٤۔ پھر بھی"" غرانیق"" کاافسانہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
اس بحث کے دوران ،جوہم نے عربون کے تین بتوں لات وعزیٰ اورمنات کے بارے میں تاریخ لحاظ سے بیان کی تھی ، اس نکتہ کی طرف اشارہ کیاتھا، کہ وہ ان بتوں کوبلند پایہ غرانیق سمجھتے تھے،جن سے وہ شفاعت کی اُمید رکھتے تھے ، (غرانیق جمع غرنوق (بروزن مزدور)سفید یاسیاہ رنگ کے پانی کے ایک قسم کے پرندے کے معنی میں ہے)لہٰذا وہ بعض اوقات ان بتوں کے ناموں کے ذکر کے بعد تلک الغرانیق العلیٰ وان شفا عتھن لترتجی کے جملوں کے ساتھ ان کی تعریف اورقصید خوانی کیاکرتے تھے ۔
بعض کتابوں میںاس جگہ ایک بے ہودہ داستان بیان کی گئی ہے ، کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جب زیربحث آیت أَ فَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَ الْعُزَّی پرپہنچے ،تو (معاذاللہ ) آپ نے ان دوجملوں کاخود سے اضافہ کردیا: تلک الغرانیق العلیٰ وان شفا عتھن لتر تجی اوریہ چیز مشرکین کے خوش ہونے کاسبب بن گئی اوراس کی انہوںنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی طرف سے بت پرستی کے مسئلہ کی طرف ایک قسم کا جھکاؤ سمجھا، اوراس سورہ کے آخر میں جب لوگوں کوسجدہ کی دعوت دی تومشرک بھی مسلمانوں کے ساتھ سجدے میں گرپڑے ،اور یہ خبرمشرکین کے اسلام لانے کے طورپر سب جگہ پھیل گئی ،یہاں تک کہ کہ حبشہ کے مہاجر مسلمانوں کے کانوں تک پہنچ گئی اور ان میں سے بعض اتنے خوش ہوئے اورامن کااحساس کیا کہ اپنی ہجرت گاہ حبشہ سے مکہ کی طرف پلٹ آئے (۱) ۔
لیکن جیساکہ ہم نے سورئہ حج کی آ یت ٥٢ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ، یہ ایک ایسی ناروانسبت اور رسوا جھوٹ ہے ،جس کے بطلان کوبہت سے دلائل اورقرائن واضح کرتے ہیں، جن لوگوں نے یہ جھوٹ گھڑاانہوںنے یہ بالکل نہیں سوچاکہ قرآن انہیں زیربحث آ یات میں صراحت کے ساتھ بت پرستی کی سرکوبی کررہاہے ،اوراسے خیال خام اور ہوائے نفس کی پیروی شمارکرتاہے،اور بعد والی آ یات میں بھی صراحت اورپوری شدّت کے ساتھ بت پرستوں کے عقائد کی مذمت کررہاہے ،اوراسے ان کی بے ایمانی بے علمی اور عدم آگاہی کی نشانی قرار دیتاہے ، اور صراحت کے ساتھ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو یہ حکم دیتاہے کہ اپنا معاملہ اُن سے الگ کرلے اوران سے منہ پھیر لے ۔
اس طرح یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ دوجملے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہوں، یا مشرکین اس قدر احمق ہوں کہ وہ یہ جملے توسن لیں لیکن بعد والی آیات کو جوصراحت کے ساتھ بت پرستی کی سرکوبی کرتی ہیں نظر انداز کردیں، اورآخر میں خوش ہوجائیں اور سورہ کے خاتمہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ سجدہ میں گرپڑیں؟
حقیقت یہ ہے کہ اس افسانے کوگھڑ نے والوں نے بہت ہی ناتجربہ کاری ، اور کسی مطالعہ کے بغیر اسے گھڑاہے ۔
یہ ہوسکتا ہے کہ پیغمبر کی طرف سے اس آ یت أَ فَرَأَیْتُمُ اللاَّتَ وَ الْعُزَّی... کی قرائت کے وقت اچانک شیطان نے یاحاضر گروہ مشر کین میں سے کسی شیطان صفت انسان نے ان دوجملوں کااضافہ کردیاہو، (کیونکہ دونوں جملے ان کاشعار بن چکے تھے جن کے ذ ریعہ وہ ان تینوں بتوںکی تعریف کیاکرتے تھے )اوراس طرح سے ایک گروہ وقتی طورپر اشتباہ میں پڑ گیاہو ۔
لیکن اس سورہ کے آخر پر نہ توان کاسجدہ کرناکوئی مفہوم رکھتاہے ،اورنہ ہی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کابت پرستی کے سلسلے میں جھکاؤ ، جیسا کہ تمام آ یات قرآنی اورآپ کی تاریخ زندگی اس حقیقت اور واقعیت پرگواہ ہیں، کہ آپ نے کبھی بت پرستی کے مسئلہ کے ساتھ مبارزہ کرنے میں ، کسی بھی شکل وصورت میں، معمولی سے معمولی جھکاؤ نہیں دکھایا ، اوراس سلسلہ میں آپ نے کسی بھی پیش نہاد کو قبول نہیں کیا، کیونکہ سارے اسلام کاخلاصہ توحید اور لاالٰہ الّا اللہ ہے ۔
لہٰذا پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کسی طرح بھی اسلام کے اصلی مطلب اور مفہوم پرمعاملہ نہیں کرسکے؟
ہم اس سلسلے میں مزید دلائل اور استد لالات سورئہ حج کی آ یت ٥٢ (جلد ٧،صفحہ ٥٨٤ میں پیش کرچکے ہیں) ۔
 ۱۔اس بیہودہ کہانی کو"" طبری "" نے اپنی تاریخ کی دوسری جلد کے صفحہ ٧٥ سے آگے تفصیل کے ساتھ نقل کیاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma