٤۔ صحف ابراہیم وموسیٰ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
صحف جمع ہے صحفہ کی جواصل میں ہروسیع چیزکے معنی میں ہے ،اس لیے صورت کو صحیفة الوجہ کہتے ہیں اس کے بعد کتاب کے صفحات پربھی اطلاق ہواہے ۔
صحف موسیٰ سے مراد اوپر والی آیت میں وہی تورات ہے ،اور صحف ابراہیم بھی ان کی آسمانی کتاب کی طرف اشارہ ہے ۔
مرحوم طبرسی نے مجمع البیانمیں سورئہ اعلیٰ کی تفسیر میں ایک حدیث پیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نقل کی ہے ، جس کاخلاصہ اس طرح ہے :
ابو ذرسوال کرتے ہیں: خدا کے پیغمبر کتنے ہوئے ہیں؟
آپ نے فرمایا:ایک لاکھ چوبیس ہزار
پھرسوال کیا: ان میں سے رسول کتنے ہیں؟
آپ نے فرمایا:تین سوتیرہ ہیں اورباقی نبی ہیں(رسول وہ ہوتا ہے جوابلاغ وانذار پرمأ مور ہوجب کہ نبی کامفہوم عام ہے )
پھر سوال کیا: کیاآدم پیغمبر تھے ؟
آپ نے فرمایا:ہاں!خدانے ان سے کلام کیااورانہیں اپنے دست قدرت سے پیداکیا ۔
پھرپوچھا :خدا نے کتنی کتابیں نازل کیں؟
آپ نے فرمایا:ایک سوچار کتابیں:دس صحیفے آدم پر ، بچاس صحیفے شیث پر ،تیس صحیفے ادریس پر ،دس صحیفے ابراہیم پر (جومجموعی طورپر ایک سو صحیفے بنتے ہیں( اور تورات وانجیل وزبور وقرآن (۱) ۔
۱۔""مجمع البیان "" جلد ١٠ ،صفحہ ٤٧٦اس حدیث کو"" روح البیان"" نے بھی جلد ٩،صفحہ ٢٤٦ پرنقل کیاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma