گذشتہ لوگوں کی تاریخ میں یہ سب عبرت کے درس ہیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

قرآن ان آ یات میں، قوم لوط کی داستان اور اس دردناک انجام کو، جو انہوں نے قبیح اور شرمناک گناہوں کی وجہ سے پایاتھا، بیان کرنے کے بعد ،گذشتہ اقوام میں سے چند قوموں کی سرگزشت کی طرف اشارہ کرتاہے ۔
پہلے فرماتاہے: موسیٰ اوراس کی زندگی کی تاریخ میں بھی ایک نشانی اور درس عبرت تھا، جب ہم نے اسے فرعون کی طرف واضح اور روشن دلیل کے ساتھ بھیجا (وَ فی مُوسی ِذْأَرْسَلْناہُ ِلی فِرْعَوْنَ بِسُلْطانٍ مُبینٍ) ۔
سلطان اس چیز کو کہتے ہیں جو تسلط کاسبب بنے ، اور یہاں معجزہ یاعقلی قوی دلیل ومنطق ہے،یادونوں میں،کہ موسیٰ نے فرعون کے مقابلہ میں ان سے فائدہ اٹھایا ۔
سلطان مبین کی تعبیرقرآن کی مختلف آیات میں بہت زیادہ استعمال ہوئی ہیں، اور عام طور پر واضح وآشکار منطقی دلیل کے معنی میں ہے ۔
لیکن فرعون نے نہ تو موسیٰ علیہ السلام کے عظیم معجزات کے سامنے سرتسلیم خم کیا، جوان کے خداسے دارتباط کے گواہ تھے، اور نہ ہی ان کے منطقی دلائل کے آگے سرتعظیم جھکا یا ، بلکہ اس غر ور تکبر کی وجہ سے جووہ رکھتاتھا، اپنے پورے وجود کے ساتھ اس سے پھر گیا اور کہا: یہ شخص یاتو جادو گر ہے یا دیوانہ ہے (فَتَوَلَّی بِرُکْنِہِ وَ قالَ ساحِر أَوْ مَجْنُون) ۔
رکن اصل میں ستون اورپایہ اصلی اورہرچیز کے اہم حصہ کے معنی میں ہے اور یہاں ممکن ہے بدن کے تمام ارکان کی طرف اشارہ ہو، یعنی فرعون نے مکمل طورپر اپنے تمام ارکان بدن کے ساتھ موسیٰ کی طرف پشت کی ۔
بعض نے یہ بھی کہاہے ، کہ یہاں اس کالشکر مراد ہے ، یعنی اس نے اپنے ارکانِ لشکر پر تکیہ کیا، اور پیام حق سے رو گر دانی اختیار کی ۔
یایہ کہ اس نے خودبھی فرمان خدا سے منہ پھیرا، اوراپنے ارکان ِ حکومت اور لشکر کوبھی منحرف کیا( ١) ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ جھوٹے جبار اور سرکش لوگ ان تہمتوں اور جھوٹی نسبتوں میں، جووہ عظیم پیغمبروں کی طرف دیتے تھے ، ایک عجیب حیرارنی،تناقض اورپریشان وگوئی میں گرفتار تھے، کبھی انہیں ساحرو جادو گر کہتے اور کبھی مجنون ودیوانہ ،حالانکہ ساحروجادو گر ا یک ہوشیار آدمی ہونا چاہیئے ،جوباریک کام کرنے ، اور نفسیاتی مسائل اور مختلف چیزوں کے خواص سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حیرت انگیزکام کرے، اور لوگوں کوغفلت میں رکھے ، جب کہ مجنون اس کانقطۂ مقابل ہے ۔
لیکن قرآن فرعون ِ جبار اوراس کے ساتھیوں کے انجام کے بارے میں اس طرح خبر دیتاہے،: ہم نے اُسے اوراس کے لشکر کواپنی گرفت میںلے لیا، اوراسے دریامیں پھینک دیا، کیونکہ وہ ایسے اعمال کامرتکب ہواتھا ،جوسر زنش اور ملا مت کے قابل تھے (فَأَخَذْناہُ وَ جُنُودَہُ فَنَبَذْناہُمْ فِی الْیَمِّ وَ ہُوَ مُلیم )( ٢) ۔
یم جیساکہ لغت اور کتب حدیث سے معلوم ہوتاہے، سمندر کے معنی میں ہے اور تیل جیسے عظیم دریاؤں پر بھی اس کا اطلاق ہوتاہے (٣) ۔
نبذ ناھم ہم نے ان کو پھینک دیا)کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے ، کہ نہ صرف خدائی عذاب نے اس قوم کو محو کردیا، بلکہ ان کی و ہ تاریخ جوباقی رہ گئی ہے . ان کے لیے باعث تگ و نام ہے اورا ن کے شرم آور اعمال کی بھی محافظ ہے،اوراس نے ان کے ظلم وجرم اور کبر وغرور سے اس طرح سے پردہ اٹھایاہے کہ ہمیشہ کے لیے قابل مذمت بن گئے ہیں ۔
اس کے بعد ایک دوسری قوم یعنی عاد کی اجمالی سرنوشت پیش کرتے ہوئے اس طرح کہتاہے:
قوم عاد کی طرف سرگذشت میں بھی ایک آ یت و عبرت ہے ، جبکہ ہم نے ان پر ایک عقیم اور بغیربارش کاطوفان بھیجا (وَ فی عادٍ ِذْ أَرْسَلْنا عَلَیْہِمُ الرِّیحَ الْعَقیمَ) ۔
ہواؤں کاعقیم اور بانجھ ہونااس وقت ہوتاہے ،جب کہ وہ بارش برسانے والے بادل اپنے ساتھ لے کرنہ چلیں، گیاہ ونباتات میں اپنے عمدہ اثرات نہ چھوڑیں ، اوران میں کوئی فائدہ اور برکت نہ ہو، اور ہلاکت و نابودی کے سوا کوئی چیزہمراہ نہ لائیں ۔
اس کے بعداس سخت آندھی کی خصوصیت ، جو قوم عاد (پرمسلط ہوئی تھی بیان کرتے ہوئے مزید کہتاہے،: وہ جس چیز کے پاس سے گزر تی تھی اس کونابود کئے بغیر نہ چھوڑتی تھی، اور خشک کٹی پھٹی گھاس یابوسیدہ ہڈیوں کی صورت میں لے آ تی تھی، : (ما تَذَرُ مِنْ شَیْء ٍ أَتَتْ عَلَیْہِ ِلاَّ جَعَلَتْہُ کَالرَّمیمِ ) ۔
رمیم رمة (بروزن منة )کے مادہ سے بوسیدہ ہڈیوں کے معنی میں ہے ۔اور رمہ (بروزن قبہ)بوسیدہ رسی کوکہاجاتاہے اوررم (بروزن جنان چھوٹے چھوٹے اجزاء کوکہاجاتاہے،جولکڑی یاگھاس میں زمین پرگر پڑتے ہیں( ٤) رم اور ترمیم پرانی اوربوسیدہ اشیاء کی اطلاح کے معنی میں آ تاہے (٥) ۔
یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قوم عاد کی تیز آندھی ایک عام تیزآندھی نہیں تھی ، بلکہ انہیں تباہ کرنے اور کوٹنے چھیتنے کے علاوہ اوراصطلاح کے مطابق .فز یکل دباؤ سے ، جلا نے اور زہریلا بنانے کی خاصیت رکھتی تھی ، جو طرح طرح کی اشیاء کوبوسیدہ اور کہنہ بنادیتی تھی،۔
ہاں !خدا کی قدرت ایسی ہے ، جو نسیم کی ایک حرکت سریع کے ذریعہ طاقتور اور مشہور ومعروف اقوام کواس طرح کی طرف جوسرزمین احقاف (عمان اور حضرموت کے درمیان کاعلاقہ)میں رہتے تھے ... ایک مختصر ساشارہ تھا ۔
اس کے بعد قوم ثمود کی نوبت آ تی ہے، اوران کے بارے میں فرماتاہے :قوم ثمود بھی ایک آ یت اور عبرت ہے ،جبکہ ان سے کہاگیا: تم زندگی کی تھوڑ ی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھالو( اورپھر عذاب الہٰی کے منتظر رہو)(وَ فی ثَمُودَ ِذْ قیلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّی حین) ۔
حتیٰ حین سے مراد وہی مہلت کے تین دن ہیں جن کی طرف سورہ ہود کی آ یت ٦٥ میں ارشارہ ہواہے :
فَعَقَرُوہا فَقالَ تَمَتَّعُوا فی دارِکُمْ ثَلاثَةَ أَیَّامٍ ذلِکَ وَعْد غَیْرُ مَکْذُوبٍ: انہوں نے اس اونٹنی کی جوبطور اعجاز آئی تھی، کونچیں کاٹ دیں، اوران کے پیغمبرصالح نے ان سے کہا،بس تین دن اپنے گھروں میں مزے اڑالو، اوراس کے بعد عذابِ الہٰی کے منتظر رہو، یہ نہ ٹلنے والی وعید ہے۔
باوجود اس کے کہ خدا ان کے پیغمبرصالح کے ذ ریعہ انہیں بار ھا انذار فر ماچکاتھا، لیکن پھر بھی مزید اتمام حجت کے لیے انہیں تین دن کی مہلت اور دی گئی ، تاکہ وہ اپنے تاریک ماضی کی تلافی کرلیں، اور گناہ کازنگ تو بہ کے پانی ساتھ دل و جان سے دھولیں، بلکہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق ان تین دنوں میں انکے بدن کی جلد میں کچھ تبد یلیاںظاہر ہوئیں پہلے زرد ہوئیں پھرسرخ ہوئیں اور بعد میں سیاہ ہوگئیں، تاکہاس مشرک سرکش قوم کے لیے تنبیہیں ہوں، لیکن افسوس ان امور میں سے کوئی چیز بھی فائدہ مند نہ ہوئی ، اور وہ غرور کی سواری سے نیچے نہ اترے ۔
ہاں! انہوں نے اپنے پر وردگار کے فرمان سے سرتابی کی، اور صاعقہ نے انہیں ناگہانی طور پر آگھیر اجب کہ وہ حیرانی کے ساتھ دیکھ رہے تھے ، اوران میں اپنا دفاع کرنے کی کوئی قدرت نہ تھی (فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ فَأَخَذَتْہُمُ الصَّاعِقَةُ وَ ہُمْ یَنْظُرُونَ) ۔
عتوا عتو (بروزن غلو)کے مادہ سے ،اطاعت سے رو گردانی کرنے کے معنی میں ہے ظاہر ہے کہ یہ جملہ ان تمام روگردانیوں کی طرف اشارہ ہے ، جووہ صالح کی دعوت کے سارے عرصہ میں کرتے رہے ، مثلاً بت پرستی ،ظلم و ستم اورصالح کی اونٹنی کی نچوں کا کاٹنا جوان کاایک معجزہ تھا، نہ کہ صرف وہ روگر دانیاں جوان تین دنوں میں انہوں نے انجام دیں، اور بارگاہ خدامیں تو بہ وانابہ کے بجائے غفلت اور غر ور میں ڈو بے رہے ۔
اس بات کی شاہد سورئہ اعراف کی آ یت ٧٧ہے جو یہ کہتی ہے،:(فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ وَ قالُوا یا صالِحُ ائْتِنا بِما تَعِدُنا اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلینَ)پھر انہوں نے ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں، اور پر وردگارکے فرمان سے سرپیچی کی اورکہا: اے صالح اگر توخدا کابھیجا ہواہے، توجس چیز کی ہمیں دھکمی دے رہا ہے وہ لے آ۔
صاعقہ اور صاقعہدونوں قریب العنی ہیں، اصلی میں شدید آواز کے ساتھ نیچے گرانے کے معنی میں ہے ،اس فرق کیساتھ کہ صاعقہ آسمانی اجسام میں کہا جاتاہے، اور صا قعہزمینی اجسام میں اور بعض اہل لغت کے قول کے مطابق صاعقہ کبھی موت کے معنی میں ،کبھی عذابکے معنی میں ، اور کبھی آگ کے معنی میں آ تاہے، یہ لفظ عام طورپر اسی شدید آواز پربولا جاتاہے، جواسمان سے مرگ بارآگ کے ساتھ بلند ہوتی ہے ،کہاجاتاہے کہ اس میں(موت وعذاب اور نیند )تینوں ہی معنی جمع ہیں ۔
ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے کہ جس وقت وہ بادل جن میں مثبت بجلی ہوتی ہے ، ایسی زمین کے نزدیک ہوجائیں، جومنفی بجلی کی حامل ہے ، توان دونوں کے درمیان سے بجلی کاایک عظیم شعلہ نکلتاہے، جس کے ساتھ ایک وحشتناک آواز اورجلانے والی آ گ ہوتی ہے ، اور وہ اس کے واقع ہونے کے مقام کولرزا کررکھ دیتی ہے ۔
قرآن مجید میں سورئہ بقرہ کی آ یت ١٩ میں اس معنی کووضاحت کے ساتھ بیان کیاگیاہے، کیونکہ بادل و بارش اوررعدوبرق کی گفتگو کرنے کے بعد مزید کہتاہے:
یَجْعَلُونَ أَصابِعَہُمْ فی آذانِہِمْ مِنَ الصَّواعِقِ حَذَرَ الْمَوْت :
مفافقین ان راستہ چلنے والے لوگوں کے مانند ہیں جواندھیر ی رات میں ، جس میں رعد کڑک رہی ہو اور بجلی چمک رہی ہو... بیابان سے گذرتے ہیں، اورمرنے کے خوف سے (اوراس لیے کہ صاعقہ آواز کو نہ سنیں)اپنے کان میں انگلی رکھ لیتے ہیں ۔
انجام کار آخری جملہ جواس سرکش قوم کے بارے میں فرماتاہے وہ یہ ہے کہ وہ اس طرح سے زمین پرگرپڑے کہ ان میں کھڑے ہونے کی بھی قدرت نہ تھی، اورنہ ہی کسی سے مدد طلب کرسکتے تھے (فَمَا اسْتَطاعُوا مِنْ قِیامٍ وَ ما کانُوا مُنْتَصِرینَ) ۔
ہاں !صاعقہ نے انہیں اس طرح غفلت میں پکڑ کرزمین پردے ٹپکا کہ نہ توان میں کھڑے ہونے کی طاقت تھی نہ اپنا دفاع کرنے کی قدرت اور نہ ہی نالہ وفریاد اور مدد طلب کرنے کی قوت، اورا نہوں نے اسی حالت میں جان دے دی ، اور ان کی سرگذشت دوسروں کے لیے ایک درس عبرت بن گئی ۔
ہاں ! قوم ثمود جو عرب کے معروف قبیلوں میں سے تھی، اور سرزمین حجر میں ( جوحجاز کے شمالی میں ایک علاقہ ہے)امکانات ووسائل ،فر اواں ثروت، طولانی عمر، اورمحکم عمارتوں کے ساتھ زندگی بسرکرتے تھے ، فرمان خدا سے رو گر دانی ، سرکشی ، طغیان ، شرک اورظلم وستم کی بناپرنابودہوگئے اوران کے آثار دوسروں کے لیے ایک درس گو یا منہ بولتا سبق بن گئے ۔
آخری زیر بحث آ یت میں پانچو یں قوم یعنی قو م نوح کی طرف ایک مختصر سااشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے: اور ہم نے قوم نوح کوان سے پہلے ہلاک کیاتھا، کیونکہ وہ ایک فاسق قوم تھی (وَ قَوْمَ نُوحٍ مِنْ قَبْلُ ِنَّہُمْ کانُوا قَوْماً فاسِقینَ)(٦) ۔
فاسق اس شخص کوکہتے ہیں جو خدا کے فرمان کی حدود سے باہر قد م نکالے اور کفر وظلم یادوسرے تمام گناہوں میں آلودہ ہو ۔
من قبل ( ان سے پہلے)کی تعبیر شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قوم فرعون ،لوط، عاد وثمود نے قوم نوح کی افسوس ناک گذشت ،جواُن سے پہلی تھی ... سن رکھی تھی،لیکن افسوس کہ اس نے انہیں بیدار نہ کیا، اور خود اس سے مشابہ سرنوشت میں گرفتار ہوگئے ۔
١۔توجہ کرنا چاہیے کہ ""برکنہ""میں "" باء "" پہلی تفسیر کے مطابق "" باء مصاحبہ "" اور دوسری تفسیر کے مطابق "" باء سببیت "" ہے اور تیسری تفسیر کے مطابق "" باء تعدیہ "" ہے ۔
۲۔"" ملیم"" اسم فاعل ہے باب "" افعال "" سے ، مادہ لوم سے سرزنش کے معنی میں ہے ،اورایسے موقعوں میں اس شخص کے معنی میں ہے ،جوقابل ملا مت کا م کامرتکب ہوا ہو، جیساکہ "" مغرب"" اس شخص کے معنی میں ہے جوعجیب وغریب کام انجام دیتاہے ۔
٣۔اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے جلد چھ صفحہ ... سورئہ اعراف کی آ یت ١٣٦ کے ذیل میں بیان ہوا ہے ۔
٤۔مفردات راغب (مادہ ۔رم ) ۔
٥۔"" لسان العرب"" ومفردات ( مادہ ۔رم) ۔
٦۔ اس جملہ میں ایک محذوف ہے اور "" کشاف "" میں "" زمخشری "" کے قول کے مطابق تقدیر میں اس طرح ہے "" واھلکنا قوم نوح "" اگرچہ پہلی آ یات میں "" اھلکنا"" نہیں تھا، لیکن ان کے مضمون سے ان کااچھی طرح سے استفادہ ہوتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma