دوست کاپہلا دیدار

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
گزشتہ آ یات کے بعد، جوپیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرنزولِ وحی کی گفتگو کررہی تھیں ، ان آ یات میں معلم وحی کے بارے میں گفتگو ہے ۔
لیکن پہلے یہ بات قابل توجہ ہے کہ پہلی نظر میں ان آ یات کوابہام کاایک ہالہ گھیر ے ہوئے ہے ، لہٰذا ان ابہامات کو دورکرنے کے لیے پوری دقت کے ساتھ ، ان پرغور وفکر اورتحقیق کرنی چاہیئے ۔
پہلے ہم ان آ یات کی اجمالی تفسیرپیش کرتے ہیں، پھران کی تفصیلی تحقیق پیش کریں گے ۔
فرماتاہے: اسے اُس ہستی نے تعلیم دی ہے ،جوعظیم قدرت رکھتی ہے (عَلَّمَہُ شَدیدُ الْقُوی) ۔
پھر مزید تاکید کے لیے اضافہ کرتاہے : وہی ذات جوحد سے زیادہ توانائی اورہر چیزپر تسلط رکھتی ہے (ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوی) ۔
(یہ تعلیم اسیاس وقت دی ) جب افق اعلیٰ میں تھا (وَ ہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلی) ۔
پھر وہ نزدیک ہوا پھر اورنزدیک ہوا(ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّی) ۔
یہاں تک کہ اس کے اوراس کے معلم کے درمیان کافاصلہ دوکمان یااس سے بھی کچھ کم ہوگیا(فَکانَ قابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنی) ۔
اور یہاں خدانے جس چیز کی وحی کرنی تھی وہ اپنے بندے کو وحی کی (فَأَوْحی ِلی عَبْدِہِ ما أَوْحی) ۔
پیغمبر کے دل نے جوکچھ دیکھاوہ سچ تھااوراس نے ہرگز جھوٹ نہیں بولا (ما کَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأی) ۔
کیاتم اس سے اس چیزکے بارے میں جواس نے دیکھا ہے ،جھگڑتے ہو، اور یقین نہیں کرتے (أَ فَتُمارُونَہُ عَلی ما یَری ) ۔
ان آیات کی تفسیر میں دومختلف نظریے موجودہیں ،جن میں سے ایک مشہور اور دوسرا غیرمشہور ہے ،لیکن پہلے ضروری ہے کہ آ یت کے مفردات اور بعض الفاظ کے معنی بیان کریں اس کے بعدان دونوں نظریوں کوپیش کریں ۔
مرة جیساکہ بہت سے ارباب لغت اورمفسرین نے لکھاہے لپٹے ہوئے کے معنی میں ہے اورچونکہ رسی کوجتنا بہتر طریقہ سے بٹاجائے اتنی ہی زیادہ محکم ہوتی ہے ،لہذا یہ لفط قدرت ،توانائی اورمادی یامعنوی استحکام کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔اور بعض اسے مرور بمعنی عبور سمجھتے ہیں،لیکن یہ بات اس چیزسے جواہل لغت نے لکھی ہے چنداں سازگار نہیںہے ۔
تدلّٰیمادئہ تدلی (بروزن تجلی)سے،مفردات میں راغب کے قول کے مطابق ،نزدیک ہونے کے معنی میں ہے ،تواس بناپر یہ جملہدنی کی تاکید ہے جواس سے پہلے آ یا ہے ،اور دونوں کاایک ہی معنی ہے ،جبکہ بعض ان دونوں کے درمیان اختلاف کے قائل ہیں ،انہوںنے یہ کہا ہے کہ تدلی وابستگی ،تعلق اورآویزاں ہونے کے معنی میں ہے،جس طرح پھل درخت سے وابستگی رکھتاہے ،لہذاان پھلوں کوجوابھی درختوں کے ساتھ آویزاں ہیں (دوالی) کہتے ہیں(١) ۔
قاب اندازہ کے معنی میں ہے اور قوس کمان کے معنی میں ،اس بناپر قاب قوسین یعنی دوکمانوں کیاندازے کے مطابق ،(کمان قدیم زمانہ کے تیراندازی کے ہتھیاروں میں سے ہے ) ۔
بعض نے قوس کو قیاس کے مادہ سےمقیاسکے معنی میں سمجھاہے اور چونکہ عرب کی مقیاس ذراع کی مقدار تھا، (انگلیوں کے سرسے لے کرکہنی تک کافاصلہ)اس بناپر قا ب قوسین دوذراع کے معنی میں ہوگا ۔
بعض لغت کی کتابوں میں قاب ایک دوسرے معنی میں ذکر ہواہے ،اوروہ کمان کودرمیان سے پکڑنے کی جگہ سے کمان کی مڑی ہوئی نوک تک کافاصلہ ہے (کمانیں قوسی شکل کی ہوتی تھیں جن کے دونوں آخری سرے مٹریہوئے ہوتے تھے) ۔
اس بناپر قاب قوسین کمان کے ٹیڑھے حصوں کے مجموعہ کے معنی میں ہے، (غورکیجئے)(٢) ۔
اب ہم دونوں تفسیروں کے بیان کی طرف لوٹتے ہیں ۔
مفسرین کامشہور نظر یہ یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کامعلم وہی جرئیل امین پیک وحی خداتھا ،جوحد سے زیادہ قدرت رکھتاتھا ۔
وہی جوعام طورپرایک خوبصورت انسان کی صورت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ظاہر ہواکرتا تھا، اورپیغام الہٰی پہنچاتاتھا،آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی پوری زندگی میں صرف دو مرتبہ اپنے اصلی قیافہ اور چہرے کے ساتھ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ظاہر ہوا ۔
پہلی مرتبہ تو وہی ہے جواوپر والی آ یات میں آ یاہے ،کہ وہ افق اعلیٰ میں ظاہر ہوا ،(اوروہ تمام مشرق ومغرب کوڈھانپے ہوئے تھا، اور اس قدر باعظمت تھا کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیجان میں آگئے ) اور وہ جبرئیل ہی تھا جوپیغمبر سے نزدیک ہواتھا ،انتہا نزدیک کہ ان کے درمیان چنداں فاصلہ باقی نہ رہا تھا،اور قاب قوسین کی تعبیر انتہائی قرب اورنزدیکی سے کنایہ ہے ۔
دوسری مفسرین جنہوںنے اس نظر یہ کوانتخاب کیاہے،تصریح کی ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جبرئیل کااصلی صورت میں پہلا دیدار غار حرا کے پاس جبل النورمیں کیا تھا(٣) ۔
لیکن یہ تفسیر اپنے تمام طرفداروں کے باوجود اشکالات سے خالی نہیں ہے ۔کیونکہ :
١۔فَأَوْحی ِلی عَبْدِہِ ما أَوْحی (جوکچھ وحی کرناتھی اپنے بندہ کی طرف وحی کی )کی آ یت میں مسلمہ طور سے ضمیروں کامرجع (خصوصاً عبدہ کی ضمیر کامرجع)خدا ہے ۔لیکن اگر شدید القویٰ سے مراد جبرئیل ہوتوپھر تمام ضمیروں کواس کی طرف لوٹنا چاہییٔے ،یہ ٹھیک ہے کہ خارجی قرائن سے سمجھا جاسکتاہے کہ اس کہ اس آ یت کامعاملہ بقیہ آ یات سے جدا ہے ،لیکن آیات اور ضمیروں کے مرجع کی یکساں نیت کاٹکراؤ مسلمہ طور سے ظاہر کے خلاف ہے ۔
٢۔شَدیدُ الْقُویایسی ذات کے معنی میں ہے جس کی تمام قدرتیں حد سے زیادہ ہوں،اور یہ صرف پروردگار کی ذات پاک کے ساتھ ہی مناسب ہے،یہ ٹھیک ہے کہ سورئہ تکویرکی آ یت ٢٠ میں جبرئیل کو ذی قوة عندذی العرش مکین کے عنوان سے ذکر کیاگیاہے،لیکنشَدیدُ الْقُویمفرد اورنکرہ کی صورت میں ذکرہواہے ،بہت زیادہ فرق ہے ۔
٣۔ بعد والی آ یات میں آیا ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سدرة المنتھی کے نزدیک (آسمانوں کی بلندی پردیکھا) اگراس سے مراد جبرئیل ہو، تووہ توسفر معراج میں روئے زمین کے شروع سے ہی پیغمبر کے ساتھ تھا، اور اسے صرف آسمان کی بلندی پرہی نہیں دیکھا تھا ۔ سوائے اس صورت کے کہ یہ کہا جائے کہ ابتداء میں تواسے انسانی صورت میں دیکھاتھا، اور آسمان میںاُسے اس کی اصلی صورت میں، حالانکہ آ یات میں اس مطلب پر کوئی قرینہ نہیں ہے ۔
٤۔ علمہ یااس کے مانند تعبیر کبھی بھی قرآن مجید میں جبرئیل کے لیے استعمال نہیں ہوئی ۔جبکہ یہ تعبیر خداکے بارے میں پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوردوسرے پیغمبروں کے لیے بہت زیادہ ہے ،اوردوسرے لفظوں میں جبرئیل پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کامعلم نہیں تھا،بلکہ وہ وحی کاواسط تھا اوران کامعلم صرف خداہے ۔
٥۔یہ ٹھیک ہے کہ جبرئیل ایک بلند مرتبہ فرشتہ ہے لیکن مسلمہ طورسے پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس سے بھی زیادہ والاترمقام رکھتے ہیں، جیساکہ معراج کے واقعہ میںآ یاہے ،کہ جبرئیل معراج کی سیرصعودی میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضورمیں حاضر تھے، ایک مقام پرپہنچ کروہ رک گئے اورکہا: اگرمیں ایک پورکے برابربھی آگے بڑھوں تومیرے پروبال جل جائیں،لیکن پیغمبرنے اسی طرح سے اپنی سیرکو جاری رکھا ۔
ان حالات میں جبرئیل کوان کو اصلی صورت میں دیکھنے کی کوئی ایسی اہمیت نہیں ہے جیسی کہ ان آ یات میں دی گئی ہے ۔اور زیادہ سادہ لفظوں میں ، پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اس بات کی زیادہ اہمیت نہیں تھی ،کہ اس قسم کادیدارانہیں حاصل ہو ،حالانکہ یہ آ یات اس دیدار کے لیے حد سے زیادہ اہمیت کی قائل ہوئی ہیں ۔
٦۔ ما کَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأی (پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دل نے جوکچھ دیکھاہے وہ اس کے برخلاف نہیں کہتا)کاجملہ بھی ایک باطنی شہودکی دلیل ہے نہ کہ آنکھ کے ساتھ جبرئیل کاایک حسی مشاہدہ۔
٧۔ ان سب سے قطع نظر متعدد روایات میں جومنابع اہل بیت سے نقل ہوئی ہیں،ان آیات کی جبرئیل سے تفسیر نہیں ہوتی ،بلکہ روایات دوسری تفسیر کے مطابق ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ان آ یات سے مراد خدا کی پاک ذات کاایک خاص قسم کاباطنی شہود ہے ،جواس منظر میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوحاصل ہواتھا،اورمعراج میں اس کادوبارہ تکرار ہوا، اوررسول اللہ نے اس دیدار سے ایک معنوی جذبہ کااثرلیا(٤) ۔
مرحوم شیخ طوسی امالیمیں ابن عباس کے واسط سے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں:
لماعرج بی الی السمآء دنوت من ربی عزوجل حتی کان بینی وبینہ قاب قوسین اوادنیٰ
جب میں آسمان پرمعراج کے لیے گیا ،تواپنے پروردگار کی ساحت قدس سے اتناقریب ہواکہ میرے اوراس کے درمیان دوکمانوں کایا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا (٥) ۔
مرحوم صدوق علل الشرائعمیں اسی مضمون کوہشام بن حکم کے واسط سے امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے نقل کیا ہے ،آپ ایک طولانی حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:
فلمااسری بالنبی (ص) وکان من ربہ کقاب قوسین اوادنیٰ رفع لہ حجاب من حجبہ
جس وقت پیغمبرکو معراج پر لے جایاگیاتوان کافاصلہ ان کے پروردگار کی ساحت قدس سے دوکمانوں یااسے بھی کم کارہ گیا تھاتوحجابوں میں سے ایک حجاب آپ کی آنکھوں کے سامنے سے اٹھا دیاگیا تھا (٦) ۔
تفسیرعلی بن ابراہیم میں بھی آ یاہے :
ثم دنیٰ یعنی رسولاللہ من ربہ عزوجل
پھر وہ قریب ہوئے یعنی رسول اللہ خدا وند تعالیٰ سے (٧) ۔
یہ معنی دوسری متعدد روایات میں بھی آ یاہے ،اوران تمام روایات کونظر انداز کرناممکن نہیں ہے۔
اہل سنت کی روایات میں بھی درالمنثور کی ایک روایت میں یہی معنی ابن عباس سے دوطریقوں سے نقل ہواہے(٨) ۔
یہ تمام قرائن سبب بنتے ہیں کہ ہم دوسری تفسیرکوجویہ کہتی ہے کہ شدید القویٰ سے مراد خداہے ، اورپیغمبربھی اسی کی ذات پاک سے نزدیک ہوئے تھے ،انتخاب کریں ۔
ایسامعلوم ہوتاہے کہ وہ چیزجو زیادہ تر مفسرین کی اس تفسیر سے روگردانی اورپہلی تفسیر کی طرف جانے کاسبب بنی یہ ہے ، کہ اس تفسیر سے تجسم خدا اوراس کے لیے مکان کی بوآتی ہے ،حالانکہ یہ بات مسلم ہے کہ نہ وہ مکان رکھتاہے، اورنہ ہی جسملا تُدْرِکُہُ الْأَبْصارُ وَ ہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصار آنکھیں اس کو نہیں دیکھتیں اوروہ تمام آنکھوں کودیکھتاہے (انعام۔ ١٠٣)فَأَیْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْہُ اللَّہِ تم جس طرف بھی منہ کروگے وہیں پرخداہے (بقرہ ۔١١٥) وَ ہُوَ مَعَکُمْ أَیْنَ ما کُنْتُم تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے (حدید۔٤) ۔
اور شاید ان مسائل کامجموعہ ہی اس بات کاسبب بنا ہے کہ بعض مفسرین ان آیات کی تفسیر سے عجز وناتوانی کااظہار کرتے ہیں،اورکہتے ہیں کہ یہ اسرار غیب میں سے ہے جوہم سب سے پوشیدہ وپنہاں ہیں ۔
کہتے ہیں:ایک عالم سے ان آیات کی تفسیرپوچھی گئی تواس نے کہا وہ جگہ جہاں جبرئیل ناتواں ہوجائے ،میں کون ہوں کہ اس معنی کے ادراک پرقادر ہوں (٩) ۔
لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن کتاب ہدایت ہے ،اورانسانوں کے غور وفکر اورنصیحت کے لیے نازل ہواہے ،اس معنی کوقبول کرنابھی مشکل ہے ۔
لیکن اگر ہم آ یات کی دوسرے معنی کے ساتھ ،یعنی ایک قسم کے شہود اور ایک خاص معنوی قرب کے ساتھ ، تفسیرکریں ،تویہ تمام مشکلات ختم ہوجاتی ہیں ۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ : بلاشک وشبہ خداکے لیے حسی رؤ یت نہ تو دنیامیں امکان پذیر ہے اور نہ ہی آخری میں، کیونکہ اس کا لازم جسمانیت اورمادی ہونا، اوراسی طرح اس کالازمہ تبدیلی ، اورایک حالت سے دوسری حالت میںآنا اور فساد پذ یرہونا ہے ،اور زمانہ ومکان کی نیاز واحتیاج رکھناہے ،اور ذات واجب الوجودان تمام امورسے مبراہے ۔
لیکن خداکامشاہدہ دل اورعقل کی نگاہ سے کیا جاسکتاہے ،اوریہ وہی چیزہے جس کی طرف امیرالمومنین علی علیہ السلام نے ذعلب یمانی کے جواب میں اشارہ فرمایاتھا ۔
لاتدرکہ انعیون بمشا ھدة العیان ولکن تدرکہ القلوب بحقائق الایمان
آنکھوںنے حسی مشاہدہ کے ذ ریعہ ہرگزاسے نہیں دیکھا ،لیکن دلوں نے حقیقت ایمان کے ساتھ اسے پا لیاہے (١٠) ۔
لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ باطنی نگاہ دوقسم کی ہوتی ہے ،ایک نگاہ عقلانی جوطریق استد لال سے حاصل ہوتی ہے ،اوردوسری شہود قلبی، جواوراک عقلی سے مافوق ایک درک ہے اوراس کی نگاہ سے ماوراء ایک نگاہ ہے ۔
یہ وہ مقام ہے جسے مقام استدلال کا نام نہیں دیناچاہیئے،بلکہ یہ مقاممشاہدہ ہے لیکن ایک ایسامشاہد ہ جودل کے ساتھ اورباطنی طریقے سے ہو، یہ وہ مقام ہے جو اولیاء اللہ کے لیے فرق مراتب کے ساتھ اور سلسلہ درجات سے حاصل ہوتاہے ، کیونکہ شہود باطنی بھی بہت سے مراتب و درجات رکھتاہے ، البتہ اس حقیقت کاادراک ان لوگوں کے لیے جواس تک نہیں پہنچے مشکل ہے ۔
اوپروالی آیات سے ان قرائن کے ذ ریعہ اس طرح استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مقام شہود پرفائز ہونے کے باوجود اپنی عمر مبارک کے دوران دومرتبہ اتنی بلندی پرپہنچے کہ مقام شہود کامل پر سر فراز ہوئے ۔
ایک احتمالاً آغاز بعثت میں ہواتھا ،اور دوسرا معراج کے موقع پر ،اس طرح خداکے قریب ہوئے ،اوراس کے بساطِ قرب پرقدم رکھا، کہ بہت سے فاصلے اورحجاب ختم کردیئے گئے ۔ایسا مقام جہاں جبرئیل امین یعنی خدا کا مقرب ترین فرشتہ تک پہنچنے سے عاجز تھا ۔
یہ بات واضح ہے کہ فَکانَ قابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیجیسی تعبیریں ،سب کی سب کنایہ کی صورت میں ،اور شدّت قرب کے بیان میں ہیں ،ورنہ وہ اپنے بندوں سے مکانی فاصلہ نہیں رکھتا ،تاکہ اسے قوس اور زراع کے ساتھ ناپاجائے اور رؤیت سے مراد بھی ان آ یات میں آنکھ سے دیکھنا نہیں ہے ،بلکہ وہی شہود باطنی ہے ۔
گزشتہ مباحث میں لقاء اللہ (پروردگا ر کی ملاقات ) کی تفسیر میں،جوقرآن کی مختلف آیات میں روزقیامت کے مشخصات میں سے ایک کے عنوان سے بارہا آیاہے ،ہم بیان کرچکے ہیںکہ یہ ملاقات بھی اس کے برخلاف جوبعض کوتاہ فکر لوگوں نے سمجھ لیاہے حسی ملاقات اورمادی مشاہدہ نہیں ہے ،بلکہ ایک طرح کاشہود باطنی ہے اگرچہ وہ کئی مرحلے نچلے درجہ میں ہے ۔اوروہ ہرگز بھی اولیاء وانبیاء کے مشاہدہ کے مرحلہ تک نہیں پہنچتا ، چہ جائیکہ معراج کی شب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہود کا مل کے مرحلہ تک پہنچے ۔
اس وضاحت کی طرف توجہ کرتے ہوئے وہ اعتراضات جواس تفسیرکے بارے میںنظر آتے تھے ، برطرف ہوجائیں گے ،اوراگران ماوراء مادی مسائل کی تشریح ہیں، ہمارے الفاظ وبیان کی تنگی کی بناپر ، کچھ خلاف ظاہر باتیں دکھائی دیتی ہوں ، تو وہ ان اشکالات کے مقابلہ میں جو پہلی تفسیر پرہیں ،حقیر اورمعمولی نظر آتی ہیں ۔
جوکچھ یہاں تک کہ بیان کیاگیاہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیربحث آیات پراب نئے سرے سے ایک نظر ڈالتے ہیں، اورآ یات کے مضمون کااس نئے ذاویہ سے مطالعہ اورتحقیق کرتے ہیں ۔
اس تفسیر کے مطابق ،قرآن پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرنزول وحی کی اس طرح تشریح کرتاہے :پر قدرت اور شدید القوی خدانے اسے تعلیم دی ، درحالیکہ وہ مکمل صورت اورحداعتدال میں آ گیا ،اورافق اعلیٰ میں قرار پایا( ١١) ۔
اس کے بعد وہ نزدیک ہوا،اورزیادہ نزدیک ہوا، اس طرح سے کہ اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان دوکمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ رہا، اوریہ وہ منزل تھی، جہاں خدا نے جووحی کرنی تھی وہ اپنے بندے پروحی کی۔
اور چونکہ یہ شہود باطنی ایک جماعت پرگراں گزراتھا،لہذا تاکید کرتاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے دل نے جوکچھ دیکھاہے ،حقیقتاً وواقعتاً دیکھاہے ،اور تمہیں اس بات کے خلاف اس سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیئے ۔
جیساکہ ہم بیان کرچکے ہیں ۔ان آ یات کی تفسیر خداکی نسبت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے شہود باطنی کے ساتھ زیادہ صحیح اور روایات اسلامی کے ساتھ زیادہ موافق ،اورپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے لیے ایک برتر فضیلت اور زیادہ لطیف مفہوم ہے ۔( واللہ اعلم بحقائق الامور)(١٢) ۔
ہم اس بحث کوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ایک حدیث اورعلی علیہ السلام کے ایک ارشاد پرختم کرتے ہیں ۔
پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے لوگوں نے پوچھا:ھل رأیت ربک؟:کیاآپ نے کبھی اپنے پروردگار کودیکھا ہے
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جواب میں فرمایا: رأ یہ بفؤ ادیمیں نے اُسے دل کی آنکھ سے دیکھا ہے(١٣) ۔
اورنہج البلاغہ میںاسی ذ علب یمانی والے خطبہ کے درمیان آیاہے کہ اس نے آنحضرت سے سوال کیا: ھل رأیت ربک یاامیر المؤ منین ؟! اے امیر المومنین کیاآپ نے کبھی اپنے خدا کودیکھاہے؟
آپ نے جواب میں فر مایا: فأ عبد مالا اراہ؟!: توکیا میں اس کی عبادت کرتاہوں جسے میں نے دیکھا نہیں ۔
اس کے بعد آپ نے وحی تشریح پیش کی ،جسے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں ،کہ شہودباطنی کی طرف اشارہ ہے (١٤) ۔
١۔"" اقتباس"" از"" روح البیان"" زیربحث آیات کے ذیل میں ۔
٢۔ بعض نے کہاہے کہ اس صورت میں کلام میں"" قلب"" (الٹ پھیر) واقع ہواہے اوراصل میں "" قابی قوس"" تھا ۔
٣۔ اس تفسیر کوکہ "" شدید القویٰ"" سے مراد جبرئیل امین ہیں ۔ایک گروہ کثیر نے اختیار کیاہے ،منجملہ ان کے طبرسی نے ""مجمع البیان""میں بیضادی نے "" انوارالتنزیل ""میں زمخشری نے "" کشاف"" اور"" قرطبی"" نے اپنی تفسیر"" روح البیان""میں فخررازی نے "" تفسیر کبیر ""میں سید قطب نے "" فی ضلال القرآن""میں، اور مراغی نے اپنی تفسیر میں ،علامہ طباطبائی کی تعبیر یں بھی "" المیزان""میں زیادہ تراسی طرف مائل ہیں ۔
٤۔دعائے ندبہ میں ایک تعبیرنظر آ تی ہے جواسی معنی کے ساتھ مناسب ہے جہاں کہتاہے:
یابن من دنٰی فتدلیٰ فکان قاب قوسین اوادنیٰ دنواً واقتراباً من العلی الاعلیٰ
"" اے اس کے فرزند جوقریب سے قریب ترہوا ،یہاں تک کہ اس کافاصلہ دوکمان یااس سے بھی کم رہ گیا ،اور ویہ نزدیکی خداوندعلی اعلی سے صورت پذیرہوئی ،اسی دعا کے ذیل میں خداکاایک لقب "" شدیدالقوی"" بھی ذکر ہوا ہے جہاں آ یا ہے"" وارہ سیدہ یاشدید القوٰی""۔
٥۔ نورالثقلین جلد ٥،صفحہ ١٤٩۔
٦۔نورالثقلین جلد ٥،صفحہ ١٤٩۔
٧۔نورالثقلین جلد ٥،صفحہ ١٤٨۔
٨۔ درالمنثور جلد٦،صفحہ ١٢٣۔
٩۔ "" روح البیان"" جلد٩ صفحہ ٢١٩۔
١٠۔"" نہج البلاغہ"" خطبہ ١٧٩۔
١١۔"" فاستوٰی "" کی ضمیر ،اوراسی طرح "" ھو بالافق الاعلیٰ"" کی ضمیر ممکن ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی طرف یاخدا کی ذات پاک کی طرف لوٹے ۔
١٢۔یہاں اس نکتہ کوبھی اجمالی طورپر نظر میں رکھیں ،کہ معراج کے بارے میں علماء کے درمیان یہ اختلاف ہے کہ یہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ایک مرتبہ ہوئی ہے یادومرتبہ لہذا ممکن ہے کہ یہ آ یات دونوں معراجوں میں دوشہود باطنی کی طر ف اشارہ ہوں ۔
١٣۔"" بحارالا نوار"" جلد ١٨ صفحہ ٢٨٧( ذیل مباحث معراج) ۔
١٤۔ نہج البلاغہ خطبہ ١٧٩۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma