٢۔ اسمہای بے مسمّٰی

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

شرک اور دوخداؤں یاکئی خداؤںکی پرستش کے قدیم ترین سرچشموں میں سے ایک ، موجودات عالم تنوع ہے ،کیونکہ کوتاہ فکرافراد یہ باور نہیں کرسکتے تھے ،کہ یہ گوناں گوں اور متنوع موجودات ،جوآسمان اور زمین میں ہیں، ایک ہی خدا کی مخلوق ہوں (کیونکہ انہوںنے اپنے اوپر قیاس کرلیاتھا،جوہمیشہ ایک آدھ کام یاچند کاموں میں ہی مہارت رکھتے تھے )لہٰذا وہ موجودات کی ہرنوع کے لیے ایک علیحدہ خدا مانتے تھے ۔جسے وہ رب النوع سے تعبیر کرتے تھے مثلاً النوع دریا ،رب النوعِ صحرا رب النوعِ باران ، رب النوعِ آفتاب ، رب النوعِ جنگ اور رب النوعِ صلح۔
یہ خیالی خداجنہیں وہ بعض اوقات فرشتوں سے یاد کرتے تھے ،ان کے عقیدہ کے مطابق اس جہان کے حکمران تھے اور جس حصہ میں بھی کوئی مشکل پیداہوتی تووہ اسی کے رب النوع سے پناہ مانگتے تھے ، اس کے بعد چونکہ یہ سارے کے سارے موجودات کے رب النوع محسوس نہیں ہوتے تھے لہٰذا ان کی مورتیاں بناکر ان کی عبادت کرنے لگے ۔
یہ بیہودہ عقائد یونان سے دوسرے علاقوں کی طرف اورآخرکارحجاز کے علاقے کی طرف منتقل ہوئے ،لیکن چونکہ عرب توحید ابراہیمی کی بناپر ،جوان کے درمیان بطور یادگاررہ گئی تھی ،اللہ کے وجود کے منکرنہیں ہوسکتے تھے ،لہٰذا انہوںنے ان عقائد کو آپس میں ملادیا، اورخدا وند تعالیٰ کے وجود کا عقیدہ برقرار رکھتے ہوئے ،فرشتوں کاعقیدہ بھی اپنالیا جن کاوہ خدا کے سااتھ باپ اور بیٹی کا رابط سمجھتے تھے ،اور پتھر اورلکڑی کے بتوں کوان کے مظہر اوران کی مو رتیاں سمجھتے تھے ۔
قرآن ایک مختصر ،لیکن جامع عبارت کے ساتھ جواوپروالی آ یات میں بیان ہوئی ہے ،کہتاہے ،: یہ سب بے معنی نام اور اسمائے بے مسمّیٰ ہیں ،جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے بغیر کسی دلیل ومدرک کے انتخاب کرلیاہے!
نہ تو بارش کے خدا سے جس کا تم نے یہ نام رکھاہے کوئی کام ہوسکتا ہے ، اور نہ ہی سورج ،دریا، جنگ اورصلح کے خیالی خداؤں سے کچھ ہوسکتاہے ۔
تمام چیزیں خداہی کی طرف سے ہیں اور سب عالم ہستی اسی کا مطیع ہے۔اوران مختلف موجودات کی ایک دوسرے سے ہم آہنگی ان کے خالق کی وحدت کی بہترین دلیل ہے ،کیونکہ آگرکئی الہ اور بہت سے خدا ہوتے تونہ صرف یہ کہ یہ ہم آہنگی موجودنہ ہوتی،بلکہ اس کاانجام یہ ہوتا کہ سارا عالم تضاد اورقساد کاشکار ہوجاتاہے،:(لو کان فیھما اٰلھة الّا اللہ لفسدتا) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma