مال اوراولاد تمہیں خدا کی راہ سے غافل نہ کردیں

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
چونکہ نفاق کا ایک اہم عامل حُبِّ دنیا اور مال و آولاد سے بہت زیادہ لگائو ہے ،لہٰذاسُورہ منافقون کی ان آخر ی آ یات میں مومنین کو آس قسم کے اندھے لگائو سے باز رکھتے ہُوئے کہتاہے : اے ایمان لانے ولو!تمہارے مال اور اولاد تمہیں یاد خدا سے غافل نہ کردیں (یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُو آ لا تُلْہِکُمْ أَمْو آلُکُمْ وَ لا أَوْلادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ ) ۔
اورجو آیساکر یں گے وہ خسارے میں رہیں گے (وَ مَنْ یَفْعَلْ ذلِکَ فَأُولئِکَ ہُمُ الْخاسِرُونَ ) ۔
یہ ٹھیک ہے کہ امو آل اوراولاد عطیاتِ خدا وند ی میں سے ہیں ، لیکن اس حد تک کہ خداکی راہ اورسعادت کے حصُول کے لیے اُن سے مدد لی جائے .لیکن اگران کے ساتھ اتنا زیادہ لگائو ہوجائے کہ وہ انسان اور خُدا کے درمیان رکاوٹ بن جائیں توپھر وہ سب سے بڑ ی بلاشمار ہوں گے ، اور جیساکہ منافقین کی داستان سے متعلق گزشتہ آ یات میں ہم نے دیکھ لیاہے کہ ان کے انحراف کا ایک عامل یہ حُبّ ِ دنیا ہی تھا ۔
ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے اس مطلب کو آنتہائی و آضح صورت میں پیش کیاگیاہے ،جس میں آپ فر ماتے ہیں کہ :
ماذئبان ضار یان فی غنم لیس لھاراع ، ھٰذافی اولھاوھٰذا فی اٰخرھاباسرع فیھامن حب المال و آلشرف فی دین المؤ من ۔
دو درندہ بھیڑ یئے بغیر چرو آہے کے بھیڑوں کے گلّہ میں ہوں جن میں سے ایک اُس کے آگے اور دُوسرا پیچھے ہو ، وہ اس قدر ضرر نہیں پہنچاتے جتنامال پرستی اورجاہ طلبی مومن کے دین کوضرر پہنچاتی ہے ( ١) ۔
یہاں ذکرِ خدا سے کیامُراد ہے ؟ اس بارے میں مفسّرین نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں بعض نے پانچ وقت کی نمازوں سے ،بعض نے شکر نعمت ، مصیبتوں پر صبر اور قضا پرراضی رہنے سے اور بعض نے حج وزکات اور تلاوةِقرآن سے اوربعض نے تمام فرائض سے تعبیر کی ہے . لیکن و آضح ہے کہ ذکر خُدا ایک وسیع معنی رکھتاہے جو آن سب کو اوران کے علاوہ دُوسرے امُور کوبھی شامل ہے .اِس بناء پر اوپر و آلے امُور سے تفسیر کرناو آضح مصادیق کے ذ کر کی قسم سے ہے ۔
خاسرون ( زیاں کاروں) کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ دُنیا کی محبت انسان کو آس طرح سرگرم کردیتی ہے کہ وہ اپنے و جود کے سرمایوں کوناپا ئیدار لذّتوں کی راہ میں اور بعض اوقات اوہام وخیالات کی راہ میں صرف کردیتا ہے ،وہ اس دُنیا سے خالی ہاتھ جاتاہے ، حالانکہ اس کے پاس عظیم سز مائے موجُود تھے .لیکن اُس نے اپنی جاودانی زندگی کے لیے کچھ نہیں کیا ۔
اس کے بعد مومنین کو آس شدیدخطرے سے آگاہ کرتے ہُوئے راہِ خدا میں انفاق کرنے کاحکم صادر کرتے ہُوئے فر ماتاہے : اور جو روزی ہم نے تمہیں دی ہوئی ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسِی کی موت آپہنچے ، اور و ہ یہ کہنے لگے !پر وردگارا! تونے میری موت میں تھوڑی سے مدّت کے لیے تاخیر کیوں نہ کی ، تاکہ میں انفاق کروں اور صالحین میں سے ہو جائوں (وَ أَنْفِقُو آ مِنْ مارَزَقْناکُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُولَ رَبِّ لَوْ لا أَخَّرْتَنی ِلی أَجَلٍ قَریبٍ فَأَصَّدَّقَ وَ أَکُنْ مِنَ الصَّالِحینَ)(٢) ۔
اگرچہ بعض نے یہاں انفاق کی تفسیر ادائے زکوٰة میں تعجیل کے وجُوب کے معنی میں کی ہے لیکن یہ بات و آضح ہے کہ آ یت کامقصد ہرقسم کے و آجب ومستحب انفاق کوشامل ہے جو آخرت میں انسان کی نجات کاذریعہ ہے ۔
یہ امر قابلِ توجّہ ہے کہ آ یت کے ذیل میں کہتاہے : میں انفاق کروں اور صالحین میں سے ہوجائوں یہ تعبیرانسان کے صالح ہونے میں ، انفاق کی گہری اوررعمیق تاثیر کوبیان کرتی ہے .اگرچہ بعض نے یہاں صالح ہونے کی تفسیر مراسم حج انجام دینے سے کی ہے .بعض رو آیات میں بھی یہ صراحت کے ساتھ آ یاہے ،لیکن یہ بھی و آضح مصداق کی قسم سے ہے ۔
مِنْ قَبْلِ أَنْ یَأْتِیَ أَحَدَکُمُ الْمَوْت کاجُملہ انسان کے آستانۂِ موت پر پہنچنے اوراس کی علامات کے ظاہر ہو نے کی طرف اشارہ ہے .کیونکہ یہ بات موت کے بعد نہیں کہے گا ،بلکہ موت کی چوکھٹ پر کہے گا ۔
ممّا رزقناکم ( ہم نے جو روزی تمہیں دے رکھی ہے اس میں سے ) کی تعبیر ، اس بات کے علاوہ کہ یہ صرف مال میں منحصر نہیں بلکہ تمام مو آہب اور نعمتوں کو آپنے دامن میں لیے ہُوئے ہے ، اس حقیقت کو بھی بیان کرتی ہے کہ یہ سب کچھ کسِی دُوسری جانب سے ملا ہے اور یہ امانت چند دن کے لیے ہمارے پاس ہے ، اس بناء پر بُخل کرنے کے کیا معنی ؟
بہرحال بہُت سے لوگ ایسے ہیں جو آس وقت جبکہ وہ برزخی آنکھ سے دیکھنے لگتے ہیں اور خود کوزندگی کے آخری لمحات میں قیامت کی چوکھٹ پردیکھتے ہیں، غفلت کے پردے اور بے خبری کے حجاب ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جاتے ہیں وہ یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں امو آل اور سر مایوں کوچھو ڑ کر جانا پڑ ے گا اوراب وہ اس میں سے طولانی سفر کے لیے کوئی زادِراہ بھی نہیں لے سکتے تووہ پشیمان ہوتے ہیں اور حسرت کی آگ ان کی جان میںلگ جاتی ہے .پھر وہ زندگی کی طرف لوٹنے کاتقاضا کرتے ہیں ،چاہے وہ لوٹنا کتناہی مختصر اور جلد ی سے گذ ر جانے و آلا ہی کیوں نہ ہو ، تاکہ وہ تلافی کرسکیں ، لیکن ان کی اس التجاکوٹھکر ادیاجائے گاکیونکہ سنّتِ الہٰی یہ ہے کہ موت کے راستے میں بازگشت نہیں ہوتی ۔
اسی لیے آ خری آ یت میں پوری قاطعیّت کے ساتھ فرماتاہے : جب کسِی کی اجلآ پہنچتی ہے توخدا ہرگز کسِی کی موت کوتاخیر میں نہیں ڈالتا (وَ لَنْ یُؤَخِّرَ اللَّہُ نَفْساً ِذا جاء َ أَجَلُہا ) ۔
یہاں تک کہ ایک لمحہ کے لیے بھی آ گے یاپیچھے نہیں ہوگی ،جیساکہ قرآن کی کئی دوسری آ یات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ ہُو آ ہے .سورۂ اعراف کی آ یت ٣٤ میں آ یاہے : فَِذا جاء َ أَجَلُہُمْ لا یَسْتَأْخِرُونَ ساعَةً وَ لا یَسْتَقْدِمُونَ جب ان کی اجل آ جائے گی تووہ نہ تو آیک ساعت کے لیے تاخیر کرسکیں گے اورنہ ہی پیشقدمی ہوسکے گی ۔
انجامِ کار آ یت کو اس جُملہ کے ساتھ ختم کرتاہے : جوعمل بھی تم انجام دیتے ہو ،خدا اس سے آگاہ ہے (وَ اللَّہُ خَبیر بِما تَعْمَلُون) ۔
ان سب اعمال کو جزا وسزا کے لیے ثبت کرلیا گیاہے اور تمہیں ان سب کاب دلہ ملے گا ۔
١۔ اصُول کافی جلد٦ باب خب الدنیا حدیث ٣۔
٢۔قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ اوپر و آلی آ یت میں اصدق منصوب ہے اور اکن مجزُوم ہے . حالانکہ ان کا ایک دُوسرے پر عطف ہے . یہ اس بناء پر ہے کہ اکن کا اصدق کی جگہ پر عطف ہے .اور تقدیر نین اس طرح ہیں : ان اخرتنی اصدق و آکن من الصالحین ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma