١: طلاق حلال چیزوں میں سب سے زیادہ قابل نفرت ہے ۔

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
اس میں شک نہیں کہ زوجیّت کی قرار داد ایک ایسی قرار داد ہے کہ جسے جُدائی کے قابل ہونا چاہیئے ، کیونکہ بعض اوقات ایسے علل واسباب پیداہوجاتے ہیں جوعورت اورمرد کی مشتر کہ زندگی کوغیر ممکن یامشکلات اورمفاسد سے بھر دیتے ہیں .اسیے ہیں اگرہم یہ اصرار کرتے ہیں کہ یہ قرار داد ابدتک ب اقی رہے تویہ بات بہت زیادہ مشکلات کاسرچشمہ بن جاتی ہے ،لہٰذاسلام نے اصل طلاق کے ساتھ موافقت کی ہے ، آج ہم عیسائی معاشروں میں طلاق کے بالکل ممنوع ہونے کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے مرد اورعورتیں ایسی ہیں جوعیسائی مذہب کے تحریف شدہ قانون کے حکم کے مطابق طلاق کوممنوع شمار کرتے ہیں .قانونی طورپر دونوں ایک دُوسرے کے شوہر وذوجہ ہیںلیکن عملی طورپر ایک دُوسرے سے الگ زندگی بسر کرتے ہیں ،یہاں تک کہ ہرایک نے اپنے لیے ایک غیر رسمی بیوی یاشوہر کا انتخاب کر رکھاہے ۔

 اس بناء پر اصل مسئلہ طلاق ایک ضر ورت ہے، لیکن ایک ایسی ضرورت جسے ایک ممکن حد تک کم ہونا چاہیے ، اورجب تک زوجیّت کو برقرار رکھنے کی راہ ہو کوئی اس پر عمل نہ کرے ۔

 اِسی بناء پر اسلامی روایات میں شدّت کے ساتھ طلاق کی مذمّت کی گئی اور اسے (مبغوض ترین حلال ) کے عنوان سے یاد کیاگیاہے ،جیساکہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک روایت میں آ یاہے :

  مامن شی ء ا بغض الی اللہ عزوجل من بیت یخرب فی الا سلام بالفرقة یعنی الطلاق ۔

  خدا وندتعالیٰ کے نزدیک کوئی عمل اس سے زیادہ قابلِ نفرت نہیں ہے کہ اِسلام میں کسِی گھر کی بُنیاد جُدائی (یعنی طلاق) کے ساتھ ویران ہو (۱) ۔

 ایک اورحدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آ یاہے :

  حلال امور میں سے کوئی چیزخدا کی بارگاہ میں طلاق سے زیادہ مبغوض نہیں ہے ( ۲) ۔

اس کے علاوہ ایک اورحدیث میں رسُول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ یا ہے کہ آپ نے فر مایا:

  تزو جوا ولا تطلقوا،فان الطلاق یھتز منہ العرش

نکاح کرو اورطلاق نہ دو ، کیونکہ طلاق عرشِ خدا کو لرزا دیتی ہے ( ۳) ۔

 ایساکیوں نہ ہوجبکہ طلاق، عورتوں ،مردوں ،خاندانوں اورخصوصاً اولاد کے لیے بہت سی مشکلات پیدا کردیتی ہے ،جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے :

 ١۔ عاطفی مشکلات : اس میں شک نہیں کہ وہ مرد اور عورت جوکئی سالوں یامہینوں سے ایک دُوسرے کے ساتھ زندگی بسرکر رہے تھے ،طلاق کے بعدایک دُوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں .وہ عاطفی وجذ باتی لحاظ سے مجرُوح ہوں گے اور آئندہ کے از دواج میں انہیں اس کی تلخ یاد ہمیشہ پریشان کرے گی ، یہاں تک کہ دوسری بیوی یاشوہر کوایک قسم کی بدبینی اور سوئِ ظن کے ساتھ دیکھیں گے .اس چیز کے نقصان وہ آثار کسِی پرمخفی نہیں ہیں ۔ اِسی لیے اکثر یہ دیکھاگیاہے کہ اس قسم کی عورتیں اورمرد ہمیشہ کے لیے نکاح کرنے سے اعراض کرتے رہتے ہیں ۔

 ٢: اجتماعی مشکلات : طلاق کے بعد بہت سی عورتوں کوشائستہ اور دلخواہ طوپر نئی شادی کاموقع ہی نہیں مِلتا .اس لحاظ سے وہ شدید پریشانی میں گرفتار ہوجاتی ہیں .یہاں تک کہ مردوں کوبھی اپنی بیویوں کوطلاق دینے کے بعد اپنے مطلب کی شادی کاموقع کم ہی ملتاہے .خصوصاً اکردرمیان میں بچّوں کامعاملہ بھی ہو ، تب وہ اکثر ایسی شادی کرنے پرمجبور ہوجاتے ہیں جوانہیں امن وسکون نہیں پہنچا تی اوراس بناء پر آخر زندگی تک رنج وتکلیف میں مُبتلا رہتے ہیں ۔

  ٣: اولاد کی مشکلات : اولاد کی مشکل ان سب سے زیادہ اہم ہے اوربہت کم دیکھاگیاہے کہ سوتیلی مائیں سگی ماں کی طرح شفیق و مہر بان ہوں ، یعنی وہ اس اولاد میں شفقت ومحبت کے خلا کوپُر کرسکے جوماں کی محبت بھری گود سے جُدا ہوئی ہے ، اسی طرح سے اگر عورت اپنے بچّوں کواپنے ساتھ لے جائے تو سوتیلے باپ کے بار ے میں بھی یہی بات صادق آ تی ہے ، البتہ کچھ عورتیں اورمرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے شفیق و مہربان اور وفادار ہوتے ہیں ،لیکن مسلمہ طور پران کی تعداد بہت ہی کم ہوتی ہے ، اسی وجہ سے طلاق کے بعد بیچاری اولاد بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہوجاتی ہے ، شایدان میں سے اکثرسچّے آخرِ عمر تک روحانی سکون سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔

 درحقیقت یہ ایک ایسانقصان ہے جونہ صرف اس گھرانے کے لیے بلکہ پُورے معاشرے کے لیے ہے ،کیونکہ اس قسم کے بچے جوماں باپ یادونوں کی محبت سے محرُوم ہوجاتے ہیں ، بعض اوقات خطرناک افراد کی صُورت اختیار کرلیتے ہیں .چنانچہ وہ مناسب توجہ ہونے کی وجہ سے انتقام جوئی کے جذبہ کے زیر اثر آجاتے ہیں اوراپنا انتقام پُورے مُعاشرے سے لیتے ہیں ۔

 اگراسلام نے طلاق کے بارے میں اس قدر سخت گیری کی ہے تواس کی وجہ یہی نقصان دہ نتائج ہیں جومختلف جہات میں نمُودار ہوتے ہیں ۔

 اِسی بناء پر قرآن مجید بھی صراحت کے ساتھ حکم دیتاہے کہ جس وقت عورت اورمرد کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تودونوں کے عزیز واقارب ان میں اصلاح کی کوشش کریں . وہ لوگ ایک خاندانی صلح کمیٹی بناکر دونوں میاں بیوی کوشرعی عدالت تک جانے اورطلاق وجدائی کے عمل سے روکیں ۔  

(ہم نے صلح کمیٹی کی تفصیل تفسیرنمونہ جلدسوم میں سورہ ٔ نساء کی آ یت ٣٥کے ذیل میں بیان کی ہے ) ۔

 اسی بناء پر جوچیزعورت اورمرد میں خوش بینی اور خاندانی تعلقات کی بنیادوں کومستحکم کرنے میں مدددے وہ اسلام کی نظر میں محبوب ہے اورجو اسے متزلزل کرے وہ بُری اور قابلِ نفرت ہے ۔

 

۱۔ وسائل الشیعہ ،جلد١٥ ،صفحہ ٢٦٦ (حدیث ١۔٥) ۔ 

 ۲ ۔ وسائل الشیعہ ،جلد١٥ ،صفحہ ٢٦٦ (حدیث ١۔٥) ۔

 ۳۔ وسائل الشیعہ ،جلد١٥ ،صفحہ ٢٦٦ (حدیث٧) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma