پھڑکتے ہوئے سمندر کی قسم

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
یہ سورہ ان سوروں میں سے ایک اورسورہ ہے جوقسم سے شروع ہوتے ہیں ،ایسی قسمیں جوایک اہم واقعیت کوبیان کرتی ہیںیعنی مسئلہ معاد وقیامت ،قبروں سے اٹھنا اور انسانوں کے اعمال کامحاسبہ۔
اس مسئلہ کی اہمیت اس قدر ہے ،کہ خدا نے قرآن کی مختلف آ یات میں بہت سے مقدسات کے حصوں کی قسم کھائی ہے تاکہ اس دن کی عظمت اوراس کے حتمی طورپر واقع ہونے کوواضح کرے ۔
وہ پانچ قسمیں ،جواس سورہ کے آغاز میں نظر آ تی ہیں ،ایسے سربستہ اورفکر انگیز معانی رکھتی ہیں کہ مفسرین نے ان کی تفسیر میں اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارے ہیں ۔
فرماتاہے : کوہ طور کی قسم (وَ الطُّور) ۔
اور قسم ہے اس کتاب کی جولکھی گئی ہے (وَ کِتابٍ مَسْطُور) ۔
وسیع اورکشادہ صفحہ پر(فی رَقٍّ مَنْشُورٍ ) ۔
اور بیت المعمور کی قسم(وَ الْبَیْتِ الْمَعْمُور) ۔
او ربلند چھت کی قسم(وَ السَّقْفِ الْمَرْفُوعِ) ۔
اور بھڑکتے ہوئے لبریز سمندر کی قسم(وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُور) ۔
کہ تیرے پروردگار کاعذاب حتمی طورپر واقع ہوکررہے گا (انَّ عَذابَ رَبِّکَ لَواقِع ) ۔
اور کوئی چیزاس سے مانع نہیں ہوگی (ما لَہُ مِنْ دافِع) ۔
طور لغت میں پہاڑ کے معنی میں ہے ۔لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ی لفظ قرآن مجید کی ١٠ آیات میں بیان ہواہے ،جن میں سے ٩ مواقع پر طور سینا وہی پہاڑ جہاں موسیٰ پروحی نازل ہوئی تھی ۔اس سے متعلق گفتگو ہے معلوم ہوتاہے کہ زیربحث آ یت میں (خصوصاً الف ولام عہد کی طرف توجہ کرتے ہو ئے) یہاں بھی اسی معنی میںہے ۔
اس بناء پر خدانے پہلے مرحلہ میں روئے زمین کے مقدس مقامات میں سیا یک مقدس مقام کی جس میں وحی الہٰی نازل ہو ئی تھی قسم کھائی ہے ۔
کتاب مسطور کی تفسیر میں بھی طرح طرح کے احتمال دیئے گئے ہیں ۔
بعض نے اسے لوح محفوظ کی طرف اشارہ سمجھاہے ،اوربعض نے قرآن مجید کی طرف ،اوربعض نے نامئہ اعمال کی طرف ، اور بعض نے اس تورات کی طرف جوموسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی ۔
لیکن اس قسم کی مناسبت سے جواس سے پہلے آئی ہے یہ تعبیر یاتو تو رات کی طرف اشارہ ہے یاسب کتب آسمانی کی طرف ۔
رق کالفظ رقت کے مادہ سے اصل میں نازک اورلطیف ہونے کے معنی میں ہے ۔ اور کاغذ یااس بار یک چمڑ ے کوبھی کہاجاتاہے ،جس پرکوئی مطلب لکھا جائے ،اور منشور پھیلے ہوئے کے معنی میں ہے(بعض کانظر یہ ہے کہ یہ لفظ درخشند گی اور لمعان کوبھی اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے ) ۔
بیت المعمور کے بارے میں بھی گو ناں گوں تفاسیرہوئی ہیں، بعض نے تواسے ایسے گھر کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو آسمانوں میں خانہ کعبہ کے عین اوپر ہے ۔ اور فرشتوں کی عبادت کے ساتھ معمور وآباد ہے، یہ معنی ان متعدد روایات میں ۔ جو مختلف اسلامی منابع میں آئی ہیں ۔نظر آتاہے (١) ۔
ایک روایت کے مطابق ہرروز ہزار فرشتے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں، اوردوبارہ کبھی بھی اس کی طرف پلٹ کر نہیں آتے ۔
بعض نے اس کی کعبہ اور زمین میں خانہ خدا سے تفسیر کی ہے جوزوار اورحاجیوں کے ساتھ ہمیشہ معمور اور آباد رہتاہے ۔ اورہم جانتے ہین کہ یہ پہلا گھر ہے جوروئے زمیں پر عبادت کے لیے بنایاگیا ہے اور آباد ہواہے ۔
لیکن آیت کاظاہر پہلے دومعانی میں سے کوئی ہے اورمختلف تعبیروں کی طرف توجہ کرتے ہوئے ،جوقرآن میں کعبہ کے سلسلہ میں بیت کے عنوان سے آ ئی ہیں دوسرامعنی زیادہ مناسب نظر آتاہے ۔
با قی رہا سقف مرفوع تواس سے مراد آسمان ہے ۔کیونکہ سورئہ انبیاء کی آ یت ٣٢ میں آیا ہے کہ : وجعلنا السما سقفاً محفوظاً ۔اور ہم نے آسمان کومحفوظ چھت قرار دیاہے ،اورسورئہ نازعات کی آ یت ٢٧ اور ٢٨ میں آ یاہے : ءانتم اشد خلقاً ام السماء بناھا: کیا تمہاری نئے سرے سے خلقت زیادہ اہم ہے یاآسمان کی خلقت کہ جسے خدانے برپاکیا ہے ۔اس کی چھت کوبلند کیاہے اوراسے منظم و مرتب بنایاہے ۔
سقف کی تعبیرممکن ہے اس لحاظ سے ہو، کہ ستاروں اورآسمانی کرات نے اس طرح سے سارے آسمان کوڈھانپ رکھاہے ،کہ وہ چھت کی طرح دکھائی دیتاہے ،اوریہ بھی ممکن ہے کہ اطراف زمین کی فضا کی طرف اشارہ ہو ،کہ ہوا کے پھیلے ہوئے قشرنے ایک مضبوط چھت کی طرح اس کے اطراف کوگھراہوا ہے ۔اوراس کی آسمانی پتھروں کے حملوں اورنقصان دہ کیہانی شعاعوں سے اچھی طرح حفاظت کرتی ہے ۔
مسجور کے لیے لغت میں دومعانی ذکر ہوئے ہیں ،ایک بھڑ کنے والا اور دوسرا پُر راغب مفردات میں کہتاہے کہ سجر (بروزن فجر) آگ کے شعلہ ورہونے کے معنی میں ہے ،اور اوپر والی آ یت کوبھی اسی معنی میں سمجھتاہے ، وہ دوسرے معنی کی بات درمیان میں نہیں لایا، لیکن مرحوم طبرسینے مجمع البیان میں پہلا معنی یہی ذکرکیاہے ، اوربعض کتب ِ لغت میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے ،قرآن کی دوسری آیات بھی پہلے معنی کی تائید کرتی ہیں، جیساکہ سورئہ مؤ من کی آ یت ٧١و ٧٢ میں آ یاہے :یسحبون فی الحمیم ثم فی النار یسجرون: انہیں جلانے والے پانی میں کھینچیں گے ، پھروہ شعلہ اورآگ میں ہوں گے ۔
امیر المو منین علی علیہ السلام کے ارشادات میں حدیدہ محماة کی داستان میں جو ان کے بھائی عقیل کے ساتھ تھی، یہ بیان ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
اتأن من حدیدة احماھا انسانھا للعبہ و تجرنی الی نار سجرھا جبارھا لغضبہ :
کیااسن لوہے سے جسے ایک انسان نے مذاق کے طورپر گرم کیاہے ،تم نالہ وفریاد کررہے ہو۔لیکن مجھے ایسی آگ کی طرف کھینچتے ہو، جسے پروردگار نے اپنے غضب سے بھڑ کایا ہے ؟(٢) ۔
لیکن یہ بحرمسجور اوربھڑ کتاہوا سمند رکہاں ہے ؟ بعض نے تویہ کہا ہے کہ اس سے مراد ہمارے کرّ ئہ زمین کے سمند بھی مراد ہیں ،جوقیامت کیقریب بھڑک اٹھیں گے اورپھر پھٹ جائیں گے ،جیساکہ سورئہ تکویر کی آ یت ٦ میں آ یاہے :واذالبحار سجرت : جب دریا بھڑک اٹھیں گے اور سورئہ انفطار آیہ ٣ میں پڑھتے ہیں واذاالبحار فجرت دریاپھٹ جائیں گے ۔
لیکن بعض نے اس کی ان معدنی مادوں کے ساتھ تفسیر کی ہے جوکرئہ زمین کے اندرہیں ۔ایک حدیث میں جو تفسیر عیاشی میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس معنی پر شاہدہے ،اس حدیث میں آ یاہے کہ قارون کوبحر مسجور میں عذاب ہو رہاہے(٣)حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ قرآن مجید یہ کہتاہے کہ : قارون اوراس کاگھر اورخزانہ زمین کی گہرائیوں میں دھنس گیا۔ فخفسنا بہ وبد ارہ الارض (قصص ۔٨١) ۔
یہ دونوں تفسیر یں ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتیں اورممکن ہے کہ اوپر والی آیت میں دونوں کی قسم کھائی گئی ہو کیونکہ دونوں خداکی آیات اوراس جہان کے عظیم عجائیاب میں سے ہیں ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ مفسرین نے ان پانچوں قسموں کے مفہوم کی ،ایک دوسرے کے ساتھ ربط کی کیفیت کے بارے میںہیں کوئی خاص بحث نہیں کی ہے،لیکن نظر یہ آ یا ہے کہ پہلی تین قسمیں توایک دوسرے کے ساتھ قریبی ربط رکھتی ہیں، کیونکہ وہ سب وحی اوراس کے خصوصیات کی بات کرتی ہیں کوہ طور محلِ نزولِ وحی تھا، اورکتاب مسطور بھی آسمانی کتاب کی طرف اشارہ ہے چاہے وہ تورات ہویاقرآن ،اوربیت المعمور فرشتوں اورخدا کے پیک وحی کے آنے جانے کا محل ہے ۔
لیکن دوسری دوقسمیں آیات تکوینی کی بات کرتی ہیں،(پہلی تین قسموں کے مقابلہ میں جو تشریعی آیات کی باتیں کرتی ہیں) اور دوقسموں میں سے ایک توحید کی ، اہم ترین نشانی یعنی باعظمت آسمانی کی طرف اشارہ ہے ،اوردوسرے معاد وقیامت کی ایک اہم نشانی ہے جوقرب قیامت میں قبروں سے زندہ ہوکراٹھنے کے وقت رونماہوگی ۔
اس بناپران پانچوں قسموں میں توحید نبوت اور معاد جمع ہے ۔
بعض مفسرین جوان تمام آ یات کو موسیٰ علیہ السلام اوران کی سرگذشت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں،ان آ یات کاایک دوسرے کے ساتھ تعلق اس طرح بیاسے بیان کیاہے ،:طور تووہی پہاڑ ہے جس میں موسیٰ علیہ السلام پروحی نازل ہوتی تھی ، اور کتاب مسطور تورات ہے ۔ بیت المعمورفرشتہ وحی کی آمدورفت کامرکز ہے (اوراحتمال ہے کہ مرادبیت المقدس ہو) اورسقف مرفوع وہی ہے جوبنی اسرائیل کی داستان میں آ یا ہے:وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَہُمْ کَأَنَّہُ ظُلَّة : اس وقت کویاد کرو جب ہم نے پہاڑ کوسائبان کی طرح بنی اسرائیل کیسرپر بلند کردیا(اعراف ۔١٧١) ۔
اوربحرمسجور آگ کاوہ سمندر ہے جس میں قارون کودین موسیٰ علیہ السلام کی مخالفت کی بناپر عذاب ہورہاہے ۔
لیکن یہ تفسیر بعید نظر آ تی ہے ،اوران روایات کے ساتھ بھی جومنابع اسلامی میں آ ئی ہیں ،ساز گار نہیں ہے ،اورجیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ۔سقف مرفوع قرآن کی دوسری آیات اوران روایات کی گواہی سے جو آ یت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہیں، آسمان کی طرف اشارہ ہے ۔
جونکتہ یہاں باقی رہ جاتاہے وہ یہ ہے کہ ان قسموں کااس موضوع کے ساتھ جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں کیا ربط ہے؟
اس سوال کا جواب ان مطالب کی طرف توکرنے سے جو اوپربیان ہوئے ہیں واضح ہوجاتاہے ، اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی قسمیں، جو عالم ،تکوینی وتشریع میں خدا کی قدرت کے محور پر گردش کررہی ہیں، اس حقیقت کوبیان کررہی ہیں کہ ایسی ذات اس بات پر اچھی طرح سے قادر ہے کہ مردوں کوددوبارہ زندہ کردے ،اورقیامت برپاکرے ،یہ وہی چیزہے کہ جس کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں، جیساکہ ان آ یات کے آخر میں بیان ہوا ہے ،ِانَّ عَذابَ رَبِّکَ لَواقِع ،ما لَہُ مِنْ دافِع ۔
١۔ بحارالا انوار میں دس سے زیادہ روایات اس سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں (جلد ٥٨ صفحہ ٥٥ کے بعد) ۔
٢۔"" نہج البلاغہ "" خطبہ ٢٢٤۔
3۔ "نورالثقلین "جلد۵،صفحہ۱۳۸۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma