١۔مجرموں کودوزخ میں کس طرح لے جائیں گے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

اس میں توشک نہیں کہ انہیں جہنم کی طرف حقارت کے ساتھ ، ذلیل کرتے ہو ئے ،جھڑ کتے ہو ئے ،اورعذاب کرتے ہوئے جائیں گے ،لیکن قرآن کی مختلف آیات میں اس سلسلہ میں گونا گوں تعبیریں نظر آتی ہیں ۔
سورہ دخان کی آ یت ٤٧ میں اس طرح آ یاہے کہ :خُذُوہُ فَاعْتِلُوہُ ِلی سَواء ِ الْجَحیم اس کو پکڑلو ،اورسختی کے ساتھ اسے جہنم میں دھکیل دو۔
متعدد آ یات میں سوق اور ہانکنے کی تعبیرآ ئی ہے مثلاً سورئہ مریم کی آ یت ٨٦ وَ نَسُوقُ الْمُجْرِمینَ ِلی جَہَنَّمَ وِرْداً : ہم مجرموں کو(ان پیاسے اونٹوں کی طرح جنہیں پانی کی جگہ کی طرف لے جایا جاتاہے )جہنم کی طرف ہانکیں گے۔
اس کے برعکس پرہیز گاروں اورمتقیوں کوانہتائی احترام واکرام کے ساتھ بہشت کی طرف لے جائیں گے،اورخدا کے فرشتے ان کے استقبال کے لیے آگے بڑھیں گے،بہشت کے دروازوں کوان کے لیے کھول دیاجائے گا ،اورخاز نان جنّت انہیں سلام اورخوش آمدید کہیں گے ، اورانہیں بہشت میں ہمیشہ ہمیشہ کی سکونت کی بشارت دیں گے (زمر۔ ٧٣) ۔
اس طرح سے بہشت اور دوزخ نہ صرف خداکی مہر اور قہر کامرکز ہے ،بلکہ اُن میں سے ہرایک میں داخلہ کے لیے پذیرائی بھی اسی مفہوم کوبیان کرنے والی ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma