اے پکڑ کر زنجیر وں میں جکڑدو

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
گذ شتہ آ یات کوجاری رکھتے ہُوئے جواصحاب ِ شمال کے بارے میں گفتگو کررہی تھیں کہ ان کانامہ ٔاعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گا،ان کے آہ و نالہ کی فریاد بلند ہوگی اوروہ موت کی آرزو کریں گے .زیر بحث آ یات میں ان کے عذاب کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے : اس وقت خدا عذاب کے فرشتوں کوحکم دیاجائے گا : اسے پکڑ لواور طوق وزنجیر میںجکڑ دو (خُذُوہُ فَغُلُّوہُ ) ۔
غلّوہ ،غل کے مادہ سے ،جیساکہ ہم نے پہلے بھی کہاہے ،ایسی زنجیر کوکہتے ہیں جس کے ذ ریعہ بعض اوقات مجرموں کے ہاتھ پائوں ان کی گر دن کے ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں اوروہ بہت ہی تکلیف دِہ ہوتی ہے ۔
اس کے بعد کہاجائے گا: اس کو جہنم کی آگ میں داخل کردو(ثُمَّ الْجَحیمَ صَلُّوہُ ) ۔
پھر اسے اتنی لمبی زنجیر میںجکڑ دو جوستّر ہاتھ ہے (ثُمَّ فی سِلْسِلَةٍ ذَرْعُہا سَبْعُونَ ذِراعاً فَاسْلُکُوہُ ) ۔
سلسلہ زنجیر کے معنی مین ہے اوراصل میں تسلسل کے مادّہ سے لیاگیاہے جوہلنے اور لرزنے کے معنی میں ہے کیونکہ زنجیر کے حلقے اورکڑ یاں لرزتی اورہلتی رہتی ہیں ۔
ستر ہاتھ کی تعبیر ممکن ہے تکثیر کے عنوان سے ہو ، کیونکہ ستّر کاعدد ایسے اعداد میں سے ہے جوعام طورپر کثرت کے لیے استعمال ہوتاہے ، یہ بھی ممکن ہے کہ ستر کا عدد ہی مُراد ہو ، بہرحال اس قسم کی زنجیر کومجرموں کے گرداس طرح لپیٹ دیں گے کہ وہ انہیں سرسے لے کرپائوں تک گھیر لے گی ۔
بعض مفسّرین نے کہاہے کہ یہ طولانی زنجیر یں ایک ہی شخص کے لیے نہیں ہوں گی ، بلکہ ہر گروہ کوایک زنجیر میں باندھیں گے . گذ شتہ آ یات میں غل و زنجیر کے ذکر کے بعداس سزا کا ذکر اسی معنی کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتاہے ۔
ذ راع کہنی سے لے کر اُنگلیوں کی نوک تک کے فاصلہ کے معنی میں ہے ( جو تقریباً آدھا میڑ ہوتاہے )اوریہ عر بوں کے نزدیک ایک ہی طول تھاجو ایک طبیعی پیمانہ ہے لیکن بعض نے کہاہے کہ یہ عام ذ راع سے مختلف ہے .اِس طرح کہ اس کی ایک ذ راع بہت زیادہ فاصلوں کوگھیر لیتی ہے اور سارے کے سارے دوزخیوں کواسی ایک زنجیر کے ساتھ باندھ دیں گے ۔
ہم پھر کہتے ہیں کہ قیامت سے مربُوط مسائل کوہم دُنیا کے رہنے والوں کی زبان میں پُورے طور پر بیان نہیں کیاجاسکتاہے .جوکچھ آیات و روایا ت میں آ یاہے وہ صرف اس کی ایک شبح(سایہ یاہیولےٰ)کی تصویرکشی کرتاہے ۔
اِس آیت میں ثم کی تعبیر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہونے کے بعد ستّر ذ راع کی زنجیر میںجکڑ ے جائیں گے اوریہ ان کے لیے ایک نئی سزا ہوگی .یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تمام انفرادی اور اجتماعی زنجیریں جہنم میں وارد ہونے سے پہلے ہوں گی اور ثم اصطلاح کے مطابق ذکر میں تاخیر کے لیے ہے ۔
بعد کی دو آ یات میں اس سخت وشدید عذاب کی اصلی علّت بیان کرتے ہوئے فرماتاہے : کیونکہ وہ خدائے عظیم پرایمان نہ لانے پرمصر تھا نَّہُ کانَ لا یُؤْمِنُ بِاللَّہِ الْعَظیمِ) ۔
انبیاء و اولیاء اورپر وردگار کے رسول اسے جس قدر خدا کی طرف دعوت دیتے تھے وہ اسی قدر انکار کرتا اورقبول نہیں کرتا تھا.اس طرح اپنے خالق سے اس کارشتہ کلّی طورپر منقطع ہوگیاتھا ۔
اوروہ لوگوں کو، مساکین کوکھانا کھلا نے کی تشویق نہیں کرتاتھا (وَلا یَحُضُّ عَلی طَعامِ الْمِسْکین) ۔
اِس طرح سے اس نے مخلوق سے بھی اپنا رشتہ توڑا ہُوا تھا ۔
اِس تعبیر سے اچھی طر ح معلوم ہوجاتاہے کہ عمدہ اطاعتوں ، عبادتوں اورشرعی احکام کوانہیں دواعمال خلاصہ کیاجاسکتا ہے .نیز اطعام مساکین کاایمان پرعطف ،اِس عظیم انسانی عمل کی حد سے زیادہ ا ہمیّت کی طرف اشارہ ہے اورواقعاً ایساہی ہے ،کیونکہ بعض کے قول کے مطابق بدترین عقیدہ کفرہے اور رذائل اخلاقی میں سے بدترین بخل ہے ۔
قابلِ توجّہ بات ہے کہ یہ نہیں کہتا : وہ کھانا نہیں کھلا تاتھا بلکہ یہ کہتاہے کہ دوسروں کوکھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتاتھا ..یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے :
اوّل:صرف ایک شخص کاکھانا کھانافقراء ومساکین کوحل نہیں کرسکتا .لہٰذا دوسروں کی بھی اس کارِ خیر کی دعوت دیناچاہیے تاکہ وہ عمو میّت کاپہلو اختیار کرلے ۔
ثانیاً : ممکن ہے کہ انسا ن شخصی طورپر کھانا کھلانے کی توانائی اورقدرت نہ رکھتاہو لیکن ہرشخص دوسروں کوترغیب دلانے کی قدرت تورکھتاہے ۔
ثالثاً : بخیل افراد اس قسم کے ہوتے ہیں جونہ صرف خود عطا اور بخشش نہیں کرتے بلکہ دوسروں کی عطا ء اوربخشش بھی کوئی تعلّق نہیں رکھتے ۔
بعض قدماء سے نقل ہُوا ہے جواپنی بیوی کویہ حکم دیاکرتے تھے کہ وہ کھانا زیادہ پکایاکرے تاکہ وہ فقراء ومساکین کوبھی دے سکیں. اِس کے بعد یہ کہاکرتے :
اس زنجیر کاآدھا حصّہ خداپرایمان لانے کی وجہ سے ہم نے باہر نکال دیاہے اواس کا دوسراآ دھا حصّہ کھانا کھلوا کر باہر نکالتے ہیں (١) ۔
اِس کے بعد مزید کہتاہے : چونکہ اس کاکوئی عقیدہ وعمل ایساتھا ، لہٰذاآج یہاں اس کاکوئی مہربان اور مددگار نہیں ہے (فَلَیْسَ لَہُ الْیَوْمَ ہاہُنا حَمیم) ۔
اور نہ ہی پیپ اورخون کے علاوہ اس کے لیے یہاں کوئی اورکھانا ہے (وَ لا طَعام ِلاَّ مِنْ غِسْلینٍ) ۔
قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ ان کی جزا اور عمل کامل طورپر ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں . خالق سے رشتہ توڑنے کی وجہ سے وہاں ان کاکوئی گرم جوش اور گہرا دوست نہیں ہوگا .نیز فقراء اور مساکین کو کھانا نہ کھلو انے کی وجہ سے ،پیپ اورخون کے سوا اور کوئی کھانے کی چیزان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی ، کیونکہ وہ سالہا سال تک لذیذ ترین کھانے کھاتے رہے تھے جبکہ بے نو ا اور بے کس لوگوں کے پاس خونِ دل کے سوااور کوئی کھانانہیں تھا ۔
راغب مفردات میں کہتاہے کہ غسلین اس پانی کے معنی میں ہے جوکفّار کے بدن کو دھونے سے جہنم میں گرے گا .لیکن مشہور یہ ہے کہ اس سے مُراد وہ پیپ اورخون ہے جو دو زخیوں کے بدن سے گر ے گی ، شاید راغب کی مراد بھی یہی ہواور طعام کوتعبیر بھی اسی معنی کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ۔
یہاں ایک سوال سامنے آ تاہے کہ سورہ غاثیہ کی آ یت ٦ میں آ یاہے : لیس لھم طعام الّامن ضریع:اور ان کاکھانا ضریع کے علاوہ اورکچھ نہیں ہوگا اور ضریع کی تفسیر ایک قسم کے کانٹے سے کی ہے . سورہ دخان کی آ یت ٤٣ ، ٤٤میں آ یاہے : ان شجرت الزقوم طعام الاثیم : درخت زقوم گنہگاروں کا کھانا ہے اور زقوم کی ایک کڑوے بدبُو دار اور بد ذائقہ نبات کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے ،جس کا نمونہ سرزمین تہامہ میں اگا کرتاتھا جوتلخ اورجلانے والا شیرہ رکھتاتھا .پس ان آیات اور زیربحث آ یت کوکیسے جمع کیاجاسکتاہے ؟
اِس سوال کے جواب میں بعض نے تویہ کہاہے : یہ تینوں الفاظ ضریع زقو م غسلین ایک ہی چیز کی طرف اشارہ ہیں ( او روہ ایک سخت اور ناگوار نبات ہے جواہل دوزخ کی غذاہے ) ۔
بعض دوسروں نے یہ کہاہے : دوزخیوں کے مختلف طبقات ہیں، ان تینوں چیزوں میں سے ایک ایک چیز ایک گروہ کی غذا ہے ۔
بعض نے یہ کہاہے کہ ان کی غذا تو زقوم وضریع پینے کے لیے غسلین ہے اور مشروب کے بارے میں طعام کی تعبیر نئی نہیں ہے ۔
آخر ی زیربحث آ یت میں تاکید کے لیے مز ید کہتاہے : اس غذ ا کو خطا کاروں کے سوا اورکوئی نہیں کھائے گا (لا یَأْکُلُہُ ِلاَّ الْخاطِؤُنَ) ۔
بعض مفسّر ین نے کہاہے کہ خاطی اس شخص کوکہاجاتاہے جوجان بوجھ کرغلط کام کرے ،لیکن مخطی عمداً خطا کرنے والے اور سہواً خطا کرنے والے کوبھی کہاجاتا ہے ... اِس بناء پر دوزخ کی یہ غذا ان لوگوں کے لیے مخصُوص ہے جوجانتے بوجھتے عمداً طغیان وسرکش کے عنوان سے شرک وکفر اور بخل کی راہ پر چلتے ہیں ۔
١۔ رُوح المعانی ،جلد ٢٩ ،صفحہ ٥١۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma