٣۔ پیغمبر(ص) کی ایک پُرمعنی حدیث۔

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گروہ کے قریب سے گزرے جوہنسنے میں مشغول تھا:آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
لو تعلمون مااعلم لبکیتم کثیرً ا ولضحکتم قلیلاً
اگرتم اس چیز کوجانتے جسے میں جانتا ہوں توتم روتے زیادہ اور ہنستے کم ۔
جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)وہاں سے گذرگئے توجبرئیل ان پرنازل ہوئے اورعرض کیا ۔
ان اللہ ھواضحک وابکی
ہنسنا اور رونا دونوں خداہی کی طرف سے ہیں ۔
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاس پلٹ آ ئے اورفرمایا کہ میں چالیس قدم نہیں چلاتھا کہ جبرئیل میرے پاس آ ئے اور کہا:تم ان کے پاس لوٹ کرجاؤ اوران سے یہ کہو : ان اللہ اضحک وابکی (۱) ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک صاحب ایمان شخص ہمیشہ روتاہی رہے ، خوف ِخداسے اور گناہوں کے ڈر سے رونا بھی اپنی جگہ ضروری ہے اور نشاط اورخوشی کے وقت ہنسنا بھی ۔کیونکہ یہ سب کچھ خداہی کی طرف سے ہے ۔
بہرحال یہ تعبیر ات انسان کے اصل اختیارمیں اور آزادی ارادہ کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتیں ،کیونکہ اس بیان کامقصد علت العلل اوران عزائزواحساحسات کے خالق کابیان ہے ۔
اور اگر دوسری جگہ (سورئہ توبہ کی آ یت ٨٢) میںیہ فرمایا ہے کہ :فَلْیَضْحَکُوا قَلیلاً وَ لْیَبْکُوا کَثیراً جَزاء ً بِما کانُوا یَکْسِبُون: انہیں چاہیے کہ اور زیادہ روئیں ان کاموں کی سزا کی بناپر جووہ انجام دیاکرتے تھے تو یہ منافقین کے ساتھ مربوط ہے ،جیساکہ اس کے قبل اور بعد کی آ یات گواہی دے رہی ہیں ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورہ کی ابتداء میں توستارہ کی قسم کھارہاہے اس وقت کہ جب وہ غروب کرتاہے ، وَ النَّجْمِ ِاذا ہَوی اور یہاں شعری کے پروردگار کی قسم ہے جس وقت ہم ان دونوں آیات کوایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں توواضح ہوجاتاہے کہ شعری کیوں معبود نہیں ہوسکتا ،کیونکہ وہ بھی افول وغروب رکھتاہے اورقوانین خلقت کے پنجہ میں اسیر ہے ۔
 ۱۔"" تفسیر درالمنثور "" جلد ٦ صفحہ ١٣٠۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma