٢۔ سکرات موت

سایٹ دفتر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

صفحه کاربران ویژه - خروج
ذخیره کریں
 
تفسیر نمونہ جلد 22
اوپر والی آیت میں سکرات موت کے بارے میں گفتگو تھی ، اورہم بیان کرچکے ہیں کہ سکرات سکرة کی جمع ہے ،اوروہ اس حالت میں کے معنی میں ہے ،وشدّت حادثہ کے زیر اثر مستی کے مشابہ انسان کوعارضی ہوتی ہے ، اوراس کوسخت مضطرب کردیتی ہے لیکن وہ مستی نہیں ہوتی ۔
یہ ٹھیک ہے کہ موت مومنین کے لیے ایک وسیع تر اورمواہب الہٰیہ سے پُر جہان کی طرف انتقال کاآغاز ہے . لیکن اس کے باوجود انتقال کی یہ حالت کسی بھی انسان کے لیے آسان نہیں ہے،کیونکہ رُوح سالہا سال سے اس بدن کے ساتھ خو گررہی ہے اوراس کے ساتھ تعلق رکھاہے ۔
اسی لیے جب امام صادق علیہ السلام سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جب رُوح بدن سے خارج ہوتی ہے توانسان تکلیف کیوں محسوس کرتاہے ، توآپ علیہ السلام نے فر مایا: لانہ نمی علیھاالبدن اس بناء پر کہ بدن کی نشو ونما اسی کے ساتھ ہوئی ہے (١) ۔
یہ ٹھیک اس طرح ہے کہ ایک فاسد دانت کو منہ سے نکال دیں تو یقینااس کے بعد سکون و آرام ہوتاہے.لیکن جدائی کالمحہ درد ناک ہوتاہے ۔
بعض اسلامی روایات میں آ یاہے کہ تین د ن انسان کے لیے وحشتناک ہوتے ہیں: ایک وہ دن جس میں وہ پیدا ہوا اوراس ناآشناعالم کودیکھتاہے، اورایک وہ جس دن میں وہ مر تاہے اور موت کے بعد والے عالم کا مشاہدہ کرتاہے، اورایک وہ دن جس میں وہ عرصہ محشر میںوارد ہوگا ، اورایسے احکام دیکھے گا جودُنیا میں نہیں تھے ،اسی لیے خدا وند عالم یحیٰ بن زکر یاکے بارے میں فرماتاہے :
وَ سَلام عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا اورعیسیٰ بن مریم علیہم السلام کی زبانی بھی اس کے مشابہ گفتگو کونقل کرتاہے، اوران دو پیغمبروں کوان تین دنوں میں اپنی عنایت کامشمول قرار دیتاہے ( ٢) ۔
لیکن یہ مسلم ہے کہ جو لوگ اس دُنیا کے ساتھ خاص علاقہ رکھتے ہیں ، اس سے ان کاانتقال بہت ہی زیادہ سخت ہے ،اوراس سے دل کوتوڑ ناجس کے ساتھ ان کو لگاؤ ہے زیادہ مشکل ہے، علاوہ ازیں جولوگ زیادہ گناہوں کے مرتکب ہُوئے ہیں، سکرات موت اُن کے لیے زیادہ شدید اور زیادہ درد ناک ہے ۔
١۔"" بحار "" جلد ٦،صفحہ ١٥٨۔
٢۔وہی مدرک (کچھ تلخیص کے ساتھ ) یحیٰ(علیہ السلام )کے بارے میں سُورۂ مریم کی آ یہ ١٥ میں آ یا :"" وَ سَلام عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا "" اورحضرت مسیح کے بارے میں اسی سُورہ کی آیت ٣٣ میں آ یاہے ،"" وَ السَّلامُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُ وَ یَوْمَ أَمُوتُ وَ یَوْمَ أُبْعَثُ حَیًّا "" مجھ پر سلام ہوجس دن پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ ہو کردوبارہ اُٹھا یاجاؤں گا۔
12
13
14
15
16
17
18
19
20
Lotus
Mitra
Nazanin
Titr
Tahoma