سوره طور/ آیه 29- 34

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

٢٩۔فَذَکِّرْ فَما أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّکَ بِکاہِنٍ وَ لا مَجْنُونٍ۔
٣٠۔أَمْ یَقُولُونَ شاعِر نَتَرَبَّصُ بِہِ رَیْبَ الْمَنُونِ۔
٣١۔قُلْ تَرَبَّصُوا فَِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصینَ۔
٣٢۔أَمْ تَأْمُرُہُمْ أَحْلامُہُمْ بِہذا أَمْ ہُمْ قَوْم طاغُونَ۔
٣٣۔ أَمْ یَقُولُونَ تَقَوَّلَہُ بَلْ لا یُؤْمِنُونَ۔
٣٤۔فَلْیَأْتُوا بِحَدیثٍ مِثْلِہِ ِنْ کانُوا صادِقین۔

ترجمہ

٢٩۔اب جبکہ ایساہے تو تم نصیحت کرتے رہو، کیونکہ تم اپنے پر وردگار کے لطف سے کاہن ومجنون نہیںہو۔
٣٠۔بلکہ وہ تویہ کہتے ہیں کہ وہ ایک شاعر ہے ،جس کی موت کاہم انتظار کررہے ہیں ۔
٣١۔کہہ دو!کہ تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کررہاہوں (تم میری موت کا انتظار کرو اور میں اپنی کامیابی اور تمہاری نابودی کاانتظارکرتاہوں) ۔
٣٢۔کیاان کی عقلیں انہیں ان کاموں کاحکم دیتی ہیں؟یاوہ سرکش قوم ہیں ۔
٣٣۔وہ یہ کہتے ہیں کہ قرآن کااس نے خدا پرافتراء باندھاہے ،لیکن وہی ایمان نہیں رکھتے ۔
٣٤۔اگروہ سچ کہتے ہیں تووہ بھی اسی قسم کاکلام لے آئیں ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma