یہ بھی عذاب الہٰی میں حِصّہ دار ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

اوپر کی دو آیات جوسورئہ ذاریات کی آخری آ یات ہیں، درحقیقت اس سورہ کی مختلف آیات سے ایک قسم کانتیجہ پیش کرتی ہیں،خصوصا وہ آیات جوگذشتہ اقوام جیسے قوم فرعون وقوم لوط وعاد ثمود کی سرنوشت کے سلسلہ میںگفتگو کرتی ہیں، اسی طرح وہ گذ شتہ آ یات جوھدف آفرینش اور مقصد خلقت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ۔
فرماتاہے : اب جبکہ یہ معلوم ہوچکاہے ،کہ مشرک وگنہگار قوم آفرینش کے اصلی ھدف سے منحرف ہوچکی ہے ، توانہیں جان لیناچاہیے کہ ان کے لیے بھی عذاب الہٰی کاایک عظیم حصہ ہے ، ایساہی حصہ جیساکہ گذشتہ اقوام میں سے ان کے ساتھی رکھتے تھے :(فَِنَّ لِلَّذینَ ظَلَمُوا ذَنُوباً مِثْلَ ذَنُوبِ أَصْحابِہِمْ فَلا یَسْتَعْجِلُون) ۔
اس بناء پر جلدی نہ کریں، اور بار بار یہ مطالبہ نہ کریں کہ اگر عذاب الہٰی حق ہے توپھر وہ ہماری طرف کیوں نہیں آ تا؟(فَلا یَسْتَعْجِلُون)(١) ۔
اس گروہ کے بارے میں ظلم کی تعبیراس بناء پر ہے کیونکہ شرک اور کفر عظیم ترین ظلم ہے ، ظلم کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کواس کے لائق جگہ میں نہ رکھا جائے اور مسلمہ طورسے بت کوخداکی جگہ قرار دیناظلم کا اہم ترین مصداق شمار ہوتاہے ،اور اسی بناء پر وہ بھی اسی سلوک کے مستحق ہیں، جس کی گزشتہ مشرک اقوام مستحق تھیں ۔
ذنوب (بروزن قبول)اصل میں اس گھوڑے کے معنی میں ہے، جس کی دم لمبی ہو ، اسی طرح وہ بڑے ڈول جودنبالہ رکھتے ہوں ۔
گزشتہ زمانے میں حیوانات کے ذ ریعہ کنویں سے پانی نکالنے کے لیے بڑے بڑے ڈول مہیاکئے جاتے تھے ،جن کے ایک دنبالہ ہوتاتھا، اور ڈول کے دہانے کے علاوہ ، اس کے دنبالہ کے ساتھ ایک رسی بھی متصل ہوتی تھی ، جس سے اس بڑے ڈول کوخالی کرنے کے لئے استفادہ کیاکرتے تھے ۔
اور چونکہ بعض اوقات چند گروہوں کے درمیان پانی تقسیم کرنے کے لیے ان ڈولوں سے کام لیا جاتاتھا اورہرایک کوایک یاچند ڈول دیتے تھے ، لہٰذا یہ لفظ حصّہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے، زیربحث آ یت میں اسی معنی میں استعمال ہواہے، البتہ یہاں بڑے حصّہ کی طرف اشارہ ہے ( ٢) ۔
کیااس آ یت میں دنیاکے عذاب کی دھمکی ہے یاآخرت کے عذاب کی ؟ مفسرین کے ایک گروہ نے دوسرے معنی کوقبول کیاہے ، جب کہ بعض نے پہلے معنی کااحتمال دیاہے ۔
ہمارے نظر یہ کے مطابق قرائن عذاب دنیا کی گواہی دیتے ہیں ، کیونکہ اولاً وہ عجلت جوبعض کفار رکھتے تھے زیادہ تراسی لیے تھی، کہ وہ پیغمبرسے کہا کرتے تھے:اگرتوسچ کہتاہے توپھر ہم پر عذاب الہٰی کیوں نازل نہیں ہوتا اور یہ مسلمہ طورسے عذابِ دنیا کی طرف اشارہ ہے (٣) ۔
دوسرے یہ کہ مثل ذنوب اصحابھم کی تعبیر ظاہر اً ایسی اقوام کی سرگزشت کی طرف اشارہ ہے ،جن کا اسی سورہ میں ذکر آ یاہے ، مثلاً قوم لوط و قوم فرعون وعاد وثمود ،جن میں سے ہرایک دنیا کے کسی نوع کے عذاب میں گرفتار ہوئی ہے اور تباہ و براد ہوئی ہے ۔
یہاں یہ سوال سامنے آ تاہے کہ اگریہ آ یت عذاب دنیا کے ساتھ مربوط ہے ،توپھر یہ خدائی وعدہ ان کے بارے میں کیوں پر رانہ ہوا؟
اس سوال کے دوجواب ہیں:
١۔ یہ وعدہ ان میں سے بہت سوں کے لیے ،مثلاً ابوجہل اورایک اورجماعت کے بارے میں جنگ بدرو غیرہ میں پورا ہوگیا ۔
٢۔ ان سب کے لیے اس عذاب کانزول خداکی طرف بازگشت نہ کرنے ، اور شرک سے توبہ نہ کرنے کے ساتھ مشروط تھا، لیکن جب ان میں سے اکثر فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے تویہ شرط دور ہوگئی اور عذاب الہٰ برطرف ہوگیا ۔
اور آخری آ یت میں دنیا کے عذاب کی تہدید کی ، آخرت کے عذاب کی تہدید کے ساتھ تکمیل کرتے ہوئے کہتاہے: ان لوگوں پروائے ہے جوکافر ہوگئے ،اُس دن سے جس کاان سے وعدہ لیاگیاہے (فَوَیْل لِلَّذینَ کَفَرُوا مِنْ یَوْمِہِمُ الَّذی یُوعَدُونَ) ۔
جس طرح سے یہ سورئہ مسئلہ معاد و قیامت کے ساتھ شروع ہواتھا، اسی مسئلہ پر تاکید کے ساتھ ختم ہو رہاہے (۴) ۔
ویل لغتِ عرب میں ان موقعوں پربولا جاتا ہے جہاں ایک فرد یا کئی افراد ہلاکت میں جاپڑیں ،اور یہ عذاب وبدبختی کامعنی دیتاہے، اور بعض کے قول کے مطابق عذاب سے بھی زیادہ شدید مفہوم رکھتاہے ۔
ویل و ویس و ویح کے الفاظ لغت عرب میں ان موقعوں پراستعمال ہوتے ہیں، جہاں ایک شخص دوسرے کی حالت پرافسوس کرے ، البتہ ویل بُرے اورقبیح کاموں کے موقعوں پر بولا جاتاہے اور ویس حقیر سمجھنے کے موقعوں پراور ویح رحم کھانے کے مقام پر ۔
ایک جماعت کاکہنا ہے کہ ویل دوزخ میں ایک کنواں یادرہ ہے ،لیکن یہ کہنے والوں کی مراد یہ نہیں ہے کہ لغت میں اس معنی میں ا یاہے ، بلکہ حقیقت میں ایک قسم کے مصداق کابیان ہے ۔
یہ تعبیر قرآن مجیدمیں بہت سے مو قعوں پر، جیسے کفار ، مشرکین ،دروغ گوئی کرنے والوں، تکذیب کرنے والوں ، گنہگاروں کم فروش کرنے والوں اور بے خبرنما زگذاروں کے بارے میں استعمال ہوئی ہے ، لیکن اس کازیادہ تراستعمال قرآن مجید میں تکذیب کرنے والوں کے لیے ہوا ہے ،منجملہ ان کے سورئہ مرسلات میں اس جملہ کادس مرتبہ تکرار ہواہے ویل یو مئذ للمکذبین قیامت کے دن ان لوگوں کے لیے وائے ہے جنہوں نے پیغمبروں اور آیات الہٰی کی تکذیب کی ۔
خداوندا! ہمیں اس عظیم دن کے عذاب اور وحشتناک رسوائی سے اپنے لطف وکرم کی پناہ میں رکھ ۔
بارالہٰا!ہمیں قبول کرنے کے لیے آمادہ ہونے ،اوراپنی عبودیت اوربندگی کے افتخار کی توفیق مرحمت فرما ۔
پروردگار ا!ہمیں ان اقوام کی درد ناک سرنوشت میں جنہوں نے تیرے پیغمبروں اور آ یات کی تکذیب کی ہے یاانہیں پس پشت ڈالاہے ،مبتلا نہ کر، اوروقت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پہلے ہمیں خوابِ غفلت سے بیدار کردے ۔
١۔توجہ کرناچاہیئے کہ "" یَسْتَعْجِلُون"" کی نون مکسور ہے ،حالانکہ جمع کی نون مفتوح ہوناچاہیے،اوراس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اصلی میں ""یَسْتَعْجِلُونی"" (مجھ سے جلدی نہ کریں) تھا ۔
٢۔ایک عرب شاعر کہتاہے: لنا ذنوب ولکم ذنوب فان ابیتم فلنا القلیب
ہمارے لیے بڑا ڈول ہے اور تمہارے لیے بھی بڑاڈول ہے اور اگر تم قبول نہیں کرتے تو تمام کنواں ہماراہے ۔
٣۔ سورئہ انعام کی آ یت ٥٧ ،٥٨ اور سورئہ نحل کی آ یت ٧٢ اوراسی قسم کی دوسری آیات کی طرف رجوع کریں،البتہ یہ تعبیرات قرآنی آیات میں بعض اوقات قیامت کے بارے میں بھی استعمال ہوئی ہیں ۔
۴۔ بعض نے یہ احتمال دیاہے کہ ممکن ہے کہ یہ آ یت بھی عذاب دنیا کی طرف اشارہ ہو ، حا لانکہ اس قسم کی تعبیرقرآن مجیدمیں عام طورپر قیامت کے لیے ہوتی ہے ۔

آمین یار ب العالمین
اختتام سورہ ذاریات
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma