تلاوت کی فضیلت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
اس سورہ کی فضیلت میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے بہُت سی روایات نقل ہُو ئی ہیں :
منجملہ ان کے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ یا ہے :
من قرأ سورة تبارک فکأ نما احیا لیلة القدر ۔
جوشخص سورة تبارک کوپڑھے توایساہے جیساکہ اُس نے شبِ قدر بیداررہ کرعبادت میں بسر کی ہو (1) ۔
ایک اورحدیث میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ یاہے :
وددت ان تبارک الملک فی قلب کل مؤ من ۔
میں دوست رکھتاہوں کہ سورہ تبارک تمام مومنین کے دل میں ثبت ہوجائے ( 2) ۔
ایک حدیث میں امام محمد بن علی الباقر علیہ السلام سے آ یاہے کہ آپ نے فرمایا:
سورة الملک ھی الما نعة تمنع من عذاب القبر وھی مکتوبة فی التو راة سورة الملک ومن قرأ ھا فی لیلة فقد اکثر ، واطاب ولم یکتب من الغافلین ۔
سورہ مُلک سورہ مانعہ ہے ، یعنی عذابِ قبرسے بچاتی ہے اورتوارت میں اسی نام کے ساتھ لکھّی ہُوئی ہے .جوشخص اِس کورات کے وقت پڑھے تواس نے بہت کچھ پڑھا اور خوب پڑھا ... وہ غافلین میں شمار نہیں ہوگا ( 3) ۔
اس سلسلہ میں احادیث بہت زیادہ میں ۔
البتّہ یہ سب عظیم آثار فکرو عمل کے بغیر پڑھنے سے مربُوط نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد ایسا پڑھنا ہے جس میں عمل کے لیے ہدایت ہو ۔
1۔ مجمع البیان ،جلد ١٠ ،صفحہ ٣٢٠۔
2۔ مجمع البیان ،جلد ١٠ ،صفحہ ٣٢٠۔
3۔ مجمع البیان ،جلد ١٠ ،صفحہ ٣٢٠۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma