حروفِ قرآن پر اعراب لگانے کی ابتداء

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
ایک حدیث میں آ یاہے کہصعصہ بن صوحان جوامام علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے کہتے ہیں : ایک عرب امام علی علیہ السلام کی خدمت میں آ یا اور آیت لا یَأْکُلُہُ ِلاَّ الْخاطِؤُنَ کے بارے میں سوال کیا اوراس نے خاطئون یعنی خطا کاروں کی بجائے خاطون (جوقوم اٹھانے والوں کے معنی میں ہے ) پڑ ھا اور پوچھا کہ قدم توسب ہی لوگ اُٹھاتے ہیں ،توکیا خداان سب ہی کویہ غذا دے گا ؟
امام نے تبسّم فرمایا: کہا: اے مرد عرب ! اس آیت کے صحیح الفاظ لایَأْکُلُہُ اِلاَّ الْخاطِؤُنَ ہیں اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین علیہ السلام !آپ نے سچ فرمایا ہے ، خداکسِی بے خطا بندے کوعذاب کے سپُرد نہیں کرے گا .اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے ابو الا سود کی طرف جو ایک ادیب شخص تھا رُخ کیااور فرمایا : اس وقت عربی زبان سے بیگانہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے ہیں .ایساکام کرو کہ وہ اپنی زبان کی اصلاح کرسکیں .اس حکم کے بعد ابوالاسود نے الفاظِ قرآن پرنصب او کسر (زبر،زیر ،پیش) کی علامت لگائی ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma