شانِ نزول

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

اکثر مفسرین نے اوپر والی آ یات کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ شان نزول نقل کئے ہیں،لیکن یہ شان نزول آپس میں ہم آہنگ نہیں ہیں ، ان میں سے جوسب سے زیادہ مشہور ہیں وہ ذیل کے دوشان نزول ہیں:
١۔ ان آ یات میں عثمان کاواقعہ بیان ہواہے ،اس کے پاس بہت زیادہ مال ودولت تھی ،اوروہ اپنے مال میں سے خرچ کیا کرتاتھا ، اس کے رشتہ داروں میں سے ایک عبداللہ بن سعد نامی شخص نے کہا، اگرتیری یہی حالت رہی ،توایک دن تیرے پاس کچھ بھی نہیں باقی نہ بچے گا، عثمان نے کہا، میں نے بہت گناہ کئے ہیں ،لہٰذامیں چاہتاہوں کہ اس ذ ریعہ سے خداکی رضا اورعفو وبخشش حاصل کروں عبداللہ نے کہا، اگر تواپنی سوای کااونٹ اس کے سازو سامان سمیت مجھے دے دے تو میں تیرے سارے گناہ اپنی گردن پر لے لیتاہوں،عثمان نے ایساہی کیا اور اس قرار داد پر گواہ لئے ،اوراس کے بعداس نے انفاق کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، (تواوپر والی آ یات نازل ہوئیں اوراس کا م کاشدّت سے مذمت کی اوراس حقیقت کوواضح کیاکہ کوئی شخص دوسرے گناہ کواپنے کندھے پرنہیں لے سکتا، اورہرشخص کی سعی و کوشش کانتیجہ خوداسی کو ملے گا(١) ۔
٢۔یہ آ یت ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہے ،وہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاس آ یا ، اور دین اسلام سے قربت حاصل کی توبعض مشرکین نے اس ے سرزنش کی اور کہا کہ تونے ہمارے بزرگوں کے دین کوچھوڑ دیا ہے اورانہیں گمراہ شمارکرتاہے ،اور تونے یہ گمان کیاکہ وہ جہنم کی آگ میں ہیں ۔اس نے کہاکہ واقعاً میں خدا کے عذاب سے ڈرگیا ہوں ،توسرز نش کرنے والے نے کہا اگرتو اپنے مال کاکچھ حصّہ مجھے دے دے اور شرک کی طرف پلٹ آ ئے تومیں تیرا عذاب اپنی گردن پرلے لیتا ہوں ،ولید بن مغیرہ نے ایساہی کیا، لیکن جومال دینا تھا اس میں سے تھوڑے سے حصّہ کہ سوا ادانہ کیا، تواوپروالی آیت نازل ہوئی ،اورولید کے ایمان سے منہ پھیر نے پر مذمت کی (٢) ۔

١۔اس شان نزول کوطبرسی نے مجمع البیام میں نقل کیاہے ،اور دوسرے مفسرین مثلاً زمخشری نے کشافمیں فخررازی نے تفسیر کبیرمیں بھی نقل کیاہے طبرسینے اسے نقل کے بعدمزید کہاہے ،کہ یہ شانِ نزول ابن عباس ،کلبی اورمفسرین کی ایک جماعت سے نقل ہوئی ہے ۔
٢۔ اس شان نزول کوبھی مجمع البیان قرطبی روح البیان اور بعض دوسری تفاسیر میں نقل کیاگیاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma