نصیحت کر کیونکہ نصیحت وتذ کرفائدہ مند ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

اسی سورہ کی آ یت ٣٩ میں یہ آ یا ہے کہ فرعون نے ، موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خدا وند یکتا اور ظلم وبیداد گری کے ترک کرنے کی دعوت کے مقابلہ میں موسیٰ کومتہم کیاکہ وہ ساحر یا مجنون ہے ، یہ نسبت مشرکین کی طرف سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوبھی دی جاتی تھی، یہ بات ابتدائی دور کے تھوڑے سے مومنین کے لیے بہت گران تھی، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی روح کوآز ردہ کرتی تھی۔
زیر بحث آ یات میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اورمومنین کی دلدار کے لیے کہتاہے، : صرف توہی نہیں ہے جوان زہر آلود تہمت کے تیروں کاھدف قرار پایاہے ،: اسی طرح ہے کہ ان سے پہلے کی کسی قوم کی طرف کوئی پیغمبرنہیں بھیجاگیا، مگر یہ کہ انہوں نے کہا، وہ جادوگر یادیوانہ ہے (کَذلِکَ ما أَتَی الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِنْ رَسُولٍ ِلاَّ قالُوا ساحِر أَوْ مَجْنُون )(١) ۔
وہ انہیں اس لیے ساحر کہتے تھے ،کیونکہ ان کے پاس ان کے عینی معجزات کاکوئی منطقی جواب نہیں تھا، اور مجنون کہہ کر اس لیے خطاب کرتے تھے کیونکہ وہ محیط اورماحول کے ساتھ ہم رنگ نہیں تھے، اور مادی امتیازات کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہیں کرتے تھے ۔
اس بناء پرتم پریشان نہ ہو اورغم واندوہ نہ کرو اوراپنی استقامت وپائیداری اورصبر وشکیبائی میں اضافہ کرو، کیونکہ اس قسم کی بے بنیاد باتیں اور نسبتیں ہمیشہ مردان حق کے مقابلہ میں کہی جاتی رہی ہیں ۔
اس کے بعد مزید کہتاہے کیایہ کافر عناد رکھنے والی اقوام ایک دوسرے کووصیت کیاکرتی تھیں کہ تمام انبیاء پریہ تہمتیں لگائیں؟( اتو اصوابہ ) ۔
اس طرح سے ہم آہنگی کے ساتھ اورایک ہی طرز پرعمل کرتے ہیں جیساکہ انہوں نے ماورا ء تاریخ میں کوئی مجلس تشکیل دی ہو، اور مشورہ کے لیے بیٹھے ہوں، اورایک دوسرے کووصیت ونصیحت کرتے رہے ہوں، کہ انبیاء کہ عموماًسحرو جنوں کے ساتھ متہم کرتے رہنا، تاکہ عوام میں ان کے اعتبار کانفوذ کم ہوجائے ۔
اور شاید ان میں سے ہرایک جب اس دنیا سے جانا چاہتا تھا، تواپنی اولاد اور دوستوں سے یہ بات کہتے تھے اور وصیت کرتے تھے ۔
اس کے بعد مزید کہتاہے :بلکہ وہ ایک سرکش اورطوفان اٹھانے والی قوم ہے (بل ھم قوم طاغون ) ( ٢) ۔
یہ سرکشی اور شرانگیزی کاہی اثر ہے کہ مردان حق کومیدان سے نکالنے کے لیے ہرقسم کے جھوٹ اورتہمت سے متوسل ہوتے تھے ، اور چونکہ ابنیاء معجزات اور نئے احکام کے ساتھ قوموں کے درمیان آتے تھے ، تووہ ان کے لیے بہترین لیبل یہ سمجھتے تھے کہ انہیں جادو اورجنون سے متہم کریں، اس بناپر ان کے وحدت عمل کاعامل سرکشی وشرانگیزی کی وہی مشتر کہ روح تھی۔
پھر دو بارہ تسلی خاطراور زیادہ سے زیادہ دلداری کے لیے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے فرماتاہے: اب جب کہ یہ طاغی وسرکش قوم حق بت سننے کے لیے تیار نہیں ہے ، توان سے منہ پھیرلے ( فتول عنھم) ۔
اور تو مطمئن رہ کر تونے اپنے وظیفہ اور ذمہ داری کو کامل طورسے انجام دے دیاہے ، اورتو ہرگز سرزنش اور ملامت کے لائق نہیں ہے ( فما انت بملوم ) ۔
اگروہ حق کو قبول نہ کریں توغم نہ کھاؤ ، کیونکہ شائستہ اور صلاحیت رکھنے والے دل کوقبول کرلیں گے ۔
یہ جملہ حقیقت میں دوسری آ یات کی اد دلاتاہے ، اور اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ پیغمبراس قدر دلسوز تھے ، کہ بعض اوقات ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے سخت تکلیف میں مبتلا ہوجائیں ، جیساکہ سورئہ کہف کی آ یت ٦، میں ا یا ہے : فَلَعَلَّکَ باخِع نَفْسَکَ عَلی آثارِہِمْ ِنْ لَمْ یُؤْمِنُوا بِہذَا الْحَدیثِ أَسَفاً ۔
گو یاتو چاہتاہے کہ اپنے آپ کوان کے اعمال پرغم واندوہ کی بناء پر ہلاک کردے ، کیونکہ وہ اس قرآن پرایمان نہیں لائے ہیں۔
یقینا ایک سچے رہبرکوایساہی ہونا چاہیئے ۔
مفسرین کابیان ہے کہ جس وقت یہ آ یت نازل ہوئی تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور مؤ منین اندوہگین ہوئے اورخیال کیاکہ مشرکین کے مقابلہ میں یہ آخری بات ہے ، اور وحی آسمانی قطع ہوگئی ہے ، اور جلدی ہی عذاب الہٰی نازل ہوگا، لیکن زیادہ دیر نہ گذ ری تھی کہ بعد والی آ یت نازل ہوئی ، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوحکم دیا: تم ہمیشہ پندو نصیحت کرتے رہو، کیونکہ پندو نصیحت سے مو منین کوفائدہ پہنچتاہے (وَ ذَکِّرْ فَِنَّ الذِّکْری تَنْفَعُ الْمُؤْمِنینَ ) ۔
یہ وہ منزل تھی کہ سب نے اطمینان وسکون کاسانس لیا ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آمادہ وتیار دل گوشہ وکنار میں تیری باتوں کے انتظار میں ہیں، اگرایک گروہ حق کے مقابلہ میں مخالفت کے لیے کھڑا ہے تو دوسراگروہ دل وجان سے اس کامشتاق ہے اور تیری دل نشین گفتگو ان کے نفوس میں اپنی تاثیر چھوڑ تی ہے ۔
١۔"" کذالک "" ایک محذوف مبتداء کی خبرہے ، اور تقدیر میں( الا مرکذ الک)(معاملہ یوں ہی ہے ) ہے ۔
٢۔اوپر والی آ یت میں"" بل "" اضرابیہ ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma