٣۔حق تعالیٰ کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے آمادگی ضروری ہے۔

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
جس وقت قرآن کی آ یات ،عالم ہستی میں خدا کی نشانیوں اوراسرار آفرینش کے متعلق گفتگو کرتی ہیں، تو کبھی فر ماتاہے: یہ ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جوکان دھر کے سنتے ہیں ( لِقَوْمٍ یَسْمَعُون)(یونس ۔٦٧) ۔
کبھی کہتاہے : ان لوگوں کے لیے جوغور وفکر کرتے ہیں (لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ)(رعد۔٣) ۔
کبھی فر ماتاہے : ان لوگوں کے لیے جو تعقل کرتے ہیں ( لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ)(رعد۔٤) ۔
کبھی کہتا ہے : ان لوگوں کے لیے جوبہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شکر گزار ہیں (لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ)(ابراہیم ۔ ٥) ۔
کبھی کہتاہے :ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں ( لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) (نحل ۔ ٧٩) ۔
کبھی کہتاہے : صاحبان دماغ کے لیے نشانیاں ہیں ( لَآیاتٍ لِأُولِی النُّہی )(طٰہٰ۔٥٤) ۔
کبھی فرماتاہے:جوہوش میں سرشار ہیں (لَآیاتٍ لِلْمُتَوَسِّمینَ) (حجر۔٧٥) ۔
اوربالا آ خر کبھی یہ کہتاہے ! صاحبان ِ علم کے لیے نشانیاں ہیں(لَآیاتٍ لِلْعالِمین) (روم ۔٢٢) ۔
زیربحث آ یات میں کہتاہے کیاتم دیکھتے نہیں ؟کہ خدا کی آیتیں، زمین میں اور تمہارے وجود کے اندر، ان لوگوں کے لئے جوچشم بینا رکھتے ہیں، واضح وآشکار ہیں ۔
یہ سب تعبیریں اچھی طرح سے اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بے شمار آ یات اور بہت سی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے جواس کے وجود پاک کے لیے ، ساریعالم آفر ینش میں موجودہیں، ایک آمادہ زمین کی ضرورت ہے ، ایک بنیاآنکھ ، ایک سننے والا کان ، ایک بیدار فکر اورایک باہوش دل ، اورایک ایسی روح جوحقائق کی پیاسی اوراُسے قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوا ضروری ہے، ورنہ ممکن ہے کہ انسان سالہاسال ان آ یات کے درمیان زندگی بسرکرتارہے، لیکن جانوروں کی طرح اصطبل اور گھاس کے علاوہ کسی چیز کونہ پہچانے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma