صبرو شکیبائی ہر کامیابی کاراز ہے

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22

یہ پہلاموقع نہیں ہے، جہاں قرآن مجید مشکلات اور ہٹ دھرم اوردشمن افرد کے مقابلہ میںصبرو شکیبائی کی تلقین کرتاہے قرآن مجید عظیم پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اور عام مومنین کوبھی بار بار یہ اہم مسئلہ دل نشین کراتاہے،اور بکثرت تجر بات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غلبہ و کامیابی اُنہی افراد کے لیے ہے،جوصبرو استقامت کابہت زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔
ایک حدیث میں آ یاہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے دوستوں میں سے ایک سے ( جو شاید اس زمانہ کے سخت حالات میں بے تاب ہوجاتاتھا) فرمایا:علیک بالصبرفی جمیع المورک: تجھ پرالازم ہے کہ تمام کاموں میں صبر وشکیبائی رکھے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا کہ خداوند تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کومبعوث فرمایا اوران کوصبروتحمل اور مدارات کاحکم دیا، او ر انہوں نے صبر کیایہاں تک کہ لوگوں نے ان کی طرف بہت سی نار وانسبتیںبھی دیں ،اور جب آپ کاسینہ تنگ ہوگیا توخدانے ان پر یہ آیت نازل کی :
وَ لَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّکَ یَضیقُ صَدْرُکَ بِما یَقُولُونَ،فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِنَ السَّاجِدینَ ہم جانتے ہیں کہ توان کی باتوں سے بے چین ہوجاتاہے،اور تیرا سینہ تنگ ہوجاتاہے ،پس تواپنے پروردگار کی تسبیح اورحمد بجالا اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجا (حجر۔٩٧۔ ٩٨) ۔
پھر بھی انہوں نے آپ کی تکذیب ہی کی اورہر طرف سے تہمت کے تیرآپ کی طرف پھینکے، اوراس بناء پرآپ محزُون ومغموم ہُوئے، خدانے ان کی دل داری اور تسلّی کے لیے یہ آیت نازل ہوئی قَدْ نَعْلَمُ ِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذی یَقُولُونَ فَِنَّہُمْ لا یُکَذِّبُونَکَ وَ لکِنَّ الظَّالِمینَ بِآیاتِ اللَّہِ یَجْحَدُونَ،وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُل مِنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوا عَلی ما کُذِّبُوا وَ أُوذُوا حَتَّی أَتاہُمْ نَصْرُنا ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تجھے اندو ہگین کرتی ہیں ۔ لیکن یہ لوگ(صرف)تیری تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ ستمگرآ یات خداکی تکذیب کرتے ہیں ،انہوں نے تجھ سے پہلے بھی خداکے رسُولوں کے تگذیب کی تھی ، اور انہوں نے تکذیبوںاور آ زادوں کے مقابلہ میں صبر کیا، یہاں تک کہ ہماری نصرت ان کی مدد کے لیے آن پہنچی ( انعام ۔ ٣٣۔٣٤) ۔
اس کے بعد امام علیہ السلام مزیدفرماتے ہیں: پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے آپ کوصبر وشکیبائی کے لیے آمادہ تیار کرلیا، لیکن اس موقع پران لوگوں نے معاملہ کوحد سے زیادہ کردیا، اورانہوں نے خدا کانام لے کر اس کی ساحت قدس کی نسبت تکذیب کی ، توپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فر مایا میں نے اپنے لیے اوراپنے گھروالوں اوراپنی حیثیت کے لیے ناملائم باتوںپرتوصبر کرلیا،لیکن میں اپنے پروردگار کوبُرابھلاکہنے پر صبرنہیں کرسکتا، اس موقع پر خداوند عزو جل نے اس زیربحث آیت کونازل فرمایا: (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ ما بَیْنَہُما ...)ہم نے آسمان وزمین کو اور جوکچُھ ان کے درمیان ہے ۔ چھ دوروںمیں پیدا کیاہے (اورعالم کی خلقت میں ہم نے جلدی اور عجلت سے کام نہیںلیا، اورہمیں کوئی دُکھ اور رنج نہیں پہنچا ، اس بناء پر تم بھی عجلت دنہ کرواوران کی باتوں کے سامنے صبرکرو، یہ وہ مقام تھاکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے صبر شکیبائی کو تمام حالات میں پیش نظر رکھّا ،( یہاں تک کہ دشمنوںپر کامیاب ہُوئے ) ( ١) ۔
 ١۔""اصول کافی""ّبمطابق ،نورالثقلین ،جلد٥ ،صفحہ ١١٧) ۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma