٢۔ وہ لوگ جوباطل باتومں میں غوطہ زن ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

اگرچہ اوپروالی آیات میں ،قرآن کاہدف کلام زمانہ پیغمبر کے مشرکین ہیں، لیکن بلاشک یہ آیات عمومیت رکھتی ہیں ۔اورتمام مکذبین ان میں شامل ہیں، یہاں تک کہ مادی فلاسفہ (سائنس دان ) جومٹھی بھرناقص خیالات وافکار میں غوط زن ہیں ،عالم ہستی کے حقائق کوکھیل بنائے ہوئے ہیں ،اورسوائے اس چیزکے جسے وہ اپنی قاصر عقل سے دریافت کرتے ہیں، کسی چیز کوقبول نہیں کرتے ، وہ اسی بات کی توقع رکھتے ہیں کہ تمام چیزوں کو اپنی آزمائش گاہ میں دوربین کے ذ ریعہ دیکھیں ،یہاں تک کہ خداکی پاک ذات کوبھی ورنہ اس کے وجود کو رسمی طورپر قبول نہیں کرتے ۔
یہ بھی فی خوض یلعبون کے مصداق ہیں ، اور باطل خیالات ونظریات کے ایک انبوہ میں ڈو بے ہوئے ہیں ۔
انسانی عقل اپنے تمام ترفروغ کے باوجود نوروحی کے مقابلہ میں ایک شمع کے مانند ہے جوآفتاب عالم تاب کے سامنے روشن ہو۔ یہ شمع اس کواجازت دیتی ہے کہ جہاں مادہ کے تاریک ماحول سے نکل کراور ماوراء طبیعت عالم کی طرف دروازہ کھولے ، اورپھر آفتاب وحی کے نور میں ہرطرف پرواز کرے ، اور بے کراں جہان کو دیکھے اورپہچانے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma