٣۔ بت پرستی کانفسیاتی اور فکری سرچشمہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
بت پرستی کے سر چشمے تو ہمیں معلوم ہوگئے ہیں،لیکن بت پرستی کے کچھ اور نفسیاتی اورفکری سرچشمے بھی ہیں جن کی طرف اوپروالی آیات میں اشارہ ہواہے ،اور وہ بے بنیاد گمانوں اور ہوائے نفس کی پیروی ہے ۔
وہ ایک ایساخیال اور تصور ہے جونادان افراد میں پیدا ہوجاتاہے،اور مقلدیں آنکھیں اور کان بند کرکے ایک دوسرے سے لے لیتے ہیں، اور پھر وہ نسل درنسل منتقل ہوتا رہتاہے ۔
البتہ بت جیسا معبود،جواپنے بندوں پرکسی قسم کا کوئی کنٹرول نہیں رکھتا،اورنہ ہی کوئی معاد وقیامت اور حساب وکتاب رکھتا ہے ،اور نہ ہی کوئی بہشت ودوزخ ہے ،اوراس نے انہیں مکمل آزادی دے رکھی ہے ، وہ صرف مشکلات میں اس کی طرف رخ کرتے ہیں اوراپنے خیال میں اس سے مدد طلب کرتے ہیں، یہ بات ان کی سرکش ہواوہوس کے ساتھ اچھی طرح سازگار ہے ،اوران کی خواہشات کے لیے میدان کوکھول دیتاہے ۔
اصولی طورپر ہوائے نفس خود ایک عظیم ترین اورخطرناک ترین ، بت ہے ،اور دوسرے بتوں کی پیدائش کاسرچشمہ ہے ، اور بت پرستی کا بازارگرم ہونے کاسبب ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma