قرآن کی نظر میں انسان کی خلقت کامقصد

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
این ترین سوالات میں سے و ہ سوال جوہرشخص اپنے آپ سے کرتاہے یہ ہے کہ : ہم کس لیے پیدا کیے گئے ہیں اورانسان کی خلقت اوراس جہان میں ا نے کامقصد کیاہے ؟
اوپروالی آ یات ، اس اہم اورہمیشہ کے سوال کامختصر اورپرمعنی تعبیروں کے ساتھ جواب دے رہی ہیں،اوراس بحث کی ، جو گزشتہ آ یات میں سے آخری آیت میں مومنین کی یاد آوری کے سلسلہ میں بیان ہوئی تھی، تکمیل کررہی ہیں، کیونکہ یہ ایک اہم ترین اصول ہے کہ جس کی پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوپیروی کرنی چاہیئے ،ضمنی طورپر خدا کی طرف فرار کامطلب بھی جوگذشتہ آ یات میں بیان ہواتھا واضح ہوجاتاہے ۔ فرماتاہے: میں نے جن وانس کوپیدا نہیں کیا مگراس لیے کہ وہ میری عبادت کریں (وَ ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الِْنْسَ ِلاَّ لِیَعْبُدُون) ۔
میری ان سے کوئی حاجت نہیں ہے : اورمیں ہرگز ان سے یہ نہیں چاہتا کہ وہ مجھے کھاناکھلائیں (ما أُریدُ مِنْہُمْ مِنْ رِزْقٍ وَ ما أُریدُ أَنْ یُطْعِمُون) ۔
خداہی ہے جو جل بندوں کوروزی دیتاہے اوروہ صاحب قدرت وقوت ہے نَّ اللَّہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتینُ) ۔
یہ چند آ یات جوانتہائی مختصر اورجامع ہیں،اس حقیقت سے پردہ اٹھارہی ہیں،کہ جس سے آگاہ ہی کے تمام خواہاں ہیں، اورہمیں ایک عظیم سے روشناس کرارہی ہیں ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ :بلاشک وشبہ ہر دانش مند اور عاقل جوکام بھی انجام دیتاہے،کوئی نہ کوئی مقصداس کے پیش نظر ہوتاہے،اورچونکہ خداسب سے زیادہ عالم اورحکیم ہے ،بلکہ کسی شخص کے ساتھ اس کاقیاس کیاہی نہیں جاسکتا، یہ سوال سامنے آ تاہے کہ اس نے انسان کوکیوں پیداکیاہے؟ کیا کوئی کمی تھی جوانسان کی خلقت سے پوری ہوجاتی ؟
یااسے کوئی حاجت اورضرورت تھی جسے پورا کرنے کے لیے اس نے ہمیں پیداکیاہے ۔
حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کاوجود ہرجہت سے کامل اورانتہائی لامتناہی ہے اوروہ غنی بالذات ہے ۔
پس پہلے مقدمہ کے مطابق توہمیںیہ قبول کرناپڑے گاکہ اس کاکوئی نہ کوئی مقصد تھا،اوردوسرے مقدمہ کے مطابق ہمیں یہ قبول کرناپڑے گا کہ انسان کی پیدائش سے اس کاکوئی ایسامقصد نہیں تھا جواس کی پاک ذات کے لیے ہو ۔
نتیجتاً اس مقصد کواسکی ذات سے باہر تلاش کرناپڑ ے گا، ایسا مقصد جوخودمخلوقات کی طرف لوٹتاہے اورانہیں کے کمال کاسبب ہے ۔
اور دوسری طرف قرآن کی آ یات میں انسان کی پیدائش کے مقصد کے بارے میں مختلف تعبیریں بیان کی گئی ہیں ۔
ایک جگہ بیان ہواہےالَّذی خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وہی ہے کہ جس نے موت اورزندگی کوخلق کیاتاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرتاہے (ملک۔٢) یہاں انسانوں کی آزمائش اور امتحان کامسئلہ حسن عملکے لحاظ سے ایک ہدف اورمقصد کے عنوان سے بیان کیاگیاہے ۔
ایک دوسری آ یت میں آیاہے :اللَّہُ الَّذی خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر وَ أَنَّ اللَّہَ قَدْ أَحاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْماً خداوہ ہے جس نے سات آسمان اوراتنی ہی زمینیںخلق فرمائی ہیں اس کافر مان ان کے درمیان نازل ہوتاہے، تاکہ تم جان لوکہ خدا ہرچیز پرقدرت رکھنے والاہے ، اوراس کاعلم تمام موجودات پراحاطہ رکھتاہے(طلاق۔١٢) ۔
یہاںخداکی قدرت اورعلم سے علم آگاہی آسمانوں اورزمین (اورجوکچھ ان کے درمیان ہے ) کی خلقت کے لیے ایک حدف اورمقصد کے عنوان سے بیان ہوئے ہیں ۔
ایک دوسری آ یت میں بیان ہواہے: وَ لَوْ شاء َ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً واحِدَةً وَ لا یَزالُونَ مُخْتَلِفینَ،ِلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ وَ لِذلِکَ خَلَقَہُمْ اگر تیرا پروردگار چاہتا تو تمام لوگوں کو(بغیر کسی اختلاف کے )امت واحدہ قرار دے دتیا، لیکن وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے، سوائے ان کے جن پرتیرا پروردگاررحم کرے ، اوراسی رحمت کے لیے انہیں پیدا کیاہے ( ھود۔ ١١٨،١١٩) ۔
اس آ یت کے مطابق رحمت الہٰی انسان کی خلقت کااصلی ہدف ہے ،
لیکن زیربحث آ یات صرف عبودیت اوربندگی کے مسئلہ پرتکیہ کرتی ہیں، اورپوری صراحت کے ساتھ اس کوجن وانس کی خلقت کے اصلی ھدف اورمقصد کے عنوان سے تعارف کراتی ہیں ۔
ان آ یات اوران سے مشابہ آ یات میں تھوڑا ساتامل اورغور وفکر یہ نشاندہی کردیتاہے کہ ان کے درمیان کسی قسم کاتضاد اوراختلاف نہیں ہے،فی الحقیقت ان میں سے بعض ھدف اورمقصد تو مقدمہ کے طورپر بیان ہوئے ہیں بعض وسطی اور بعض آخری ، اوربعض ان کا نتیجہ ہیں ۔
اصلی ھدف وہی عبودیت ہے ،جس کی طرف زیربحث آ یات میں اشارہ ہوا ہے ، اور مسئلہ علم ودانش اور امتحان وآزمائش ایسے اھداف و مقاصد ہیں جوعبودیت کی منزلیں طے کرتے ہوئے راستہ میں ا تے ہیں.اوررحمت ِ خدا وند اس عبو دیت کانتیجہ ہے ۔
اس طرح سے واضح ہوجاتاہے، کہ ہم سب پروردگارکی عبادت کے لیے پیداکئے گئے ہیں،لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ عبادت کی حقیقت کیاہے؟
کیاصرف رکوع وسجود ،قیام وقعوداورنماز وروزہ جیسے مراسم کاانجام دینامراد ہے ،یاان کے علاوہ کوئی اورحقیقت ہے؟اگرچہ رسمی عبادات بھی سب کی سب اہمیت کی حامل ہیں ۔
اس سوال کاجواب معلوم کرنے کے لیے عبد وعبودیت کے الفاظ پرغور کرناہوگا ، اوران کی تحلیل وتجزیہ کرنا پڑے گا ۔
عبد لغت کے لحاظ سے اس انسان کوکہتے ہیں جوسرتاپا اپنے مولا اور آقا ومالک سے تعلق رکھتاہے،اس کاارادہ اس کے ارادہ کے تابع ، اوراس کی خواہش اس کی خواہش اورمرضی کے تابع ہے یہ اس کے مقابلہ میں کسی چیزکامالک نہیں ہے، اوراس کی اطاعت میں کسی قسم کی کوتاہی اور سستی نہیں کرتا ۔
دوسرے لفظوں میں عبودیت جیساکہ متون لغت میں آیاہے ،معبود کے سامنے آ خری درجہ کے خضوع کااظہارہے اوراسی بناء پر صرف وہی ذات معبود ہوسکتی ہے جس نے انتہائی انعام واکرام کیاہو، اوروہ خدا کے علاوہ اورکوئی نہیں ہے ۔
اس بناء پر عبودیت ایک انسان کے ارتقاء وتکامل کی انتہائی معراج اورخداسے اس کاقرب ہے ۔
عبودیت اس کی ذات پاک کے آگے انتہائی تسلیم ہے ، عبودیت، بلا قید وشرط اطاعت اورتمام مراحل میں فرمانبرداری کرناہے ۔
اورآخر میں عبودیت کامل یہ ہے کہ انسان سوائے معبود حقیقی یعنی کمال مطلق کے کسی کابھی تصور اورخیال نہ کرے، اس کی راہ کے علاوہ اور کسی راہ پر قدم نہ اٹھائے،اس کے سواہر چیز کوبھول جائے ، یہاں تک کہ خود اپنے آپ کوبھی ۔
اورخلقتِ بشر کاھدف اصلی یہی ہے،جس تک پہنچنے کے لیے خدانے آ ز مائش کامیدان فراہم کیاہے، اورانسان کوعلم وآگاہی عطا فرمائی ہے، اوراس کااصلی اور واقعی و حقیقی نتیجہ بھی اس کی رحمت کے سمندر میںخود کوسموناہے۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma