فضلِ خدا حساب سے ہوتاہے ۔

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 24
ایک حدیث میں آ یاہے کہ امّت کے فقراء کی ایک جماعت رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)دولت مندوں کے پاس توخرچ کرنے کے لیے مال ہے اور ہمارے پاس ایسی کوئی چیزنہیں ہے ،ان کے پاس حج کرنے کاذ ریعہ ہے ، ہمارے پاس نہیں ہے ان کے پاس غلاموں کوآزاد کرنے کے وسائل ہیں ، ہمارے پاس نہیں ہیں ۔
پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: جوشخص سومرتبہ تکبیر کہے وہ ایک غلام کے آزاد کرنے سے افضل ہے ، اور جوشخص سرمرتبہ خداکی تسبیح کرے وہ سوگھوڑے زین ولگام کے ساتھ جہاد کے لیے آ مادہ کرنے سے افضل ہے اور جوسو مرتبہ لاالہٰ الّا اللہ کہے اِس کاعمل تمام لوگوں کے اس دن کے عمل سے افضل ہے مگر یہ کوئی اس سے زیادہ کہے ۔
یہ بات اغنیاء کے کانوں تک پہنچی تووہ بھی یہ اذکار کرنے لگے ،فقرائے امّت پھر پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہُوئے اورعرض کیا آ پ کاارشاد ان کے کانوں تک بھی پہنچ گیاہے اووہ بھی اس ذکر میں مشغول ہوگئے ہیں ۔
پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا:ذالک فضل اللہ یؤ تیہ من یشاءیہ اللہ کافضل ہے جسے وہ چاہتا ہے ، دے دیتاہے ،( یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تم جیسے لوگوں کے لیے ہے جوخزّح کرنے کاشوق تورکھتے ہیں لیکن اس کاکوئی ذ ریعہ اپنے پاس رنہیں رکھتے،لیکن دولت مندوں کے لیے فضل ِ الہٰی کے حصُول کاطریقہ ، ان کااپنے مالوں سے خزّح کرناہی ہے ۔
یہ حدیث بھی اسی بات کی شاہد ہے کہ جوہم نے اوپر بیان کی ہے کہ فضلِ الہٰی حکیمانہ طریقے سے ہوتاہے ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma