مُکمّل بُاز پُرس

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی روش اور طریقہ یہ ہے کہ کہ بُروں اوراچھوں کے حالاتِ زندگی کوایک دوسرے کے مقابل لاتاہے تاکہ ایک دُوسرے کے ساتھ موازنہ میں بہتر طورپر پہچانے جائیں . یہ طریقہ ٔتر بیّتی لحاظ سے بہُت ہی مُوثّر ہے ۔
اسی روش کے مُطابق اصحاب الجنّة (سر سبز وشاداب باغ والوں )دردناک سر نوشت کے ذ کرکے بعد ،جو گزشتہ آ یات میں گزری ہے ،پرہیزگاروں کاحال بیان کرتے ہُوئے کہتاہے : پرہیزگاروں کے لیے ان کے پاس جنّت کے پُر نعمت باغ ہیں نَّ لِلْمُتَّقینَ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنَّاتِ النَّعیمِ)۔
جنّت کے ایسے باغات جِن میں ہروہ نعمت جس کا تصوّر کیاجائے ،اس کی کامل ترین نوع موجُودہے .اِس کے علاوہ وہ نعمتیں بھی ہوں گی جو کسی انسان کے خواب وخیال میں بھی نہ آ ئی ہوں گی ۔
چونکہ مشرکین اور ثر وت مند کی ایک جما عت خود خواہ تھی ، جِن کا د عوٰی یہ تھاکہ جس طرح دنیا میں ہمار ی حالت بہتر اور اعلیٰ ہے اسی طرح قیامت میں بھی بہت اچھّی ہوگی . خدانے بعد والی آ یت میں ان کاشدّت کے ساتھ مؤ اخذہ کیاہے فرماتاہے : کیاہم مومنین کوجو حق و عدالت کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہیں ، مشرکین اور مجرمین کی مانند قرا ردین گے (أَ فَنَجْعَلُ الْمُسْلِمینَ کَالْمُجْرِمینَ )۔
تمہیں کیاہوگیا ہے ؟ یہ تم کِس طرح کے فیصلے کرتے ہو ؟ (ما لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ)۔
کیاکوئی عقلمند انسان یہ باور کرلے گا کہ عادل وظالم ، مطیع ومجرم ، ایثار گر اور انحصار طلب کی سرنوشت ایک جیسی ہوگی ؟وہ بھی اس خدا کی بارگاہ میں جس کے سارے کام جچے تلے اورحکیمانہ نظام کے ماتحت ہوتے ہیں ۔
سورۂ حم سجدہ کی ( آ یت ٥٠)میں بھی اسی قسم کے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے فرماتاہے :(وَ لَئِنْ أَذَقْناہُ رَحْمَةً مِنَّا مِنْ بَعْدِ ضَرَّاء َ مَسَّتْہُ لَیَقُولَنَّ ہذا لی وَ ما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً وَ لَئِنْ رُجِعْتُ ِلی رَبِّی ِنَّ لی عِنْدَہُ لَلْحُسْنی)۔
جب ہم اسے اپنی طرف سے تکلیف وپریشانی کے بعد رحمت کامزہ چکھاتے ہیں تووہ کہتاہے : یہ میری شا ئستگی اوراستحقاق کی بناء پر تھا اورمیں گمان نہیں کرتا کہ کوئی قیامت برپاہوگی .اگربالفرض قیامت ہُوئی بھی توجس وقت اپنے پر وردگار کے پاس لوٹوں گا تومیر ے لیے اس کے پاس اچھے اجر بدلے ہی ہوں گے .ہاں یہ خود پسند اورمغر ور گر وہ دُنیا و آخرت کواپنے لیے ہی مخصوص سمجھتاہے ۔
اِس کے بعد مزید کہتاہے : اگرعقل وخرد نے اس قسم کے حکم میں تمہاری رہنمائی کی ہے توکیااس پرکوئی نقلی دلیل تمہارے پاس ہے ؟کیاتمہارے پاس کوئی کتاب ہے کہ جس سے تم درس لیتے ہو ؟(أَمْ لَکُمْ کِتاب فیہِ تَدْرُسُونَ )۔
کہ جیسے تم انتخاب کرتے ہو اوراس کی طرف میلان رکھتے ہووہ تمہارے لیے مخصوص ہے نَّ لَکُمْ فیہِ لَما تَخَیَّرُونَ)(١)۔
تم یہ تو قع رکھتے ہو کہ تم جیسے مجرم بھی مسلمانوں کے ہم پلّہ ہوجائیں گے . یہ توایک ایسی بات ہے کہ کا نہ عقل حکم کرتی ہے اور نہ ہی کسِی معتبر کتاب میں آ ئی ہے ۔
بعد والی آ یت میںبات کو اس طرح جاری رکھے ہوئے ہے :
اگر تمہارے پاس عقل و نقل سے کوئی مدرک اپنے دعوے کے لیے نہیں ہے توکیا تم کوئی تاکید ی عہدو پیمان ہم سے لے لیاہے جو قیامت تک بر قرار رہے گاکہ تم جوکچھ بھی اپنے نفع میںفیصلہ کرلو ، اسے وہ تمہارے لیے قرار دے دے گا (أَمْ لَکُمْ أَیْمان عَلَیْنا بالِغَة ِلی یَوْمِ الْقِیامَةِ ِنَّ لَکُمْ لَما تَحْکُمُونَ )۔
کون شخص یہ دعوٰی کرسکتا ہے کہ اس نے خدا سے یہ عہد و پیمان لے لیاہے کہ وہ جو چاہیں گے خدااسے تسلیم کرلے گا ، جومقام و منصب وہ چاہیں گے وہ بے چون وچراان کو دے دے گا؟ یہاں تک کہ مجرمین مسلمانوں کے ہم پلّہ ہوجائیں ( ٢)۔
پھر انہیں سوالات کوجاری رکھتے ہُوئے .جوہر طرف سے ان پر راستوں کو بند کررہے ہیں مزید کہتاہے : ان سے پوچھ لیجئے کہ ان میں سے کون اس بات کاضامن ہے کہ مجرمین اور مومنین برابر ہیں یا جوکچھ وہ چاہتے ہیں خدا ان کے اختیار میں دے دے گا (سَلْہُمْ أَیُّہُمْ بِذلِکَ زَعیم)۔
ّّآخر ی مرحلہ میں ان سے ایک عجیب سوال کرتے ہُوئے فرماتاہے :یاان کے ایسے معبُود ہیں جوخدا کے ہاںان کی شفاعت وحمایت کریں گے .اگروہ سچ کہتے ہیں توان کوسامنے لائیں اوران کا تعارف کرائیں (أَمْ لَہُمْ شُرَکاء ُ فَلْیَأْتُوا بِشُرَکائِہِمْ ِنْ کانُوا صادِقینَ)۔
کیاان کے پاس کوئی معمولی سے معمولی دلیل ہے کہ یہ بے قد رو قیمت اور بے شعور جمادات خدا کے شریک ہیں اوراس کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہیں ۔
بعض مفسّرین نے یہاں شرکاء کوشہداء ( گواہوں)کے معنی میںلیاہے ۔
اِس طرح اوپر والی آ یات اوپر کے مجموعہ سے نکیجائی طورپر یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ انہیںاپنے مدّ عا کوثابت کرنے کے لیے ،کہ وہ مومنین کے ہم پلّہ بلکہ ان سے افضل وبر تر ہیں ، چار میں سے کسِی ایک وسیلہ کے ساتھ متمسک ہونا پڑے گا .یاعقل سے کوئی دلیل یاآسمانی کتابوںمیں سے کوئی کتاب ،یاخدا کی طرف سے کوئی عہدو پیمان، یاشفاعت کرنے والوں کی شفاعت اور گواہوں کی گواہی .چونکہ ان تمام سوالات کاجواب نفی میں ہے ،اس بناء پر مذ کورہ دعویٰ کلّی طورپر بے بنیاد اور بے قدر و قیمت ہے۔
١۔ "" ان لکم ""کاجملہ "" تدر سون "" کامفعول ہے . قاعدہ کی رو سے ان کوہمزہ کی زبر کے ساتھ پڑ ھا جاناچاہیے ،لیکن لام کی مناسبت سے جو "" ان "" کے اسم کے اوپر آ ئی ہے "" ان "" زیر کے ساتھ پڑھاجاتاہے ،کیونکہ فعل عمل کرنے سے متعلّق ہوجاتاہے ۔
٢۔"" بالغة "" کے لفظ کی تفسیر مؤ کدّ کے معنی میں اور بعض نے جاری ومسلسل کے معنی میں کی ہے .لیکن دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے اس بناء پر ( الیٰ یوم القیامة )کاجارو مجر ور اس کے متعلق ہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma