قوم لُوط کے شہرکہاں تھے؟

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

یہ بات مسلمہ ہے کہ ابراہیم عراق اور سرزمین بابل سے ہجرت کرنے کے بعد شامات کی طرف گئے ،کہتے ہیں کہ لوط بھی ان کے ساتھ تھے ، لیکن کچھ مدت کے بعد (توحید کی طرف دعوت دینے اور فتنہ و فساد سے مبارزہ کے لیے) شہر سدوم کی طرف گئے ۔
سدوم قوم لوط کے ایک شہراور آباد ی کانام تھا،جوشامات (ملک اردن میں)بحرا لمیت کے قریب واقع تھا،جوآبادی اور درختوں اور سبزہ زار سے بھراتھا، لیکن اس بد کار وبے غیرت قوم پر عذاب الہٰی کے نازل ہونے کے بعد،ان کے شہرمسمار اور تہ و بالا ہوگئے، چنانچہ انہیں مدائن مؤ تفکات( تہ و بالا ہونے والے شہر) کہتے ہیں ۔
بعض کا نظر یہ یہ ہے کہ ان شہروں کے ویرانے زیر آب آگئے ہیں، اوران کادعویٰ ہے کہ انہوں نے بحرا لمیت کے ایک گوشہ میں کچھ ستون اور دوسرے آثار جوان شہروں کے خرابوں پردلالت کرتے ہیں دیکھتے ہیں ۔
اور یہ جوبعض اسلامی تفاسیرمیں آیا ہے کہ وترکنا فیھااٰیة کے جملہ سے مراد وہی گندے پانی ہیں جنہوں نے نے ان شہروں کی جگہ کہ ڈبو دیاہے، ممکن ہے کہ اسی معنی کی طرف اشارہ ہو کہ شدید زلزلوں اور زمین کے شگافتہ ہونے کے بعد بحرا لمیت سے ایک راستہ اس سرزمین بلا دیدہ کی طرف کھل گیاہواوراور یہ سب شہرزیر آپ آگئے ہوں ۔
جب کہ بعض کانظر یہ یہ ہے کہ قوم لوط کے شہر زیر آپ نہیں آ ئے اوراب بھی بحرا لمیت کے قریب ایک علاقہ ہے جوسیاہ پتھر وں کے نیچے ڈھکا ہواہے ،احتمال ہے کہ قوم لوط کے شہروں کی یہی جگہ ہے ۔
اور یہ بھی کہاہے کہ ابراہیم کامرکزشہر حبروں میں تھا، جوشہر سدومسے چنداںدور فاصلہ پر نہیں تھا، اور جس وقت زلزلہ یاصاعقہ کے زیر اثر ان کے شہروں کوآگ لگی تواس وقت ابراہیم حبرون کے قریب کھڑے ہوئے تھے ، اور شہرسے جو دھنواں اٹھ رہاتھا اُسے اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے (۱) ۔
اس گفتگو کے مجموعہ سے ان شہروں کے قریب قریب حدود واضح ہوگئے ، اگرچہ ان کے جز ئیات ابھی تک پردہ ابہام میں ہیں ۔
۱۔اقتباس ازکتاب"" قاموس مقدس"""" دائرة المعارف دھخدا "" اور "" المنجد"" حصہ اعلام۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma