قومِ لوط کے بلادیدہ شہر ایک آ یت اورعبرت میں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

فرشتوں کے براہیم کے پاس آ نے ، اور انہیں اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دینے کے واقعہ کے بعد ،اس گفتگو کے بارے میںگفتگو ہورہی ہے ، جو ابراہیم اور فرشتوںکے درمیان قوم لوطکے سلسلہ میں ہوئی ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ :ابراہیم شام کی طرف جلاوطن ہونے کے بعد لوگوں کوخداکی طرف دعوت دینے اور ہرقسم کے شرک بُت پرستی کے خلاف مبارزہ کرنے میں مصروف تھے، حضرت لوطجوایک عظیم پیغمبرتھے ،ان ہی کے زمانہ میں ہوئے ہیں اوراحتمال یہ ہے کہ کہ آپ ہی کی طرف سے مامورہُوئے تھے ، کہ گمراہوں کوتبلیغ و ہدایت کرنے کے لیے شام کے ایک علاقہ (یعنی سدوم کے شہر وں کی طرف )سفر کریں ۔
وہ ایک ایسی گناہ ہگارقوم کے درمیان آئے جوشرک اور بہت سے گناہوں میں آلود ہ تھی ، اور سب سے قبیح گناہ اغلام اورلواطت تھی،آ خرکار فرشتوں کاایک گردہ ، اس قوم کی ہلاکت پرمامورہوا، لیکن وہ پہلے ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ ئے ۔
ابراہیم مہمانوں کووضع قطع سے سمجھ گئے کہ یہ کسی اہم کام کے لیے جارہے ہیں،اور صرف بیٹے کی ولادت کی بشارت کے لیے نہیں آئے ، کیونکہاس قسم کی بشارت کے لیے توایک ہی شخص کافی تھا، یااس عجلت کی وجہ ہے جووہ چلنے کے لیے کررہے تھے ،اس سے محسوس کیاکہ کوئی اہم ڈیوٹی رکھتے ہیں ۔
لہٰذاپہلی آ یت میں کہتاہے: اے خدا کے بھیجے ہُوئے فرشتو!تم کو نسے اہم کام کے لیے مامور ہُوئے ہو؟(قالَ فَما خَطْبُکُمْ أَیُّہَا الْمُرْسَلُونَ)(١) ۔
فرشتوں نے پنی ڈیوٹی کی ، اور ابراہیم سے کہاہم ایک مجرم اور تباہ کار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں(قالُوا ِنَّا أُرْسِلْنا ِلی قَوْمٍ مُجْرِمینَ ) ۔
ایسی قوم جوعقیدہ کے فساد اورخرابی کے علاوہ انواع واقسام کی آلود گیوں، اورمختلف گناہوں میں جو قبیح اور شرمناک ہیں گرفتار ہیں( ٢) ۔
اس کے بعد انہوں نے مزید کہا: ہم اس بات کے لیے مامور ہُوئے ہیں کہ ان پر سنگ گل کی بارش کریں اورانہیں اس کے ذریعہ تہ و بالا کرکے ہلاک کردیں(لِنُرْسِلَ عَلَیْہِمْ حِجارَةً مِنْ طینٍ) ۔
حجارة ماطین (مٹی کے پتھر ) کی تعبیر ،وہی چیزہے ، جسے سورئہ ہودکی آ یہ ٨٢ میں، اس کی بجائے سجیل اور سجیل اصل میں ایک فارسی لفظ ہے ،جو سنگ و گل سے لیاگیاہے، اورعربی زبان میں سجیلکی صورت اختیار کرلی ہے ،تواس بناء پر یہ ایک ایسی چیزہے جونہ پتھر کی طرح سخت ہے اور نہ مٹی کی طرح نرم اور مجموعی طورپرشاید اس معنی کی طرف اشار ہو کہ اس مُجرم قوم کونابُود کرنے کے لیے آسمان سے بڑے بڑے پتھروں کے نازل کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی،بلکہ چھوٹے چھوٹے ریت کے ذرات کی بارش جوزیادہ محکم نہیں تھے، بارش کے قطرات کی مانند ان پر برسے ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے ،یہ پتھر تیرے پروردگارکی طرف سے اسراف کرنے والوں کے لیے نشان لگائے ہُوئے تھے (مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفینَ ) ۔
مسوّمة اس چیزکوکہتے ہیں ، جس پر کوئی علامت اور نشانی ہو، اوراس بارے میں کہ وہ کس طرح کے نشاندار تھے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ،بعض نے تویہ کہاہے کہ : ان کی ایک مخصوص شکل تھی جو اس بات کی نشاندہی کر تی تھی کہ یہ عام پتھر نہیں ہیں، بلکہ عذاب کاذریعہ ہیں ۔
اورایک جماعت نے یہ کہاہے : ہرایک ایک علیٰحدہ نشانی تھی اورایک معین فرداورایک خاص نقطہ کے لیے نشانہ بنایاگیاتھا، تاکہ لوگ جان لیں کہ خداکے عذاب ایسے حساب شدہ ہوتے ہیں کہ یہ تک معلوم ہے ، کہ کون سا مُجرم شخص کس پتھر کے ساتھ ہلاک ہوگا!
مسرفین کی تعبیران کے گناہوں کی کثرت کی طرف اشارہ ہے ، اس طرح سے کہ وہ حد سے گزر گئے تھے اورحیاء وشرم کاپردہ چاک کرچکے تھے، اگر کوئی شخص قوم لُوط کے حالات اوران کے گناہوں کے اقسام میںغور کرے تووہ دیکھ لے گا کہ ان کے بارے میں یہ تعبیر بہت ہی پُر معنی ہے ( ٣) ۔
ہرانسان ممکن ہے کبھی کبھی کسی گناہ سے آلودہ ہوجائے ، لیکن اگر وہ جلدی بیدار ہوجائے اوراس کی تلافی اوراصلاح کرلے ،توزیادہ مشکل نہیں ہے،مشکل اس وقت پیش آ تی ہے جب کام اسراف کی حد تک پہنچ جائے ۔
یہ تعبیراس کے ساتھ ، ہی ایک اور مطلب کو بھی واضح کرتی ہے کہ نہ صرف یہ کہ یہ آ سمانی پتھر قوم لوط کے لیے نشان لگائے گئے بلکہ یہ تمام اسراف کرنے والے گنہگاروں کے انتظار میں ہیں ۔
قرآن نے یہاں پر وردگار کے ان فرشتوں کے بعد کے واقعہ کو، کہ وہ لوط کے پاس آ ئے ، اورمہمانوں کے عنوان سے وارد ہوئے ، اوروہ بے شرم قوم، اس خیال سے کہ وہ نوع بشر کے خوبصورت جوان میں ہیں ،ان کی طرف آئی لیکن بہت جلدان کواپنی غلطی کااحساس ہوگیا، اوران سب کی آنکھیں اندھی ہوگئیں، چھوڑ دیاہے،اورخدا کی گفتگو کے آخری حصہ کوبیان کرتاہے( ٤) ۔
فرماتاہے، ہم نے ان تمام مؤ منین کوجوقوم لوط کے شہروں میں رہتے تھے ،بلاکے نازل ہونے سے پہلے ہی نکادیا(فَأَخْرَجْنا مَنْ کانَ فیہا مِنَ الْمُؤْمِنینَ ) ۔
لیکن ان تمام علاقوں میں ہمیں ایک گھرانے کے سوااور کوئی صاحب ایمان نہ ملا (فَما وَجَدْنا فیہا غَیْرَ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمینَ) ۔
ہاں !ہم ہرگز خشک وتر کوملاکرنہیں جلاتے ، اورہماری عدالت اجازت نہیں دیتی کہ مومن کوکافر کی سزامیں گرفتار کریں یہاں تک کہ اگر لکھوکھابے ایمان اور مجر م لوگوں میں ایک فرد بھی باایمان اور پاک ہوتو ہم اسے بھی نجات دیتے ہیں ۔
یہ وہی مطلب ہے جو سورئہ حجر کی آ یت ٥٩،٦٠ میں اس صورت میں آ یاہے ۔: ِلاَّ آلَ لُوطٍ ِنَّا لَمُنَجُّوہُمْ أَجْمَعینَ،ِلاَّ امْرَأَتَہُ قَدَّرْنا ِنَّہا لَمِنَ الْغابِرینَ مگرلوط کاخاندان کہ ہم ان سب کونجات دیں گے سوائے اس کی بیوی کے ، جس کے لیے ہم نے یہ مقدر کردیاتھاکہ وہ شہر میں رہے اور ہلاک ہوجائے ۔
اورسورئہ ہود کی آ یت ٨١ میں آ یاہے فَأَسْرِ بِأَہْلِکَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّیْلِ وَ لا یَلْتَفِتْ مِنْکُمْ أَحَد ِلاَّ امْرَأَتَکَ ِنَّہُ مُصیبُہا ما أَصابَہُمْ رات کے وقت اپنے گھروالوں کے ساتھ روانہ ہوجا، اور تم میں سے کوئی بھی اپنے پیچھے کی طرف مڑ کر نہ دیکھے ،سوائے تیری بیوی کے کہ وہ بھی اسی عذاب میں جس میں وہ گرفتار ہوں گے، گرفتار ہوگی ۔
اور سورئہ عنکبوت کی آ یت ٢٣ میں یہی واقعہ اس صورت میں بیان کیاگیاہے:
قالَ ِنَّ فیہا لُوطاً قالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَنْ فیہا لَنُنَجِّیَنَّہُ وَ أَہْلَہُ ِلاَّ امْرَأَتَہُ کانَتْ مِنَ الْغابِرینَ ابراہیم نے کہا: اس شہرو اور آبادی میں تم جسے نابود کرنے کا ( تم اے فرشتوں!)ارادہ رکھتے ہو ،لوط بھی رہتاہے ، انہوں نے کہا، : ہم نے انیکو ں سے جواس میں ہیں بخوبی آ گاہ ہیں ، ہم اس کو اوراس کے گھروالوں کوتو نجات عطاکریں گے ،مگر اس کی بیوی شہر کے لوگوں کے درمیان ہی رہ جائے گی ۔
پھر یہی موضوع سورئہ اعراف کی آ یت ٨٣ میں اس طرح بیان ہوا ہے : فَأَنْجَیْناہُ وَ أَہْلَہُ ِلاَّ امْرَأَتَہُ کانَتْ مِنَ الْغابِرینَ ہم نے اسے اوراس کے گھر والوں کونجات بخشی، مگراس کی بیوی جوشہر میں رہ جانے والوں میں سے تھی (اور نہی کے انجام کوپہنچی) ۔
جیساکہ آپ ملاحظہ کررہے ہیں، قوم لوط کے ماجرے کایہ حصہ قرآن کی ان پانچ سورتوں میں مختلف عبارتوں میں بیان ہواہے ،جوسب کے سب ایک ہی حقیقت کوبیان کر تے ہیں ،لیکن چونکہ ایک حادثہ کومختلف زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے اور ہر نگاہ میں اس کے کسی ایک پہلو کومشاہدہ کیاجاسکتاہے، اس لیے قرآن مجید میں بھی تاریخی حوادث عام طورپر اسی طرح پیش ہوئے ہیں، اور دہرائے گئے ہیں، اور اوپر والی آیات کی مختلف تعبیربھی اسی معنی کی گواہ ہیں،علاوہ ازیں چونکہ قرآن ایک تر بیتی اورانسان سازی کی کتاب ہے ،اور مقام تربیت گاہ میں ضروری ہے کہ ایک اہم مسئلہ پر بار ہا تامل کیاجائے تاکہ پڑھنے والوں کے ذہن میں گہرا اثر چھوڑے ، البتہ ضروری ہے کہ یہ تکرار عمدہ ،دلنشین اور گوناں گوں تعبیروں کے ساتھ صورت پذیر ہو، تا کہ دل کوملا ل حاصل نہ ہو اور فصیح وبلیغ ہو، (ابراہیم کے مہمانوں کے واقعہ اورابراہیم کی اُن سے گفتگو، اور پھرقوم لوط کے دردناک اور عبرت انگیز انجام ، کی مزید وضاحت کے لیے ، تفسیرنمونہ جلد ٦ ،صفحہ ٢١٢ سے آگے اور جلد ٩صفحہ ١٨٣ اور جلد ١١ صفحہ ١٠٣ اورجلد ١٦ صفحہ ٢٢٤ سورئہ اعراف ، ہود ،حجراور عنکبوت کی آ یات کے ذیل میں رجوع فرمائیں) ۔
بہرحال خدا وند عالم نے اس آ لودہ قوم کوزمین کے ایک سخت اور ویران کرنے والے زلزلہ سے تہ و بالا کردیا، اس کے بعد آسمانی پتھروں کی بارش برسائی اور ان کا نام ونشان مٹادیا،یہاں تک کہ ان کے پلید بدن بھی آسمانی گردو غبار اورپتھروں کے نیچے دفن ہوگئے ، تاکہ وہ آئندہ آنے والوں ،اور تمام بے ایمان مجرم اورآلودہ افراد کے لیے ، ایک عبرت ہوں ۔
اسی لیے آخری زیربحث آ یت میں مزید کہتاہے: ہم نے ان لوگوں کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈر تے ہیں، اس سرزمین میں ایک واضح نشانی رکھ چھوڑی ہے (وَ تَرَکْنا فیہا آیَةً لِلَّذینَ یَخافُونَ الْعَذابَ الْأَلیم) ۔
یہ تعبیر اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان آیات اور خدا کی نشانیوں سے وہی لوگ پند ونصیحت حاصل کرتے ہیں،جن میں قبول کرنے کے لیے آمادگی ہو، اورجو مسؤ لیت اور ذمہ داری کااحساس کریں ۔
١۔توجہ رکھنی چاہیئے ، کہ "" خطب"" ہرقسم کے کام کونہیں کہتے ، بلکہ یہ اہم کاموں کے معنی میں ہے ،جبکہ شغل ،امر، فعل اوراس قسم کے الفاظ ایک عام مفہوم رکھتے ہیں ۔
٢۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورۂ ہود میں ااس واقعہ کوذکر کرتے وقت کہتا ہے :""انا ارسلنا الیٰ قوم لُوط """" ہم قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں""تعبیر کایہ فرق جوزیربحث آ یات اور سُورئہ ہود کی آ یت کے درمیان ہے، اس بناء پر ہے کہ ان سے ہرایک واقعہ کے ایک حصّہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، دوسرے لفظوں میںیہ تمام مسائل واقع ہُوئے ہیں البتہ ان میں سے بعض زیربحث آ یات کے ضمن میں آ ئے ہیں اوربعض دوسری سورتوں میں ہیں ۔
٣۔تفسیرنمونہ کی جلد ٩ صفحہ ١٨٣ کی طرف رجوع کریں (سورئہ ہودکی آ یت ٨١ کے ذیل میں) ۔
٤۔یہ نکتہ قابلِ توجہ ہے کہ یہ ماجرا سورئہ ہودکی آ یت میں نقل ہوا ہے، لیکن اس کی تعبیریں اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں ، کہ ابراہیم سے ان فرشتوں کی ملاقات قوم لوط کے عذاب سے سے پہلے تھی، جب کہ زیربحث آ یت آ یات میں کچھ تعبیریں یہ بتاتی ہیں کہ یہ ملاقات بعد میں ہوئی ، اس مسئلہ کے حل کاراستہ یہ ہے کہ "" مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُسْرِفینَ"" تک فرشتوں کی گفتگو ہے ،اور بعد کی تین آ یات جواوپرذکر ہوچکی ہیں، خدا کاکلام ہے ،اوراس کے مخاطب پیغمبراسلام اور مسلمان ہوں ، اور وہ اسے ایک واقعہ کے عنوان سے جوگزشتہ ز مانہ میں صورت پذیر ہوا بیان کررہاہے ۔(غورکیجئے)
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma