۔"" خدا"" اور ""خلقِ خدا""کی طرف توجہ

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

ان آ یات میں متقین اور محسین کے جواد صاف کیے گئے ہیں ،حقیقت میں ان کادوحصّوں میںخلاصہ کیا جاسکتاہے، خالق کی طرف توجہ وہ بھی ایسے لمحات میں جوہر لحاظ سے اس کے ساتھ راز دو نیاز اورحضورقلب کے لیے فراہم ہیں اور فکری مشغولیت کے عوامل ، اورذہنی مصر وفیات کم سے کم ہوتے ہیں، یعنی رات کے آخری حصّوں میں ۔
اور دوسرے حاجت مندوں کی حاجات کی طرف توجہ، چاہے وہ اپنی حاجت کوظاہر کریں یاپوشیدہ رکھیں ۔
یہی وہ مطلب ہے جس کے لیے قرآن کی آ یات میں بار ہانصیحت ووصیّت کی گئی ہے ، اوروہ آ یات جونمازوزکوٰة کویکے بعد دیگر ے بیان کرتی ہیں اوران دونوں پر تکیہ کرتی ہیں،ان میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ نمازخالق کے ساتھ تعلق کا، نمایا ں ترین مظہر ہے ، اور زکوٰة مخلوقِ خدا کے ساتھ تعلق کی واضح ترین راہ ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma