سوره قلم/ آیه 17- 25

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24

١٧۔ ِنَّا بَلَوْناہُمْ کَما بَلَوْنا أَصْحابَ الْجَنَّةِ ِذْ أَقْسَمُوا لَیَصْرِمُنَّہا مُصْبِحینَ ۔
١٨۔وَ لا یَسْتَثْنُونَ ۔
١٩۔فَطافَ عَلَیْہا طائِف مِنْ رَبِّکَ وَ ہُمْ نائِمُونَ ۔
٢٠۔فَأَصْبَحَتْ کَالصَّریمِ ۔
٢١۔فَتَنادَوْا مُصْبِحینَ ۔
٢٢۔ أَنِ اغْدُوا عَلی حَرْثِکُمْ ِنْ کُنْتُمْ صارِمینَ ۔
٢٣۔فَانْطَلَقُوا وَ ہُمْ یَتَخافَتُونَ ۔
٢٤۔أَنْ لا یَدْخُلَنَّہَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِسْکین ۔
٢٥۔وَ غَدَوْا عَلی حَرْدٍ قادِرینَ ۔

ترجمہ

١٧۔ ہم نے انہیں آزمایا جیساکہ ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کوصبح کے وقت ( حاجتمندوں کی نگا ہوں سے بچا دکر ) چُنیں گے ۔
١٨۔ اوراس میں کسِی چیزکا استثناء نہ کریں گے ۔
١٩۔ لیکن ان کے سارے باغ پر ( راتوں رات ) ایک گھیر لینے والا عذاب نازل ہوگیا ۔
٢٠۔ اوروہ ہرا بھرا باغ تاریک رات کی مانند ہوگیا ۔
٢١۔ صبح کے وقت انہوں نے ایک دوسرے کوصدا دی ۔
٢٢ ۔ اگرتمہارا ارادہ پھلوں کوتوڑنے کاہوتواپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو ۔
٢٣۔ وہ چل پڑے اورایک دُوسرے سے آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے ۔
٢٤۔ اس بات کاخیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمہارے پاس نہ آ ئے پائے ۔
٢٥۔ انہوں نے صبح کے وقت یہ مصمّم ارادہ کرلیا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جاحت مندوں کو روکیں گے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma