سورہ ٔ مُلک کے مضامین

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
یہ سورہ جوقرآن مجیدکے بارہ ٢٩ کی ابتداء ہے ان سوروں میں ہے جومشہور قول کے مطابق سارے کے سارے مکّہ میں نازل ہُوا ئے ، جیساکہ اس پارہ کی زیادہ ترسورتوں مکّی ہی ہیں . بلکہ مفسّرین کے قول کے مطابق تواس پارے کی تمام سُورتیں مکّی ہیں ، (١) گزشتہ پارہ کی سُورتوں کے برعکس کہ جومدنی تھیں .لیکن جیساکہ ہم بیان کریں گے کہ سورہ دہر ( یاسورة انسان ) اس قاعدہ سے مستثنٰی ہے اوروہ مدینہ میں نازل ہُوئی ہے ۔
سورة مُلک جس کادوسرا نام مُنجیّہ (نجات بخشنے والی ) اور تیسرا نام ، واقیہ یا مانعہ ہے ( کیونکہ وہ اپنے تلا وت کرنے والے کو عذابِ الہٰی یاعذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے ) قرآن کی بہت ہی بافضیلت سورتوں میں سے ہے اس میں بہت سے مسائل پیش ہوئے ہیں جوزیادہ ترتین محوروں کے گرد گردش کرتے ہیں :
١: مبدأ ،خدا کی صفات ، خلقت کاشگفت انگیز نظام ،خصوصاً آسمانوں اور ستاروں کی خلقت ، زمین کی خلقت اور اس کی نعمتیں اوراسی طرح پرندوں کی خلقت ،جاری ہونے والے پانی ،نیز کان ، آنکھ اور آلاتِ شناخت کی خلقت کے بارے میں بحث ہے ۔
٢: معاد وقیامت ،دوزخ کاعذاب اور دوزخیوں کے ساتھ عذاب کے فرشتوں کی گفتگو اوراسی قسم کے امُور سے متعلّق مُباحث ۔
٣: کافروں اورظالموں کودُنیا وآخرت کے انواع واقسام کے عذابوں سے اندار و تہدید ،بعض کے قول کے مطابق تمام سورہ کامحور اصلی وہی خدا کی مالکیّت وحاکمیّت ہے،جوپہلی آیت میں آئی ہے ( ٢) ۔
١۔ فی ظلال القرآن،جلد ٨،صفحہ ١٨٠۔
٢۔ گزشتہ مدرک ،صفحہ ١٨٤۔ 
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma