سوره محمد/ آیه 20- 24

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 21

۲۰۔وَ یَقُولُ الَّذینَ آمَنُوا لَوْ لا نُزِّلَتْ سُورَةٌ فَإِذا اٴُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْکَمَةٌ وَ ذُکِرَ فیہَا الْقِتالُ رَاٴَیْتَ الَّذینَ فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ یَنْظُرُونَ
إِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ فَاٴَوْلی لَہُمْ ۔
۲۱۔طاعَةٌ وَ قَوْلٌ مَعْرُوفٌ فَإِذا عَزَمَ الْاٴَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّہَ لَکانَ خَیْراً لَہُم۔
۲۲۔فَہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ اٴَنْ تُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَ تُقَطِّعُوا اٴَرْحامَکُمْ ۔
۲۳۔اٴُولئِکَ الَّذینَ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فَاٴَصَمَّہُمْ وَ اٴَعْمی اٴَبْصارَہُمْ ۔
۲۴۔اٴَ فَلا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اٴَمْ عَلی قُلُوبٍ اٴَقْفالُہا ۔

ترجمہ

۲۰۔اور موٴ خین کہتے ہیں کہ (جہاد کے بارے میں ) کوئی سُورت کیوں ناز ل نہیں ہوتی ؟ لیکن جب کوئی محکم سُورت نازل ہوتی ہے کہ جس میں جہاد کاذکرہو تو بیماردِل منافقوں کودیکھے گا کہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے ، جس طرح کسی کومت آنے لگے ، پس موت اور تبا ہی ان کے لیے بہر ہے ۔
۲۱۔لیکن اگروہ اطاعت کریں اور سنجیدہ اور شائستہ بات کریں تویہ ان کے لیے بہتر ہے پھر جب جہاد کاحتمی حکم آ جائے تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہیں ( اور صدق وصفا کاراستہ اختیار کریں ) توان کے حق میں بہتر ہے ۔
۲۲۔لیکن اگرتم رو گرادنی اختیار کرو توتم سے سوائے زمین میں فساد اورقطعی رحمی کے اورکیا توقع رکھّی جاسکتی ہے ۔
۲۳۔یہ ایسے لوگ ہیںجنہیں خدانے اپنی رحمت سے دُور کردیا ہے ، ان کے کانوں کو بہرہ اوران کی آنکھوں کواندھا کردیا ہے ۔
۲۴۔کیایہ لوگ قرآن میں غور وفکرنہیں کرتے یا پھر ان کے دلوں پرتالے پڑے ہُوئے ہیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma