شفاعت بھی اسی کے اذن سے ہوگی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
یہ آیات اسی طرح سے بت پرستی کی بیہودگی کوبیان کرتے ہوئے اس کی مذمت کررہی ہیں،اور گزشتہ آیات کے مضمون ہی کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
پہلے بت پرستوں کی بے بنیاد آرزؤں،اوران توقعات کوجووہ بتوں سے ر کھتے تھے بیان کرتے ہوئے کہتاہے ،: کیا جوکچھ انسان آرزو رکھتاہے وہ اُسے مل جاتاہے ؟(أَمْ لِلِْنْسانِ ما تَمَنَّی) ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بے روح اور بے قدروقیمت اجسام اس کی شفاعت کے لیے بارگاہ خدامیں کھڑے ہوسکیں گے ؟یااُسے دنیاو آخرت کی مشکلات میں پناہ دے سکیں گے ؟
حالانکہ دنیاو آخرت صرف خداہی کے لیے ہیں :(فَلِلَّہِ الْآخِرَةُ وَ الْأُولی) ۔
عالم اسباب اس کے ارادے کے محورپرگردش کررہاہے ،اور ہرموجود کے پاس جوکچھ بھی ہے وہ اس کے وجود کی برکت سے ہے شفاعت بھی اسی کی طرف سے ہے ، اور مشکلات کاحل بھی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پہلے آخرت کے بارے میں گفتگو کرتاہے ، اوراس کے بعددنیا کے متعلق ،کیونکہ وہ چیز جوسب سے زیادہ انسانی فکر کو اپنی طرف مشغول رکھے ہوئے ہے وہ آخرت کی نجات ہی ہے ، اور خدا کی حاکمیت دوسرے گھرمیں اس گھر سے زیادہ آشکار ہے ۔
اس طرح سے قرآن مشرکین کوبتوں کی شفاعت ، اوران کے وسیلہ سے مشکلات کے حل سے ،کلی طور پرمایوس ، اور نااُمید کررہاہے ،اوریہ بہانہ ان سے چھین رہاہے کہ ہم تواس بناپر ان کی پرستش کرتے ہیں کہ وہ بارگاہ خدامیںہماری شفاعت کریں:(وَ یَقُولُونَ ہؤُلاء ِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّہِ )(یونس:١٨) ۔
اُوپر والی دو آ یات میں ایک اوراحتمال بھی ہے ، اور وہ انسان کے ،اپنی آرزو ؤں اورخواہشات پردسترس حاصل نہ کرنے کے طریق سے ، پروردگارکے وجود کی طرف توجہ کرتاہے ،کیونکہ پہلی آ یت میں ایک استفہام انکاری کی صورت میں کہتاہے ،: کیا انسان اپنی تمام آرزو ؤں کوپالیتاہےاور چونکہ اس سوال کاجواب قطعاً نفی میں ہے ،یعنی انسان ہرگزاپنی اکثر آ رزو ؤں میں کامیاب نہیں ہوتا ،اوراصطلاح کے مطابق انہیں قبر میں اپنے ساتھ لے جاتاہے ،یہی چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس عالم کی تدبیر کسی اور کے ہاتھ میںہے ۔اورصرف اس کا ارادہ اس جہان پرحاکم ہے ،اس لیے دوسری آ یت میں کہتا ہے ، جب یہ بات ہے توآخرت اور دنیا خداہی کے لیے ہیں ۔
یہ معنی اسی چیز کے مشابہ ہے جوعلی علیہ السلام کی مشہور گفتگو میں آ ئی ہے :
عرفت اللہ سبحانہ بفسخ العزائم وحل العقود ونقض الھمم
میں نے خدا کوپختہ ارادوںکے ٹوٹنے وعدوں کے ناتمام رہنے اورہمتوں کے پست ہونے سے پہنچاناہے (١) ۔
اس تفسیر اور سابقہ تفسیر کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے ۔
آخری زیربحث آ یت میں اس مسئلہ پراور زیادہ تاکید کے لیے مزید ارشاد ہوتاہے : آسمانوں میں کتنے ہی زیادہ فرشتے ایسے ہیں جن کی شفاعت کوئی فائدہ نہیں دے گی ،مگر جس کسی کے لیے خدا چاہے اوراس سے راضی ہوکراس کی شفاعت کی اجازت دے دے (وَ کَمْ مِنْ مَلَکٍ فِی السَّماواتِ لا تُغْنی شَفاعَتُہُمْ شَیْئاً ِلاَّ مِنْ بَعْدِ أَنْ یَأْذَنَ اللَّہُ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَرْضی) ۔
جہاں آ سمان کے فرشتے اپنی ساری عظمت کے باوجود اجتماعی صورت میں بھی شفاعت پرقدرت نہیں رکھتے ، جب تک کہ پروردگار کااذن اوررضانہ ہو، تو پھران بے شعور اور بے قدر وقیمت بتوں سے کیاتوقع کی جاسکتی ہے ؟جہاںتیز پر واز عقابوں کے پروبال گرجاتے ہوں وہاںناتواں مچھروں سے کیاہوسکتاہے ، کیایہ شرم کی بات نہیں ہے ،کہ تم یہ کہتے ہوکہ ہم توان بتوں کی اس لیے پرستش کرتے ہیں تاکہ وہ بارگاہ خدامیںہمارے شفیع ہوں؟
کم (کتنے بہت سے )کی تعبیر یہاںعمومی کے معنی میں ہے ،یعنی کوئی فرشتہ بھی اس کے اذن ورضا کے بغیر شفاعت نہیں کرسکتا ۔کیونکہ یہ تعبیر بعض اوقات لغت عرب میں ایک جمعیت کے معنی میں بھی استعمال ہوتی ہے ۔جیساکہ سورئہ اسراء کی آ یت ٧٠ میں لفظ کثیر عموم کے معنی میں ہے :وَ فَضَّلْناہُمْ عَلی کَثیرٍ مِمَّنْ خَلَقْنا تَفْضیلاً ہم نے بنی آدم کواپنی ساری مخلوقات پرفضیلت اوربرتری بخشی ہے اس کے علاوہ سورئہ شعراکی آ یت ٢٢٣ میں شیاطین کے بارے میں یہ آ یاہے کہ: واکثرھم کاذبونان میں سے اکثر جھوٹے ہیں، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ سب کے سب جھوٹے ہیں( ٢) ۔
باقی رہا اذن اور رضامیں فرق تووہ اس لحاظ سے ہے ،کہ اذن اس مقام پر بولا جاتاہے جہاں کوئی معنی میں بھی ہے ،اور چونکہ بعض اوقات کوئی شخص اذن تودتیاہے جب کہ وہ دل سے راضی نہیں ہوتالہٰذا اوپر والی آیت میں تاکید کے لیے اذن کے بعد رضا کامسئلہ بھی آیاہے، اگرچہ خداوند تعالیٰ کے بارے میں اذن ، رضا سے جدانہیں ہے ،اوراس کے بارے میں تقیہ کوئی معنی نہیں رکھتا ۔
١۔نہج البلاغہ کلمات قصار کلمہ ٢٥٠۔
٢۔"" شفاعتھم""میں جمع کی ضمیرباد جوداس کے ""ملک""مفرد ہے ،مفہوم کلام کی رعایت کی بناپر ہے ،جوجمع کامعنی رکھتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma