شانِ نزول

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
ان آیات کے شان نزول میں خصوصاً وَ اِذا رَأَوْا تِجارَةکے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں جوسب کی سب ایک ہی مطلب کی خبر دیتی ہیں کہ : ایک سال مدینہ کے لوگ خشک سالی ، قحط اور جناس کے نرخ کی زیادتی میں گرفتار تھے تودحیہ ایک قافلہ کے ساتھ شام سے یہاں آن پہنچا ،وہ اپنے ساتھ غذائی اشیاء لے کر آ یاتھا ۔اُس روز جمعہ کادن تھا اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نماز جمعہ کے خطبہ میں مشغول تھے کہ انہوں نے معمول کے مُطابق قافلہ کے ورُود کے اعلان کے لیے طبل بجایااور دُوسرے آ لاتِ موسیقی بھی بجائے تولوگ تیزی کے ساتھ بازار میں پہنچ گئے ، اِس موقع پر جومسلمان مسجد میں نماز کے لیے جمع ہوئے ہُوئے تھے ،انہوں نے خطبہ سُنناچھوڑ دیااوراپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بازار کی طرف چل پڑے ،صرف بارہ مرد اورایک عورت مسجد میں باقی رہ گئے ،(تو اوپروالی آیت نازل ہُوئی اورجانے والوں کی سخت مذمّت کی )پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا:اگریہ چھوتا سا گروہ بھی چلاجاتا توان سب پر آسمان سے پتھر وں کی بارش ہوتی (١) ۔

١۔مجمع البیان ،جلد٩،صفحہ ٢٨٧ اور دیگر تفاسیر
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma