتیں جوحدیث کے ضمن میں بیان ہوئی ہیں ایک توسورہٴ رعد کی ۲۵ ویں آیت ہے اور دوسری سورہٴ بقرہ کی ۲۷ ویں آیت ہے ایک میں صراحت کے ساتھ لعنت کاتذکرہ ہے اور دوسر ی میں کنایہ ٴ کے طورپر ۔
۶۔ خصال صدوق ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma